- وَالَّذِیْنَاور وہ لوگ ہیں
- هُمْوہ جو
- عَنِسے
- اللَّغْوِلغو سے۔ لغو بات سے
- مُعْرِضُوْنَمنہ موڑنے والے ہیں
Surah 23 · word by word
Surah 23, ayah 3
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
لغویات سے دُور رہتے ہیں۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
”لغو“ ہر اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول ، لایعنی اور لاحاصل ہو۔ جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو، وہ سب ”لغویات“ ہیں۔ ”معرضون“ کا ترجمہ ہم نے ”دُور رہتے ہیں“ کیا ہے۔ مگر اس سے بات پوری طرح ادا نہیں ہوتی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہےکہ وہ لغویات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی طرف رُخ نہیں کرتے۔ ان میں کو ئی دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں ایسی باتیں ہو رہی ہوں یا ایسے کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پرہیز کرتے ہیں، ان میں حصّہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اگر کہیں ان سے سابقہ پیش آہی جائے تو ٹل جاتے ہیں، کترا کر نِکل جاتے ہیں ، یا بدرجہ آخر بے تعلق ہو رہتے ہیں۔ اسی بات کو دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَاِذَا مَرُّوْ ا بِاللَّغْوِ مَرُّوْ ا کِرَ امًا۔ (الفرقان۔ آیت72) یعنی جب کسی ایسی جگہ سے ان کا گزر ہوتا ہے جہاں لغو باتیں ہو رہی ہوں ، یا لغو کام ہو رہے ہوں وہاں سے مہذب طریقے پر گزر جاتے ہیں۔ یہ چیز ، جسے اس مختصر سے فقرے میں بیان کیا گیا ہے ، دراصل مومن کی اہم ترین صفات میں سے ہے ۔ مومن وہ شخص ہوتا ہے جسے ہر وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور جس چیز کو زندگی اور عمر اور وقت کے مختلف ناموں سے یا د کیا جاتا ہے وہ درحقیقت ایک نپی تُلی مدّت ہے جو اسے امتحان کے لیے دی گئی ہے ۔ یہ احساس اس کو بالکل اُس طالب علم کی طرح سنجیدہ اور مشغول اور منہمک بنا دیتا ہے جو امتحان کے کمرے میں بیٹھا اپنا پرچہ حل کر رہا ہو۔ جس طرح اُس طالب علم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ امتحان کے یہ چند گھنٹے اس کی آئندہ زندگی کے لےی فیصلہ کُن ہیں، اور اس احساس کی وجہ سے وہ اُن گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ اپنے پرچے کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی کوشش میں صرف کر ڈالنا چاہتا ہے اور ان کا کوئی سیکنڈ فضول ضائع کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح مومن بھی دنیا کی اس زندگی کو اُنہی کاموں میں صرف کرتا ہے جو انجام کار کے لحاظ سے مفید ہوں ۔ حتیٰ کہ وہ تفریحات اور کھیلوں میں سے بھی اُن چیزوں کا انتخاب کرتا ہے جو محض تضیع وقت نہ ہوں بلکہ کسی بہتر مقصد کے لیے اُسے تیار کرنے والی ہوں۔ اُس کے نزدیک وقت”کانٹے“ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ استعمال کرنے کی چیز ہوتی ہے۔ علاوہ بریں مومن ایک سلیم الطبع، پاکیزہ مزاج، خوش ذوق انسان ہوتا ہے۔ بیہودگیوں سے اس کی طبیعت کو کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہوتا۔ وہ مفید باتیں کر سکتا ہے، مگر فضول گپیں نہیں ہانک سکتا ۔ وہ ظرافت اور مزاح اور لطیف مذاق کی حد تک جا سکتا ہے، مگر ٹھٹھے بازیاں نہیں کر سکتا ، گندہ مذاق اور مسخرہ پن برداشت نہیں کر سکتا، تفریحی گفتگو ؤں کو اپنا مشغلہ نہیں بنا سکتا ۔ اُس کے لیے تو وہ سوسائیٹی ایک مستقل عذاب ہوتتی ہے جس میں کان کسی وقت بھی گالیوں سے ، غیبتوں اور تہمتوں اور جھوٹی باتوں سے ، گندے گانوں اور فحش گفتگوؤں سے محفوظ نہ ہوں۔ اس کو اللہ تعالیٰ جس جنت کی امید دلاتا ہے اُس کی نعمتوں میں اے ایک نعمت یہ بھی بیان کرتا ہے کہ لَا تَسمَعُ فِیْھَا لَاغِیَہ۔”وہاں تُو کوئی لغو بات نہ سُنے گا“۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 342
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 3 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ”یعنی ان کا دوسرا وصف ہے بےکار باتوں سے احتراز کرنا ‘ بچنا ‘ دامن بچائے رکھنا۔ لغو سے مراد گناہ یا معصیت کا کام نہیں ‘ بلکہ ہر ایسا عمل یا کام ہے جو بےفائدہ اور فضول ہو۔ جیسے لوگ محفل جما کر تاش کھیلتے ہیں اور وقت کو ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے یہ کوئی بوجھ liability ہو اور اسے سر سے اتار پھینکنا ناگزیز ہو۔ انہیں احساس نہیں ہو تاکہ یہ وقت ہی تو انسان کا سب سے بڑا سرمایہ asset ہے۔ اس وقت سے فائدہ اٹھا کر ہی انسان اپنی عاقبت کو سنوار سکتا ہے اور جو اس وقت کو فضول میں ضائع کرتا ہے وہ گویا اپنی عاقبت کو ضائع کرتا ہے۔ اس آیت میں مؤمنین صادقین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ مہلت زندگی کو اپنا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہیں زندگی میں ایک ایک لمحے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ صرف ایک دفعہ ”سبحان اللہ“ کہنے سے اللہ کے ہاں ان کے درجات کس قدر بلند ہوجاتے ہیں۔ چناچہ وہ اپنا وقت فضول اور بےمقصد مصروفیات میں ضائع نہیں کرتے۔ وہ زندگی کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھا تے ہیں اور اسے اپنی شخصیت کی تعمیر اور آخرت کے اجر وثواب کے حصول کے لیے صرف کرتے ہیں۔