Surah 26 · word by word

Surah 26, ayah 59

  1. كَذٰلِكَ ؕاسی طرح
  2. وَاَوْرَثْنٰهَااوروارث بنایا ہم نے ان کو
  3. بَنِیْۤبنی
  4. اِسْرَآءِیْلَاسرائیل کو

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دُوسری طرف)بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1.  بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں ، چشموں ، خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے ان ہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کر دیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کے معنی لازماً یہ ہونے چاہییں کہ فرعون کے غرق ہو جانے پر بنی اسرائیل پھر مصر واپس پہنچ گئے ہوں اور آل فرعون کی دولت و حشمت ان کے قبضے میں آ گئی ہو۔ لیکن یہ چیز تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے اور خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی اس آیت کا یہ مفہوم مطابقت نہیں رکھتا۔ سورہ بقرہ، سورہ مائدہ، سورہ اعراف اور سورہ طٰہٰ میں جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف پلٹنے کے بجائے اپنی منزل مقصود (فلسطین) ہی کی طرف آگے روانہ ہو گئے اور پھر حضرت داؤد کے زمانے (1013، 973 ق م ) تک ان کی تاریخ میں جو واقعات بھی پیش آئے وہ سب اس علاقے میں پیش آئے جو آج جزیرہ نمائے سینا، شمالی عرب، شرق اُردُن اور فلسطین کے ناموں سے موسوم ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہی باغ اور چشمے اور خزانے اور محلات بنی اسرائیل کو بخش دیے جن سے فرعون اور اس کی قوم کے سردار اور امراء نکالے گئے تھے ، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آل فرعون کو ان نعمتوں سے محروم کیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو یہی نعمتیں عطا فرما دیں ، یعنی وہ فلسطین کی سر زمین میں باغوں ، چشموں ، خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں کے مالک ہوئے۔ اسی مفہوم کی تائید سورہ اعراف کی یہ آیت کرتی ہے : فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّ بُوْ ا بِایٰٰتِنَا وَکَانُوْ ا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ ہ وَاَ وْرَثْنَا الْقَوْمَ ا لَّذِیْنَ کَا نُوْ ا یَسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا، (آیات 136۔ 137)۔ ’’ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان سے بے پروا ہو گئے تھے۔ اور ان کے بجائے ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اس ملک کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا‘‘۔ یہ برکتوں سے مالا مال سر زمین کا استعارہ قرآن مجید میں عموماً فلسطین ہی کے لیے استعمال ہوا ہے اور کسی علاقے کا نام لیے بغیر جب اس کی یہ صفت بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہی علاقہ مراد ہوتا ہے۔ مثلاً سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ۔ اور سورہ انبیاء میں ارشاد ہوا : وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطاً اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَ ہ اور وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ اِلَی الْاَ رْضِ الَّتِیْ بٰرَ کْنَا فِیْھَا۔ اسی طرح سورہ سبا میں بھی اَرلْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا کے الفاظ سرزمین شام و فلسطین ہی کی بستیوں کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اسی طرح ہوا۔ اور ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنا دیا

Commentary

آیت 59 کَذٰلِکَط وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنی اسرائیل نے بعد میں واپس آکر ان سب چیزوں پر قبضہ کرلیا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بعد میں بنی اسرائیل کو ہم نے دنیوی مال و دولت اور اقتدار سے نوازا اور ایک وقت آیا کہ یہی تمام چیزیں انہیں مل گئیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 369

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution