Surah 24 · word by word

Surah 24, ayah 63

  1. لَانہ
  2. تَجْعَلُوْاتم بناؤ۔ (نہ) سمجھو
  3. دُعَآءَبلانے کو
  4. الرَّسُوْلِرسول کے
  5. بَیْنَكُمْآپس میں
  6. كَدُعَآءِمانند بلانے کے
  7. بَعْضِكُمْتم میں سے بعض کے
  8. بَعْضًا ؕبعض کو
  9. قَدْتحقیق
  10. یَعْلَمُجانتا ہے
  11. اللّٰهُاللہ
  12. الَّذِیْنَان لوگوں کو
  13. یَتَسَلَّلُوْنَجو کھسک جاتے ہیں
  14. مِنْكُمْتم میں سے
  15. لِوَاذًا ۚآڑ لیتے ہوئے
  16. فَلْیَحْذَرِپس چاہیے کہ ڈریں
  17. الَّذِیْنَوہ لوگ
  18. یُخَالِفُوْنَجو مخالفت کرتے ہیں
  19. عَنْکے
  20. اَمْرِهٖۤاس کے حکم کی
  21. اَنْکہ
  22. تُصِیْبَهُمْپہنچے ان کو
  23. فِتْنَةٌکوئی فتنہ
  24. اَوْیا
  25. یُصِیْبَهُمْپہنچے ان کو
  26. عَذَابٌعذاب
  27. اَلِیْمٌدردناک

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

مسلمانو، اپنے درمیان رسُولؐ کے بُلانے کو آپس میں ایک دُوسرے کا سا بُلانا نہ سمجھ بیٹھو۔1 اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دُوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چُپکے سے سَٹک جاتے ہیں۔2 رسُولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں3 یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے

Footnotes (the author's commentary)

  1.  اصل میں لفظ دُعَآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی بُلانے کے بھی ہیں اور دعا کرنے اور پکارنے کے بھی۔ نیز دُعَآءَ الرَّسُوْلِ کے معنی رسول کا بلا نا یا دُعاء کرنا بھی ہو سکتا ہے اور رسول کو پکارنا بھی۔ ن مختلف معنوں کے لحاظ سے آیت کے تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی صحیح و معقول ہیں : اول یہ کہ ’’ رسول کے بُلانے کو عام آدمیوں کیں سے کسی کے بلانے کی طرح نہ سمجھو‘‘ یعنی رسول کا بلاوا غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسرا کوئی بلائے اور تم لبیک نہ کہو تو تمہیں آزادی ہے ، لیکن رسول بلائے اور تم  نہ جاؤ ، یا دل میں ذرہ برابر بھی تنگی محسوس کرو تو ایمان کا خطرہ ہے۔ دوم یہ کہ ’’ رسول کی دعا کو عام آدمیوں کی سی دعا نہ سمجھو‘‘ وہ تم سے خوش ہو کر دعا دیں تو تمہارے لیے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ، اور ناراض ہو کر بد دعا دے دین تو تمہاری اس سے بڑھ کر کوئی بد نصیبی نہیں۔ سوم یہ کہ ’’ رسول کا پکارنا عام آدمیوں کے ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح نہ ہونا چاہیے ‘‘۔ یعنی تم عام آدمیوں کو جس طرح ان کے نام لے کر بآواز بلند پکارتے ہو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہ پکارا کرو۔ اس معاملے میں ان کا انتہائی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے ، کیونکہ ذرا سی بے ادبی بھی اللہ کے ہاں مواخذے سے نہ بچ سکے گی۔ یہ تینوں مطلب اگرچہ معنی کے لحاظ سے صحیح ہیں اور قرآن کے الفاظ تینوں کو شامل ہیں ، لیکن بعد کے مضمون سے پہلا مطلب ہی مناسبت رکھتا ہے۔

  2.  یہ منافقین کی ایک اور علامت بتائی گئی ہے کہ اسلام کی اجتماعی خدمات کے لیے جب بلایا جاتا ہے تو وہ آ تو جاتے ہیں ، کیونکہ مسلمانوں میں کسی نہ کسی وجہ سے شامل رہنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ حاضری ان کو سخت نا گوار ہوتی ہے اور کسی نہ کسی طرح چھپ چھپا کر نکل بھاگتے ہیں۔

  3.  امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فتنے کا مطلب ’’ظالموں کا تسلط‘‘ لیا ہے۔ یعنی اگر مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے تو ان پر جابر و ظالم حکمراں مسلط کر دیے جائیں گے۔ ہر حال فتنے کی یہ بھی ایک صورت ہو سکتی ہے اور اس کے سوا دوسری بے شمار صورتیں بھی ممکن ہیں۔ مثلاً آپس کے تفرقے اور خانہ جنگیاں ، اخلاقی زوال ، نظام جماعت کی پراگندگی ، داخلی انتشار ، سیاسی اور مادی طاقت کا ٹوٹ جانا، غیروں کا محکوم ہو جانا وغیرہ۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

تم لوگ رسول ﷺ کے بلانے کو ایسے نہ سمجھ لو جیسے تمہارا آپس میں ایک دوسرے کو بلانا اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو ایک دوسرے کی اوٹ لے کر کھسک جاتے ہیں تو جو لوگ رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو کوئی دردناک عذاب آپکڑے

Commentary

آیت 63 لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط ”یعنی رسول اللہ ﷺ کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے بلانے پر تم نہ جاؤ تو کوئی بڑی بات نہیں ‘ لیکن رسول ﷺ کے بلانے پر تم لبیک نہ کہو تو اپنے ایمان کی خیر مناؤ۔ اب ایک بلانا یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اس کے کسی دوست نے اپنے گھر کھانے کی دعوت دی اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ ایسی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کجا اور ایک عام آدمی کی دعوت کجا !۔۔ لیکن ایک بلانا اللہ کے رستے میں جہاد کے لیے بلانا ہے کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بلا رہے ہیں کہ آؤ اللہ کی راہ میں میرے ساتھ چلو اور دوسری طرف کوئی عام شخص کسی دوسرے شخص کو اپنی مدد کے لیے بلا رہا ہے تو رسول اللہ ﷺ کے بلانے اور ایک عام آدمی کے بلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔”دُعَآء الرَّسُوْلِ“ کا ایک مفہوم ”رسول ﷺ کو پکارنا“ بھی ہے۔ یعنی جیسے تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہو ‘ رسول اللہ ﷺ کو تم ایسے مخاطب نہیں کرسکتے۔ آپ ﷺ کے ادب اور احترام کے بارے میں سورة الحجرات میں بہت واضح ہدایات دی گئی ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ”اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ آپ ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو ‘ کہیں تمہارے سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے“۔ سورة الحجرات کے مطالعہ کے دوران اس بارے میں مزید تفصیل سے بات ہوگی۔قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج ”یہ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کی نیت میں پہلے سے ہی فتور ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یوں ہوتا ہے کہ جب لوگ کسی مہم کے لیے نکلے تو یہ بھی نکل پڑے۔ پھر جب دیکھا کہ ان کا نام جانے والوں میں شامل ہوچکا ہے تو اس کے بعد آنکھ بچا کر چپکے سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک گئے۔ یا اس کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی اجتماع میں شریک ہوئے ‘ وہاں اچانک کسی مہم کے لیے کچھ رضا کاروں کی ضرورت پڑگئی تو اب اس سے پہلے کہ رضا کاروں کے نام پوچھنے کا مرحلہ آتا ‘ یہ آنکھ بچا کر وہاں سے کھسک گئے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 359

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution