Surah 24 · word by word

Surah 24, ayah 55

  1. وَعَدَوعدہ کیا
  2. اللّٰهُاللہ نے
  3. الَّذِیْنَان لوگوں سے
  4. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
  5. مِنْكُمْتم میں سے
  6. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
  7. الصّٰلِحٰتِاچھے
  8. لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْالبتہ وہ ضرور خلیفہ بنائے گا ان کو۔ جانشین بنائے گا ان کو
  9. فِیمیں
  10. الْاَرْضِزمین (میں)
  11. كَمَاجیسا کہ
  12. اسْتَخْلَفَجانشین بنایا تھا اس نے
  13. الَّذِیْنَان لوگوں کو
  14. مِنْسے
  15. قَبْلِهِمْ ۪جو ان سے پہلے تھے
  16. وَلَیُمَكِّنَنَّاور البتہ ضرور قرار دے گا۔ ثابت کردے گا
  17. لَهُمْان کے لیے
  18. دِیْنَهُمُان کے دین کو
  19. الَّذِیوہ جو
  20. ارْتَضٰیاس نے پسند کیا ہے
  21. لَهُمْان کے لیے
  22. وَلَیُبَدِّلَنَّهُمْاور البتہ ضرور بدل دے گا ان کو
  23. مِّنْکے
  24. بَعْدِبعد
  25. خَوْفِهِمْان کے خوف کے
  26. اَمْنًا ؕامن کی حالت میں
  27. یَعْبُدُوْنَنِیْوہ عبادت کریں میری
  28. لَانہ
  29. یُشْرِكُوْنَشریک ٹھہرائیں
  30. بِیْمیرے ساتھ
  31. شَیْـًٔا ؕکسی چیز کو
  32. وَمَنْاور جو کوئی
  33. كَفَرَکفر کرے
  34. بَعْدَبعد
  35. ذٰلِكَاس کے
  36. فَاُولٰٓىِٕكَتو یہی لوگ
  37. هُمُوہ ہیں
  38. الْفٰسِقُوْنَجو فاسق ہیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُں لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بُنیادوں پر  قائم کر دے گا جسے اللہ تعالےٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے ، اور اُن کی (موجودہ)حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔1 اور جو اس کے بعد کُفر کرے2 تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1.  جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے آغاز میں ہم اشارہ کر چکے ہیں ، اس ارشاد سے مقصود منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو خلافت عطا فرمانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کے مخاطب محض مردم شماری کے مسلمان نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جو صادق الایمان ہوں ، اخلاق اور اعمال کے اعتبار سے صالح ہوں ، اللہ کے پسندیدہ دین کا تباع کرنے والے ہوں ، اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو کر خالص اللہ کی بندگی و غلامی کے پابندگی و غلامی کی پابند ہوں۔ ان صفات سے عاری اور محض زبان سے ایمان کے مدعی لوگ نہ اس وعدے کے اہل ہیں اور نہ یہ ان سے کیا ہی گیا ہے۔ لہٰذا وہ اس میں حصہ دار ہونے کی توقع نہ رکھیں۔ بعض لوگ خلافت کو محض حکومت و فرمانروائی اور غلبہ و نمکُّن کے معنی میں لے لیتے ہیں ، پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنے ہیں کہ جس کو بھی دنیا میں یہ چیز حاصل ہے وہ مومن اور صالح اور اللہ کے پسندیدہ دین کا پیرو اور بندگی حق پر عامل اور شرک سے مجتنب ہے ، اور اس پر مزید ستم یہ ڈھاتے ہیں کہ اپنے اس غلط نتیجے کو ٹھیک بٹھانے کے لیے ایمان ، صلاح ، دین حق، عبادت الٰہی اور شرک، ہر چیز کا مفہوم بدل کر وہ کچھ بنا ڈالتے ہیں جو ان کے اس نظریے کے مطابق ہو۔ یہ قرآن کی بد ترین معنوی تحریف ہے جو یہود و نصاریٰ کی تحریفات سے بھی بازی لے گئی ہے۔ اس نے قرآن کی ایک آیت کو وہ معنی پہنا دیے ہیں جو پورے قرآن کی تعلیم کو مسخ کر ڈالتے ہیں اسلام کی کسی ایک چیز کو بھی اس کی جگہ پر باقی نہیں رہنے دیتے۔ خلافت کی اس تعریف کے بعد لا محالہ وہ سب لوگ اس آیت کے مصداق بن جاتے ہیں جنہوں نے کبھی دنیا میں غلبہ و تَمکُّن پایا ہے یا آج پائے ہوئے ہیں ، خواہ وہ خدا، وحی، رسالت ، آخرت ہر چیز کے منکر ہوں اور فسق و فجور کی ان تمام آلائشوں میں بری طرح لتھڑے ہوئے ہوں جنہیں قرآن نے کبائر قرار دیا ہے ، جیسے سود، زنا ، شراب اور جوا۔ اب اگر یہ سب لوگ مومن صالح ہیں اور اسی لیے خلافت کے منصب عالی پر سرفراز کیے گئے ہیں تو پھر ایمان کے معنی قوانین طبیعی کو ماننے ، اور صلاح کے معنی ان قوانین کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں ؟ اور اللہ کا پسندیدہ دین اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ علوم طبعی میں کمال حاصل کر کے صنعت و حرفت اور تجارت و سیاست میں خوب ترقی کی جائے ؟ اور اللہ کی بندگی کا مطلب پھر اس کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے کہ ان قاعدوں اور ضابطوں کی پابندی کی جائے جو انفرادی اور اجتماعی سعی و جہد کی کامیابی کے لیے فطرتاً سفید اور ضروری ہیں ؟ اور شرک پھر اس کے سوا اور کس چیز کا نا رہ جاتا ہے کہ ان مفید قواعد و ضوابط کے ساتھ کوئی شخص یا قوم کچھ نقصان وہ طریقے بھی اختیار کر لے ؟ مگر کیا کوئی شخص جس نے کھلے دل اور کھلی آنکھوں سے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو، یہ مان سکتا ہے کہ قرآن میں واقعی، ایمان اور عمل صالح اور دین حق اور عبادت الٰہی اور توحید اور شرک کے یہی معنی ہیں ؟ یہ معنی یا تو وہ شخص لے سکتا ہے جس نے کبھی پورا قرآن سمجھ کر نہ پڑھا ہو اور صرف کوئی آیت کہیں سے اور کوئی کہیں سے لے کر اس کو اپنے نظریات و تصورات کے مطابق ڈھال لیا ہو، یا پھر وہ شخص یہ حرکت کر سکتا ہے جو قرآن کو پڑھتے ہوئے ان سب آیات کو اپنے زعم میں سراسر لغو اور غلط قرار دیتا چلا گیا ہو جن میں اللہ تعالیٰ کو واحد رب اور الٰہٰ ، اور اس کی نازل کردہ وحی کو واحد ذریعۂ  ہدایت، اور اس کے  مبعوث کردہ ہر پیغمبر کو حتمی طور پر واجب الاطاعت رہنما تسلیم کرنے کی دعوت دی گئی ہے ، اور موجودہ دنیوی زندگی کے خاتمے پر ایک دوسری زندگی کے محض مان لینے ہی کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی صاف صاف کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس زندگی میں اپنی جواب دہی کے تخیل سے منکر یا خالی الذہن ہو کر محض اس دنیا کی کامیابیوں کو مقصود سمجھتے ہوئے کام کریں گے وہ فلاح سے محروم رہیں گے۔ قرآن میں ان مضامین کو اس قدر کثرت سے اور ایسے مختلف طریقوں سے اور ایسے صریح و صاف الفاظ میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ ہمارے لیے یہ باور کرنا مشکل ہے کہ اس کتاب کو ایمانداری کے ساتھ پڑھنے والا کوئی شخص کبھی ان غلط فہمیوں میں بھی پڑ سکتا ہے جن میں آیت استخلاف کے یہ نئے مفسرین مبتلا ہوئے ہیں۔ حالانکہ لفظ خلافت و استخلاف کے جس معنی پر انہوں نے یہ ساری عمارت کھڑی کی ہے وہ ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے ، قرآن کا جاننے والا کوئی شخص اس آیت میں وہ معنی کبھی نہیں لے سکتا۔ قرآن در اصل خلافت اور استخلاف کو تین مختلف معنوں میں استعمال کرتا ہے اور ہر جگہ سیاق و سباق سے پتہ چل جاتا ہے کہ کہاں کس معنی میں یہ لفظ بو لا گیا ہے : اس کے ایک معنی ہیں ’’خدا کے دیے ہوئے اختیارات کا حامل ہونا‘‘ اس معنی میں پوری اولاد آدم زمین میں خلیفہ ہے۔ دوسرے معنی ہیں ’’خدا کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے امر شرعی (نہ کہ محض امر تکوینی) کے تحت اختیارات خلافت کو استعمال کرنا‘‘۔ اس معنی میں صرف مومن صالح ہی خلیفہ قرار پاتا ہے ، کیونکہ وہ صحیح طور پر خلافت کا حق ادا کرتا ہے۔ اور اس کے برعکس کافر و فاسق خلیفہ نہیں بلکہ باغی ہے ، کیونکہ وہ مالک کے ملک میں اس کے دیے ہوئے اختیارات کو نافرمانی کے طریقے پر استعمال کرتا ہے۔ تیسرے معنی ہیں ’’ ایک دور کی غالب قوم کے  بعد دوسری قوم کا اس کی جگہ لینا‘‘۔ پہلے دونوں معنی خلافت بمعنی ’’نیابت‘‘ سے ماخوذ ہیں ، اور یہ آخر یہ معنی خلافت بمعنی ’’جانشینی‘‘ سے ماخوذ۔ اور اس لفظ کے یہ دونوں معنی لغت عرب میں معلوم و معروف ہیں۔ اب جو شخص بھی یہاں اس سیاق و سباق میں  آیت استخلاف کو پڑھے گا وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس امر میں شک نہیں کر سکتا کہ اس جوہ خلافت کا لفظ اس حکومت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اللہ کے امر شرعی کے مطابق ( نہ کہ محض قوانین فطرت کے مطابق) اس کی نیابت کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرنے والی ہو۔ اسی لیے کفار تو درکنار ، اسلام کا دعویٰ کرنے والے منافقوں تک کو اس وعدے میں شریک کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ ای لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اس کے مستحق صرف ایمان اور عمل صالح کی صفات سے متصف لوگ ہیں اسی لیے قیام خلافت کا ثمرہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کا پسند کردہ دین ، یعنی اسلام ، مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے گا۔ اور اسی لیے اس انعام کو عطا کرنے کی شرط یہ بتائی جا رہی ہے کہ خالص اللہ کی بندگی پر قائم رہو جس میں شرک کی ذرہ برابر آمیزش نہ ہونے پائے۔ اس وعدے کو یہاں سے اٹھا کر بین الاقوامی چو راہے پر لے پہنچنا اور امریکہ سے لے کر روس تک جس کی کبریائی کا ڈنکا بھی دنیا میں  بج رہا ہو اس کے حضور اسے نذر کر دینا جہالت کی طغیانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ سب طاقتیں بھی اگر خلافت کے منصب عالی پر سرفراز ہیں تو آخر فرعون اور نمرود ہی نے کیا قصور کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لعنت کا مستحق قرار دیا ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ،الانبیاء، حاشیہ 99)۔ اس جگہ ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ یہ وعدہ بعد کے مسلمانوں کو تو بالواسطہ پہنچتا ہے۔ بلا واسطہ اس کے مخاطب وہ لوگ تھے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں موجود تھے۔ وعدہ جب کیا گیا تھا اس وقت واقعی مسلمانوں پر حالت خوف طاری تھی اور دین اسلام نے ابھی حجاز کی زمین میں بھی مضبوط جڑ نہیں پکڑی تھی۔ اس کے چند سال بعد یہ حالت خود و صرف امن سے بدل گئی بلکہ اسلام عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر چھا گیا اور اس کی جڑیں اپنی پیدائش کی زمین ہی میں نہیں ، کرۂ  زمین میں جم گئیں۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ ابو بکر صدیق ، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے زمانے میں پورا کر دیا۔ اس کے بعد کوئی انصاف پسند آدمی مشکل ہی سے اس امر میں شک کر سکتا ہے کہ ان تینوں حضرات کی خلافت پر خود قرآن کی مہر تصدیق لگی ہوئی ہے اور ان کے مومن صالح ہونے کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دے رہا ہے۔ اس میں اگر کسی کو شک ہو تو نہج البلاغہ میں سیدنا علی کرم اللہ وجہ ہ کی وہ تقریر پڑھ لے جو انہوں نے حضرت عمر کو ایرانیوں کے مقابلے پر خود جانے کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے کی تھی۔ اس میں وہ فرماتے ہیں : ’’اس کام کا فروغ یا ضعف کثرت و قلت پر موقوف نہیں ہے۔ یہ تو اللہ کا دین ہے جس کو اس نے فروغ دیا اور اللہ کا لشکر ہے جس کی اس نے تائید و نصرت فرمائی، یہاں تک کہ یہ ترقی کر کے اس منزل تک پہنچ گیا۔ ہم وے تو اللہ خود فرما چکا ہے وَعَدَاللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا مِنْکُمْ وَعَمِلُو االصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ ............ اللہ اس وعدے کو پورا کر کے رہے گا اور اپنے لشکر کی ضرور مدد کرے گا۔ اسلام میں قیم کا مقام وہی ہے جو موتیوں کے ہار میں رشتے کا مقام ہے۔ رشتہ ٹوٹتے ہی موتی بکھر جاتے ہیں اور نظم درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اور پراگندہ ہو جانے کے بعد پھر جمع ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ عرب تعداد میں قلیل ہیں۔ مگر اسلام نے ان کو کثیر اور اجتماع نے ان کو قوی بنا دیا ہے۔ آپ یہاں قطب بن کر جمے بیٹھے رہیں اور عرب کی چکی کو اپنے گرد گھماتے رہیں اور یہیں سے بیٹھے بیٹھے جنگ کی آگ بھڑکاتے رہیں۔ ورنہ آپ اگر ایک دفعہ یہاں ے ہٹ گئے تو ہر طرف سے عرب کا نظام ٹوٹنا شروع ہو جائے گا اور نوبت یہ آ جائے گا اور نوبت یہ آ جائے گی کہ آپ کو سامنے کے دشمنوں کی بہ نسبت پیچھے کے خطرات کی زیادہ فکر لاحق ہو گی۔ اور ادھر ایرانی آپ ہی کے اوپر نظر جما دیں گے کہ یہ عرب کی جڑ ہے ، اسے کاٹ دو تو بیڑا پار ہے ، اس لیے وہ سارا زور آپ کو ختم کر دینے پر لگا دیں گے۔ رہی وہ بات جو آپ نے فرمائی ہے کہ اس وقت اہل عجم بڑی کثیر تعداد میں امنڈ آئے ہیں ، تو اس کو جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم جو ان سے لڑتے رہے ہیں تو کچھ کثرت تعداد کے بل پر نہیں لڑتے رہے ہیں ، بلکہ اللہ کی تائید و نصرت ہی نے آج تک ہمیں کامیاب کرایا ہے ‘‘۔ دیکھنے والا خود ہی دیکھ  سکتا ہے کہ اس تقریر میں جناب امیر کس کو آیت استخلاف کا مصداق ٹھیرا رہے ہیں۔

  2.  کفر سے مراد یہاں کفران نعمت بھی ہو سکتا ہے اور انکارِ حق بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کے مصداق وہ لوگ ہوں گے جو نعمت خلافت پانے کے بعد طریق حق سے ہٹ جائیں اور دوسرے  معنی کے لحاظ سے اس کے مصداق منافقین ہوں گے جو اللہ کا یہ وعدہ سن لینے کے بعد بھی اپنی منافقانہ روش نہ چھوڑیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اللہ کا وعدہ ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ضرور انہیں زمین میں خلافت (غلبہ) عطا کرے گا جیسے اس نے ان سے پہلے والوں کو خلافت عطا کی تھی اور وہ ضرور ان کے اس دین کو غلبہ عطا کرے گا جو ان کے لیے اس نے پسند کیا ہے اور وہ ان کی (موجودہ) خوف کی حالت کے بعد اس کو لازماً امن سے بدل دے گا وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں

Commentary

آیت 55 وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ”یہ وعدہ محض موروثی اور نام کے مسلمانوں کے لیے نہیں ہے ‘ جو اللہ کے احکام کی کلی تعمیل کو اپنا شعار بنانے اور اس کے راستے میں جان و مال کی قربانی دینے کے لیے سنجیدہ نہ ہوں ‘ بلکہ یہ وعدہ تو ان مؤمنین صادقین کے لیے ہے جو ایمان اور عمل صالح کی شرائط پوری کریں۔ یعنی جو ایمان حقیقی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے ہوں۔لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْص ”یعنی اے امت محمد ﷺ ! اگر تم لوگ ایمان حقیقی اور اعمال صالحہ کی دو شرائط پوری کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں اسی طرح غلبہ اور اقتدار عطا کرے گا جس طرح اس سے پہلے اس نے حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو خلافت عطا کی تھی یا حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کو مکابیّ سلطنت کی صورت میں اقتدار عطا کیا تھا۔ اس آیت میں خلافت کے وعدے کو تین مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اوّل تو یہ تاکیدی وعدہ ہے کہ اللہ لازماً مسلمانوں کو بھی خلافت عطا فرمائے گا جیسے اس نے سابقہ امت کے اہل ایمان کو خلافت عطا کی تھی۔ پھر فرمایا :وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ ”اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو لازماً غالب کرے گا۔ ظاہر بات ہے کہ جہاں مسلمانوں کی خلافت ہوگی وہاں لازماً اللہ کے دین کا غلبہ ہوگا اور اگر کسی حکومت میں اللہ کا دین غالب ہوگا تو وہ لازماً مسلمانوں ہی کی خلافت ہوگی۔ گویا بنیادی طور پر تو یہ ایک ہی بات ہے ‘ لیکن صرف خلافت کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے پہلی بات کو یہاں دوسرے انداز میں دہرایا گیا ہے۔ البتہ یہاں اس دین کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے جو اللہ نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا ہے۔ سورة المائدۃ کی آیت 3 میں باقاعدہ نام لے کر بتایا گیا ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا ط ”آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کی تکمیل فرما دی ہے ‘ اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمادیا ہے ‘ اور تمہارے لیے میں نے پسند کرلیا ہے اسلام کو بحیثیت دین کے“۔ بہر حال دوسری بات یہاں یہ بتائی گئی کہ خلافت ملے گی تو اس کے نتیجے کے طور پر اللہ کا دین لازماً غالب ہوگا۔ اور تیسری بات :وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا ط ”یہ اس کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت کے فوراً بعد کے زمانے میں مسلمانوں پر طاری تھی۔ اس زمانے میں مدینہ کے اندر مسلسل ایمرجنسی کی سی حالت تھی۔ فلاں قبیلے کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے ! فلاں قبیلہ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے ! کل قریش مکہ کی طرف سے ایک خوفناک سازش کی خبر پہنچی تھی ! آج ابو عامر راہب کے ایک شیطانی منصوبے کی اطلاع آن پہنچی ہے ! غرض ہجرت کے بعد پانچ سال تک مسلمان مسلسل ایک خوف کی کیفیت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے۔ اس صورت حال میں انہیں خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ اب خوف کی وہ کیفیت امن سے بدلنے والی ہے۔ تینوں وعدوں کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہاں بار بار حروف تاکید استعمال ہوئے ہیں۔ تینوں افعال میں مضارع سے پہلے لام مفتوح اور بعد میں ”ن“ مشدد آیا ہے ‘ گویا تینوں وعدے نہایت تاکیدی وعدے ہیں۔یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا ط ”میرے نزدیک یہ حکم مستقبل سے متعلق ہے۔ یعنی جب میرا دین غالب آجائے گا تو پھر مسلمان خالص میری بندگی کریں گے اور کسی قسم کا شرک گوارا نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ کی حکومت قائم نہیں ہوگی تو معاشرہ شرک سے ُ کلیّ طور پر پاک نہیں ہو سکے گا۔ جیسے ہم پاکستان کے مسلمان شہری آج قومی اور اجتماعی اعتبار سے کفر و شرک کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آج اگر ہم سب انفرادی طور پر اپنے ذاتی عقائد بالکل درست بھی کرلیں اور اپنے آپ کو تمام مشرکانہ اوہام سے پاک کر کے عقیدۂ توحید کو راسخ بھی کرلیں تو بھی ہم خود کو شرک سے کلی طور پر پاک کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ یعنی جب تک ملک میں اللہ کا قانون نافذ اور اللہ کا دین عملی طور پر غالب نہیں ہوجاتا اور جب تک ملک میں دوسرے قوانین کے بجائے اللہ کے قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس ملک کے شہری ہونے کے اعتبار سے ہم کفر اور شرک کی اجتماعیت میں برابر کے شریک رہیں گے۔ چناچہ کسی ملک یا علاقے میں عملاً توحید کی تکمیل اس وقت ہوگی جب اللہ کے فرمان کے مطابق دین کل کا کل اللہ کے لیے ہوجائے گا : وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ط الانفال : 39۔وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ ”اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دین کے غلبے کے ماحول میں بھی جو شخص کفر کرے گا تو اس کے اندر گویا خیر کا مادہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ باطل کے غلبے میں کسی شخص کا ایمان لانا ‘ اس پر قائم رہنا اور اس کے مطابق عمل کرنا انتہائی مشکل ہے ‘ لیکن جب دین غالب ہوجائے اور ساری رکاوٹیں دور ہوجائیں تو اس کے بعد صرف وہی شخص دین سے دور رہے گا جس کی فطرت ہی بنیادی طور پر مسخ ہوچکی ہے۔ان دو مفاہیم کے علاوہ میرے نزدیک اس فقرے کا ایک تیسرا مفہوم بھی ہے اور اس مفہوم کے مطابق ”بَعْدَ ذٰلِکَ“ کے الفاظ کا تعلق مذکورہ تین وعدوں سے ہے ‘ کہ جب اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ لازماً تمہیں خلافت سے نوازے گا ‘ وہ لازماً تمہارے دین کو غالب کرے گا اور وہ لازماً تمہارے خوف کی کیفیت کو امن سے بدل دے گا تو اس کے بعد بھی جو شخص کمر ہمتّ نہ باندھے اور اقامت دین کیّ جدوجہدُ کے لیے اٹھ کھڑا نہ ہو تو اسے گویا ہمارے وعدوں پر یقین نہیں اور وہ عملی طور پر ہمارے ان احکام سے کفر کا مرتکب ہو رہا ہے ! یہ آیت 6 ہجری میں نازل ہوئی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہی اس کے مصداق کا ظہور شروع ہوگیا۔ 7 ہجری میں صلح حدیبیہ طے پاگئی جسے خود اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے ”فتح مبین“ قرار دیا : اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا الفتح۔ صلح حدیبیہ کے فوراً بعد 7 ہجری میں ہی خیبر فتح ہوا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے کثرت سے مال غنیمت عطا کیا۔ 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا۔ 9 ہجری کو حج کے موقع پر mopping up operation کا اعلان کردیا گیا۔ اس اعلان کے مطابق آئندہ کے لیے مسجد حرام کے اندر مشرکین کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔ جزیرہ نمائے عرب کے تمام مشرکین کو میعادی معاہدوں کی صورت میں اختتام معاہدہ تک اور عمومی طور پر چارہ ماہ کی مہلت دے دی گئی ‘ اور اس کے ساتھ ہی واضح حکم دے دیا گیا کہ اسّ مدت مہلت میں اگر وہ اسلام قبول نہیں کریں گے تو سب کے سب قتل کردیے جائیں گے۔ یوں 10 ہجری تک جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کا دین غالب ہوگیا ‘ اللہ کی حکومت قائم ہوگئی اور حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح محمد رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کے خلیفہ بن گئے۔ حضور ﷺ کے بعد خلافت راشدہ قائم ہوئی اور پھر اس کے بعد رفتہ رفتہ حالات میں بگاڑ آنا شروع ہوگیا جو مسلسل جاری ہے۔ سورة الانبیاء کے آخری رکوع کے مطالعہ کے دوران میں نے حضرت نعمان بن بشیر رض سے مروی ایک حدیث بیان کی تھی جس میں امت مسلمہ کے قیامت تک کے حالات کی واضح تفصیل ملتی ہے۔ زیرمطالعہ آیت کے مضمون کے سیاق وسباق میں آپ ﷺ کا یہ فرمان بہت اہم ہے ‘ لہٰذا ہم اس کا ایک بار پھر مطالعہ کرلیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ”تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ رہے“۔ یعنی جب تک اللہ چاہے گا میں بنفس نفیس تمہارے درمیان موجود رہوں گا۔ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اللہ اس کو اٹھا لے گا جب اسے اٹھانا چاہے گا“۔ یعنی جب اللہ چاہے گا میرا انتقال ہوجائے گا اور یوں یہ دور ختم ہوجائے گا۔ ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْھَاج النُّبُوَّۃِ ”پھر خلافت ہوگی نبوت کے نقش قدم پر“۔ یعنی میرے قائم کردہ نظام کے مطابق خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے ذریعے یہ نظام ایک بال کے فرق کے بغیر جوں کا توں قائم رہے گا۔ فَتَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ تَکُوْنَ ”پھر یہ دور بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے“۔ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اس دور کو بھی اللہ اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا ”پھر کاٹ کھانے والی ظالم ملوکیت ہوگی“۔ فَیَکُوْنُ مَا شَاء اللّٰہُ اَنْ یَکُوْنَ ”پس یہ دور بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا“ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اس کو بھی اللہ اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً ”پھر غلامی کی ملوکیت کا دور آئے گا“۔ یہ چوتھا دور ہمارا دور ہے۔ تیسرے دور کی ملوکیت میں سب کے سب حکمران بنو امیہ ‘ بنو عباس اور ترک بادشاہ مسلمان تھے۔ ان میں اچھے بھی تھے اور برے بھی مگر سب کلمہ گو تھے ‘ جبکہ چوتھے دور کی ملوکیت میں مختلف مسلمان ممالک غیر مسلموں کے غلام ہوگئے۔ کہیں مسلمان تاج برطانیہ کی رعایا بن گئے ‘ کہیں ولندیزیوں کے تسلط میں آگئے اور کہیں فرانسیسیوں کے غلام بن گئے۔ اس طرح پورا عالم اسلام غیر مسلموں کے زیر تسلط آگیا۔ اکیسویں صدی کا موجودہ دور عالم اسلام کے لیے ”مُلْکاً جَبْرِیًّا“ کا ہی تسلسل ہے۔ اگرچہ مسلم ممالک پر سے غیر ملکی قبضہ بظاہر ختم ہوچکا ہے اور ان ممالک پر قابض اقوام کی براہ راست حکومتوں کی بساط لپیٹ دی گئی ہے لیکن عملی طور پر یہ تمام ممالک اب بھی ان کے قبضے میں ہیں۔ استعماری قوتیں آج بھی ریموٹ کنٹرول اقتدار کے ذریعے ان ممالک کے معاملات سنبھالے ہوئے ہیں۔ ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف ‘ اور دوسرے بہت سے ادارے ان کے مہروں کے طور پر کام کر رہے ہیں اور یوں وہ اپنے مالیاتی استعمار کو اب بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ چوتھا دور بھی ختم ہوجائے گا : ثُمَّ یَرْفَعُھَا اِذَا شَاءَ اَنْ یَّرْفَعَھَا ”پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا جب اٹھانا چاہے گا“۔ اور پھر امت کو ایک بہت بڑی خوشخبری دیتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا : ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃً عَلٰی مِنْہَاج النُّبُوَّۃِ ”اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور آئے گا“۔ یہ خوشخبری سنانے کے بعد راوی کہتے ہیں : ثُمَّ سَکَتَ ”پھر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے“۔ آپ ﷺ شاید اس لیے خاموش ہوگئے کہ اس کے بعد دنیا کے خاتمے کا معاملہ تھا۔اس کے علاوہ ہم حضرت ثوبان رض سے مروی یہ حدیث بھی پڑھ آئے ہیں جس میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا نظام تمام روئے ارضی کے لیے ہوگا۔ حضرت ثوبان رض حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ ”اللہ نے میرے لیے تمام زمین کو لپیٹ دیا۔“ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا ”تو میں نے اس کے سارے مشرق اور مغرب دیکھ لیے۔“ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُھَا مَا زُوِیَ لِیْ مِنْھَا ”اور میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہوگی جو مجھے دکھائے گئے۔“ اسی طرح ہم نے حضرت مقدادبن اسود رض سے مروی اس حدیث کا مطالعہ بھی کیا تھا جس میں حضور ﷺ نے فرمایا : ”روئے ارضی پر کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر اور کوئی کمبلوں کا بنا ہوا خیمہ ایسا نہیں رہے گا جس میں دین اسلام داخل نہ ہوجائے ‘ خواہ کسی عزت والے کے اعزاز کے ساتھ خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کی صورت میں“۔ یعنی یا تو اس گھر والا اسلام قبول کر کے اعزاز حاصل کرلے گا یا پھر اسے ذلت کے ساتھ اسلام کی بالا دستی قبول کرنا پڑے گی۔ دین کے غلبے کی صورت میں غیر مسلم رعایا کے لیے یہ وہ اصول ہے جو سورة التوبہ میں اس طرح بیان ہوا : حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ یعنی وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔آنے والے اس دور کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ان فرمودات کے ساتھ ساتھ اس معاملے کو منطقی طور پر یوں بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر واضح الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق دے کرتا کہ غالب کردے اسے ُ کل کے کل دین نظام زندگی پر“۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں پانچ مرتبہ حضور ﷺ کی بعثت کے بارے میں یہ بھی واضح فرما دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو پوری نوع انسانی کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس مضمون میں سورة سبا کی یہ آیت بہت واضح اور نمایاں ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ”ہم نے آپ ﷺ کو پوری نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے ‘ لیکن اکثر لوگوں کا اس کا ادراک نہیں ہے“۔ سورة الانبیاء میں یہی مضمون ایک نئی شان سے اس طرح آیا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ”ہم نے تو آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے“۔ ان دونوں آیات کا مشترک مفہوم یہی ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد تب پورا ہوگا جب پورے عالم انسانیت پر اللہ کا دین غالب ہوگا۔ چناچہ قیامت سے پہلے تمام روئے ارضی پر دین حق کا غلبہ ایک طے شدہ امر ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 357

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution