Surah 27 · word by word

Surah 27, ayah 18

  1. حَتّٰۤییہاں تک کہ
  2. اِذَاۤجب
  3. اَتَوْاوہ آئے
  4. عَلٰیپر
  5. وَادِوادی
  6. النَّمْلِ ۙچیونٹیوں کی
  7. قَالَتْکہنے لگی
  8. نَمْلَةٌایک چیونٹی
  9. یّٰۤاَیُّهَااے
  10. النَّمْلُچیونٹیو
  11. ادْخُلُوْاداخل ہوجاؤ
  12. مَسٰكِنَكُمْ ۚاپنے گھروں میں
  13. لَانہ
  14. یَحْطِمَنَّكُمْکچل ڈالیں تم کو
  15. سُلَیْمٰنُسلیمان
  16. وَجُنُوْدُهٗ ۙاور اس کے لشکری
  17. وَهُمْاور وہ
  18. لَانہ
  19. یَشْعُرُوْنَشعور رکھتے ہوں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کُوچ کر رہا تھا)یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا”اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھُس جاوٴ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کُچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔“1

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس آیت کو بھی  آج کل کے بعض مفسرین نے تاویل کے خراوپر چڑھایا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں  کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں  بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے ۔ اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب حضرت سلیمانؑ وادی النمل میں پہنچے تو ایک نملی نے کہا کہ اے قبیلہ نمل کے  لوگو.....“۔ لیکن یہ بھی ایسی تاویل ہے جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے ۔ اگر بالفرض وادی النمل کو اُس وادی کا نام مان لیا جائے ، اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے استعمالات کے بالکل خلاف ہے کہ قبیلہ نمل کے ایک فرد کو نملہ کیا جائے۔ اگرچہ جانوروں کے نام پر عرب کے بہت سے قبائل کے نام ہیں، مثلاً کلب، اسد وغیرہ ۔ لیکن عرب قبیلہ کلب کے کسی فرد کے متعلق قال کلب( ایک کتے نے یہ کہا) یا قبیلہ اسد کے کسی شخص کے متعلق قَالَ اَسَدٌ ( ایک شیر نے کہا) ہر گز نہیں بولے گا۔ اس لیے بنی النمل کے ایک فرد کے متعلق یہ کہنا کہ قَالَتْ نَمْلَۃٌ، ( ایک چیونٹی یہ بولی) قطعاً عربی  محاورہ و استعمال کے خلاف ہے ۔ پھر قبیلہ نمل کے ایک فرد کا بنی النمل کو پکار کر یہ کہنا کہ”اے نمیلو، اپنے گھروں میں گُھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان کے  لشکر تم کو کچل ڈالیں  اور انہییں خبر بھی نہ ہو“بالکل بے معنی ہے۔ انسانوں کے کسی گروہ کو انسانوں کا کوئی لشکر بے خبری میں  نہیں کچلا کرتا ۔ اگر وہ اُن پر حملے کی نیت سے آیا ہو تو اُن کا اپنے گھروں میں گھس جانا لا حاصل ہے۔ حملہ آور اُن کے گھروں میں گھس کا انہیں اور زیادہ اچھی طرح کچلیں گے۔ اور اگر وہ محض کوچ کرتا ہوا گزر رہا ہو تو اس کے لیے بس راستہ صاف چھوڑد ینا کافی ہے ۔ کوچ کرنے والوں کی لپیٹ میں آکر انسانوں کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے ، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ چلتے ہوئے انسان بے خبری میں انسانوں کو کچل ڈالیں۔لہذا اگر بنی النمل کو ئی انسانی  قبیلہ ہوتاق اور اس کا کوئی فرد اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبر دار کر نا چاہتا تو حملے کے خطرے کی صورت میں وہ کہتا کہ ”اے نمیلو، راستہ سے ہٹ جاؤ تا کہ تم میں  سے کوئی شخص سلیمانؑ کے لشکروں کی جھپیٹ میں نہ آجائے“۔           یہ تو وہ غلطی ہے جو اس تاویل میں عربی زبان اور مضمون عبارت کے اعتبار سے ہے۔ رہی یہ بات کہ وادی النم دراصل اس وادی کا نام تھا، اور وہاں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ رہتا تھا، یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ جن لوگوں نے اس وادی کا نام قرار دیا ہے انہوں نے خو د یہ تصریح کی ہے کہ اسے چیونٹیوں کی کثرت کے باعث یہ نام دیا گیا تھا۔ قَتَادہ اور مُقاتل کہتے ہیں کہ واد با رض الشامِ کثیر النمل ” وہ ایک وادی ہے سرزمینِ شام میں جہاں چیونٹیاں بہت ہیں“۔ لیکن تاریخ و جغرافیہ کی کسی کتاب میں اور آثار قدیمہ کی کسی تحقیقات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس وادی میں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ بھی رہتا تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت ہے جو اپنی تاویل کی گاڑی چلانے کے وضع کر لی گئی ہے۔           بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ قصہ پایا جاتا ہے ۔ مگر اس کا آخری حصہ  قرآن کے خلاف ہے اور حضڑت سلیمانؑ کی شان کے خلاف بھی ہے ۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ جب ایک وادی سے گزر رہے تھے جس میں چیونٹیاں بہت تھیں تو انہوں نے سنا کہ ایک چیونٹی پکار کردوسری چیونٹیوں سے کہہ رہی ہے کہ ”اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ ورنہ سلیمانؑ کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں گے“۔اس پر حضرت سلیمانؑ نے اس چیونٹی کے سامنے بڑے تکبر کا اظہار کیا اور جواب میں اس چیونٹی نے ان سے کہا کہ تمہاری حقیقت کیا ہے ، ایک حقیر بوند سے تو تم پیدا ہوئے ہو ۔ یہ سن کر حضرت سلیمانؑ شرمندہ ہو گئے(جیوش انسائکلو پیڈیا، ج11، ص44۰)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کس طرح بنی اسرائیل کی غلط روایا ت کی تصحیح کرتا  ہے  اور ان گندگیوں کو صاف کرتا ہے جو انہوں نے خود اپنے پیغمبروں کی سیرتوں پر ڈال دی تھیں۔ اِ ن روایات کے متعلق مغربی مستشرقین بے شرمی کے ساتھ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ قرآن نے سب کچھ ان سے سر قہ کر لیا ہے۔           عقلی حیثیت سے یہ بات کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ ایک چیونٹی اپنی جنس کے افراد کو کسی آتے ہوئے خطرے سے خبر دار کرے اور بلوں میں گھس جانے کے لییے کہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کی بات کیسے سُن لی، تو جس شخص کے حواس کلامِ وحی جیسی لطیف چیزکا ادراک کر سکتے  ہوں، اس کے لیے چیونٹی کے کلام جیسی کثیف (Crude ) چیز کا ادراک کر لینا کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : اے چیونٹیو ! تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان ؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل کر رکھ دیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو

Commentary

آیت 18 حَتّٰٓی اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَاد النَّمْلِلا ”حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں چیونٹیاں کثرت سے پائی جاتی تھیں۔لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗلا وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ”انہیں احساس بھی نہیں ہوگا کہ ان کے قدموں اور گھوڑوں کے سموں تلے کتنی ننھی جانیں مسلی جا رہی ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 378

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution