- وَلَااور نہیں
- نُكَلِّفُہم تکلیف دیتے
- نَفْسًاکسی جان کو
- اِلَّامگر
- وُسْعَهَااس کی وسعت کے مطابق
- وَلَدَیْنَااور ہمارے پاس
- كِتٰبٌایک کتاب ہے
- یَّنْطِقُجو بولے گی
- بِالْحَقِّحق کے ساتھ
- وَهُمْاور وہ
- لَانہ
- یُظْلَمُوْنَظلم کیے جائیں گے
Surah 23 · word by word
Surah 23, ayah 62
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے،1 اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے ، جو (ہر ایک کا حال)ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے،2 اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا۔3
Footnotes (the author's commentary)
-
اس سیاق و سباق میں یہ فقرہ اپنے اندر بڑی گہری معنویت رکھتا ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ پچھلی آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ بھلائیاں لوٹنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے دراصل کون لوگ ہیں اور ان کی صفات کیا ہیں۔ اس مضمون کے بعد فوراً ہی یہ فرمایا کہ ہم کسی کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ سیرت، یہ اخلاق اور یہ کردار کوئی فوق البشری چیز نہیں ہے ۔ تم ہی جیسے گوشت پوست کے انسان اس روش پر چل کر دکھا رہے ہیں۔ لہٰذا تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انسانی مقدرت سے باہر ہے۔ انسان کو تو مقدرت اُس رویّے کی بھی حاصل ہے جس پر تم چل رہے ہو ، اور اُس کی بھی حاصل ہے جس پر تمہاری اپنی قوم کے چند اہلِ ایمان چل رہے ہیں۔ اب فیصلہ جس چیز پر ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان دونوں امکانی رویّوں میں سے کون کس کا انتخاب کرتا ہے۔ اس انتخاب میں غلطی کر کے اگر آج تم اپنی ساری محنتیں اور کوششیں برائیاں سمیٹنے میں صرف کر دیتے ہو اور بھلائیوں سے محروم رہ جاتے ہو، تو کل اپنی اس حماقت کا خمیازہ بھگتنے سے تم کو یہ جھوٹی معذرت نہیں بچا سکے گی کہ بھلائیوں تک پہنچنے کا راستتہ ہماری مقدرت سے باہر تھا۔ اُس وقت یہ عذر پیش کرو گے تو تم سے پوچھا جائے گا کہ اگر یہ راستہ انسانی مقدرت سے باہر تھا تو تم ہی جیسے بہت سے انسان اس پر چلنے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔
-
کتاب سے مراد ہے نامۂ اعمال جو ہر ایک شخص کا الگ الگ مرتب ہو رہا ہے ، جس میں اُس کی ایک ایک بات، ایک ایک حرکت، خنٰی کہ خیالات اور ارادوں تک کی ایک ایک حالت ثبت کی جارہی ہے۔ اسی کے متعلق سورۂ کہف میں فرمایا گیا ہے کہ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَ ی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا لْکِتٰبِ لَا یُغَادِ رُ صَغِیْرَ ۃً وَّلَا کَبِیْرَ ۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا ج وَوَ جَدُوْا مَا عَمِلُوْ ا حَاضِرًا ط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا o ”اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جا ئے گا ، پھر تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اُس کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی یا بڑی حرکت ایسی نہیں رہ گئی جو اس میں درج نہ ہو۔ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے ، اور تیرا ربّ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے “۔ (آیت 49)۔ بعض لوگوں نے یہاں کتاب سے مراد قرآن لے کر آیت کا مطلب خبط کر دیا ہے۔
-
یعنی نہ تو کسی کے ذمے کوئی ایسا الزام تھوپا جائے گا جس کا وہ در حقیقت قصور وار نہ ہو، نہ کسی کی کوئی ایسی نیکی ماری جائے گی جس کے صلے کا وہ فی الواقع مستحق ہو، نہ کسی کو بے جا سزا دی جائے گی اور نہ کسی کو حق کے مطابق بجا انعام سے محروم رکھا جائے گا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور ہم نہیں ذمہ دار ٹھہرائیں گے کسی جان کو مگر اس کی استطاعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے لہٰذا ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 346
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 62 وَلَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ”یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ مثلاً سورة البقرۃ آیات : 233 اور 286 ‘ سورة الانعام آیت : 152 ‘ سورة الاعراف آیت : 42 ‘ اور سورة الطلاق آیت : 7 میں یہ مضمون ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ دہرایا گیا ہے۔وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ یَّنْطِقُ بالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ”اس سے مراد ہر شخص کا اعمال نامہ اور اس کی زندگی بھر کے اعمال و افعال کی جزئیات و تفصیلات پر مشتمل ریکارڈ ہے۔ اس اعمال نامے کے مطابق انسان کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک عمل کا اس کی استطاعت اور صلاحیتوں کے مطابق جائزہ لے کر اس کے لیے جزا اور سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آج کمپیوٹر کے دور میں اس تصور کو سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ چناچہ یوں سمجھ لیں کہ انسان کے جینز genes کے بارے میں تمام معلومات جبلی صلاحیتوں اور اس کے ماحولیاتی عوامل کی تفصیلات اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک سپر کمپیوٹر میں موجود ہیں۔ ماحول اور صلاحیتوں کی عطا کلی طور پر اللہ کی دین ہے ‘ اس میں انسان کے اپنے اختیار و انتخاب کا کچھ دخل نہیں۔ جینز اور ماحولیاتی عوامل وغیرہ مل کر انسان کا ’ شاکلہ“ تشکیل دیتے ہیں۔ شاکلہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : بیان القرآن حصہ چہارم میں سورة بنی اسرائیل آیت 84 کی تشریح۔ اللہ تعالیٰ کا سپر کمپیوٹر ہر شخص کے اعمال کو اس کی شخصیت کے شاکلہ کے ساتھ منطبق کر کے بتائے گا کہ اس کے شاکلہ میں کس عمل کے لیے کتنی استطاعت اور گنجائش تھی اور اس نے کس حد تک اس کی کوشش کی۔ اس حساب کتاب evaluation کے بعد یہ کمپیوٹر نتائج کا اعلان کرے گا ‘ جس کے لیے یہاں ”یَنْطِقُ بالْحَقِّ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الکہف میں اس کیفیت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے : وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَاج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ ‘ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو ڈرے ہوئے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا ‘ اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے ‘ اور جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا وہ اسے اپنے سامنے موجود پائیں گے ‘ اور آپ کا رب کسی پر بھی ظلم نہیں کرے گا۔“