- وَاَنْذِرْاور ڈراؤ
- عَشِیْرَتَكَاپنے خاندان کو،
- الْاَقْرَبِیْنَجو قریبی ہیں
Surah 26 · word by word
Surah 26, ayah 214
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراوٴ،1
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی خدا کے اس بے لاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف( (Merits کے لحاظ سے ہے۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ گمراہی و بد عملی پرخاش کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں ، مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں۔ اس لیے حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی صاف صاف متنبہ کر دو۔ اگر وہ اپنا عقیدہ اور عمل درست نہ رکھیں گے تو یہ بات ان کے کسی کام نہ آ سکے گی کہ وہ نبی کے رشتہ دار ہیں۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو خطاب فرمایا اور ایک ایک کو پکار کر صاف صاف کہہ دیا کہ یا بنی عبد المطلب، یاعباس، یا صفیۃ عمۃ رسول اللہ، یا فاطمۃ بنت محمد، انقذوا انفسکم من النار، فانی لا املک لکم من اللہ شیئاً، سلونی من مالی ماشئتم۔ ’’ اے نبی عبد المطلب، اے عباس، اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کر لو، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو‘‘۔ پھر آپ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر پکارا یا صباحاہ (ہائے صبح کا خطرہ)، اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لُؤَیّ، اے بنی مرّہ، اے آل قُصَیّ، اے بنی عبد مَناف، اے بنی عبدشمس، اے بنی ہاشم، اے آل عبد المطلب۔ اس طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپ نے آواز دی۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پت چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کر دیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہیں ہر طرف سے دوڑ پڑتے۔ چنانچہ حضورؐ کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے ، اور جو خود نہ آ سکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا : ’’ لوگو، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانو گے ؟ سب نے کہا ہان، ہمارے تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو۔ آپ نے فرمایا، ’’ اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ۔ اس وقت تم پکارو گے یا محمدؐ، مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیر لوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا ‘‘۔ (اس مضمون کی متعدد روایات بخاری، مسلم، مسند احمد، ترمذی، نسائی اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عائشہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت زہیر بن عمرو اور حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہیں )۔ یہ معاملہ صرف اس حد تم نہ تھا کہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کا حکم آیا اور حضورؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے بس اس کی تعمیل کر دی۔ در اصل اس میں جو اصول واضح کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہر قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے ، نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے ، پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کر دے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے ، نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے ، تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے۔ اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم زندگی بھر عامل رہے۔ فتح مکہ کے روز جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اعلان کیا کہ کل ربانی الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی ھاتین و اول ما اضعہ ربا العباس۔ ’’زمانہ جاہلیت کا ہر سود جو لوگوں کے ذمے تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا۔ اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ میرے چچا عباسؓ کا ہے ‘‘ (واضح رہے کہ سود کی حرمت کا حکم آنے سے پہلے حضرت عباس سود پر روپیہ چلاتے تھے اور ان کا بہت سا سود اس وقت لوگوں کے ذمے وصول طلب تھا )۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں قریش کی ایک عورت فاطمہ نامی کا ہاتھ کاٹنے کا آپ نے حکم دیا۔ حضرت اسامہ بن زید نے اس کے حق میں سفارش کی۔ اس پر آپ نے فرمایا خدا کی قسم، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور خبردار کیجیے اپنے قریبی رشتہ داروں کو
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 375
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 214 وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ”اس آیت کے بارے میں تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ تقریباً 3 نبوی ﷺ میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اس تاریخی ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ سورة الشعراء بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ یہ سورت اپنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز آہنگ کے ساتھ شروع سے آخرتک ایک مربوط اور مسلسل خطبے کی صورت میں ہے اور یہ آیت بھی اپنے انداز کے اعتبار سے ما قبل اور مابعد کی آیات سے مختلف نہیں۔ یعنی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ آیت تو پہلے نازل ہوئی ہو مگر بعد میں نازل ہونے والی سورت میں شامل کردی گئی ہو۔ بہر حال سورة الشعراء نازل تو ابتدائی دور میں ہوئی تھی مگر حکمت خداوندی کے تحت اسے ابتدائی زمانے کی سورتوں قرآن کی آخری منزل میں شامل کیے جانے کے بجائے اس کی موجودہ جگہ پر رکھا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سورة الحجر کو پچھلے گروپ کی سورتوں میں شامل کیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ بھی بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک دعوت کا اہتمام کرنے کے لیے فرمایا۔ حضرت علی رض آپ ﷺ ہی کے زیر کفالت تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے تمام بنو ہاشم کو کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد آپ ﷺ انہیں دعوت دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے شور و غل مچانا شروع کردیا اور آپ ﷺ کی بات سنے بغیر چلے گئے۔ کچھ روز کے بعد آپ ﷺ نے دوبارہ انہیں مدعو فرمایا۔ اس دفعہ کھانے کے بعد چارو نا چا روہ بیٹھے رہے اور آپ ﷺ نے ان کے سامنے ایک دعوتی خطبہ دیا۔ یہ خطبہ مختصر ہے مگر آپ ﷺ کے عظیم خطبات میں سے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں احادیث کی کتب میں یہ خطبہ اپنے علم کی حد تک مجھے وثوق ہے موجود نہیں ہے ‘ البتہ اہل تشیعّ کی مشہور کتاب ”نہج البلاغہ“ میں یہ خطبہ شامل ہے۔ ”نہج البلاغہ“ بنیادی طور پر حضرت علی رض کے خطبات اور خطوط پر مشتمل ہے ‘ لیکن اس کا ایک حصہ حضور ﷺ کے خطبات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اگرچہ ”نہج البلاغہ“ میں خطبہ کے متن کے ساتھ کسی قسم کی صراحت موجود نہیں کہ یہ خطبہ کس موقع پر ارشاد فرمایا گیا مگر خطبے کے متن اور اسلوب کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ یہ وہی خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے بنو ہاشم کی مذکورہ ضیافت کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ میرے کتابچے ”دعوت الی اللہ“ اور اس کتابچے کے انگلش ترجمے ”Calling People unto Allah“ میں اس خطبے کا پورا متن موجود ہے۔ بہر حال ”دعوت حق“ کے حوالے سے یہ بہت اہم خطبہ ہے۔