- لَّذِیْنَوہ لوگ
- اُخْرِجُوْاجو نکالے گئے
- مِنْسے
- دِیَارِهِمْاپنے گھروں
- بِغَیْرِنا
- حَقٍّحق
- اِلَّاۤمگر
- اَنْیہ کہ
- یَّقُوْلُوْاوہ کہتے ہیں
- رَبُّنَاہمارا رب
- اللّٰهُ ؕاللہ ہے
- وَلَوْلَااور اگر نہ
- دَفْعُدور کرتا
- اللّٰهِاللہ
- النَّاسَلوگوں کو
- بَعْضَهُمْان میں سے بعض کو
- بِبَعْضٍبعض کے ذریعے
- لَّهُدِّمَتْالبتہ ڈھا دی جاتیں
- صَوَامِعُخانقاہیں
- وَبِیَعٌاور گرجے
- وَّصَلَوٰتٌاور معبد۔ عبادت خانے
- وَّمَسٰجِدُاور مسجدیں
- یُذْكَرُذکر کیا جاتا ہے
- فِیْهَاان میں
- اسْمُنام
- اللّٰهِاللہ کا
- كَثِیْرًا ؕبہت سا
- وَلَیَنْصُرَنَّاور البتہ ضرور مدد کرے گا
- اللّٰهُاللہ
- مَنْاس کی جو
- یَّنْصُرُهٗ ؕمدد کرے گا اس کی
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- لَقَوِیٌّیقینا قوت والا ہے
- عَزِیْزٌزبردست ہے
Surah 22 · word by word
Surah 22, ayah 40
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے1 صرف اِس قصُور پر کہ وہ کہتے تھے”ہمارا ربّ اللہ ہے۔“2 اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد3 اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مِسمار کر ڈالی جائیں۔4 اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔5 اللہ بڑا طاقتور اور زبر دست ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ آیت تصریح کرتی ہے کہ سورۂ حج کا یہ حصّہ لازمًا ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے۔
-
جس ظلم کے ساتھ یہ لوگ نکالے گئے اس کا اندازہ کرنے کے لیے ذیل کے چند واقعات ملاحظہ ہوں: حضرت صُہَیب رومی جب ہجرت کرنے لگے تو کفار ِ قریش نے ان سے کہا کہ تم یہاں خالی ہاتھ آئے تھے اور اب خوب مال دار ہوگئے ہو۔ تم جانا چاہو تو خالی ہاتھ ہی جا سکتے ہو۔ اپنا مال نہیں لے جا سکتے۔ حالانکہ انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا تھا، کسی کا دیا نہیں کھاتے تھے۔ آخر وہ غریب دامن جھاڑ کر کھڑے ہو گئے اور سب کچھ ظالموں کے حوالے کر کے اس حال میں مدینے پہنچے کہ تن کے کپڑوں کے سوا اُن کے پاس کچھ نہ تھا۔ حضرت اُمِ سَلَمہ اور ان کے شوہر ابو سَلَمہ اپنے دودھ پیتے بچے کو لے کر ہجرت کے لیے نکلے۔ بنی مَغِیرہ (اُم سَلَمہ کےخاندان) نے راستہ روک لیااور ابو سلمہ سے کہا کہ تمہار اجہاں جی چاہے پھرتے رہے ، مگر ہماری لڑکی کو لے کر نہیں جا سکتے۔ مجبورًا بے چارے بیوی کو چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر بنی عبدالاسد (ابو سَلَمہ کے خاندان والے) آگے بڑھے اور انہوں نے کہا کہ بچہ ہمارے قبیلے کا ہے ، اسے ہمارے حوالے کر دو۔ اس طرح بچہ بھی ماں اور باپ دونوں سے چھین لیا گیا۔ تقریبًا ایک سال تک حضرت اُم سلمہ بچے اور شوہر کے غم میں تڑپتی رہیں ، اور آخر بڑی مصیبت سے اپنے بچے کو حاصل کر کے مکّے سے اس حال میں نکلیں کہ اکیلی عورت گود میں بچہ لیے اونٹ پر سوار تھی اور ان راستوں پر جا رہی تھی جن سے مسلح قبائل بھی گزرتے ہوئے ڈرتے تھے۔ عیّاش بن رَبِیعہ، ابوجہل کے ماں جائے بھائی تھے۔ حضرت عمرؓ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینے پہنچ گئے۔ پیچھے پیچھے ابو جہل اپنے ایک بھائی کو ساتھ لے کر جا پہنچا اور بات بنائی کہ امّاں جان نے قسم کھا لی ہے کہ جب تک عیاش کی صورت نہ دیکھ لوں گی نہ دھوپ سے سائے میں جاؤں گی اور نہ سرمیں کنگھی کروں گی۔ اس لیے تم بس چل کر اُنہیں صورت دکھا دو، پھر واپس آجانا۔ وہ بیچارے ماں کی محبت میں ساتھ ہو لیے ۔ راستے میں دونوں بھائیوں نے ان کو قید کر لیا اور مکّے میں انہیں لے کر اس طرح داخل ہوئے کہ وہ رسیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور دونوں بھائی پکارتے جا رہے تھے کہ”اے اہلِ مکّہ، اپنے اپنے نالائق لونڈوں کو یوں سیدھا کرو جس طرح ہم نے کیا ہے“۔ کافی مدّت تک بیچارے قیدرہے اورآخر کار ایک جانباز مسلمان ان کو نکال لانے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح کے مظالم سے قریب قریب ہر اس شخص کو سابقہ پیش آیا جس نے مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ ظالموں نے گھر بار چھوڑتے وقت بھی ان غریبوں کو خیریت سے نہ نکلنے دیا۔
-
اصل میں صَوَ امِعُ اور بِیَعٌ اور صَلَواتٌ کے الفاظ استمال ہوئے ہیں۔ صومعہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں راہب اور سنیاسی اور تارک الدنیا فقیر رہتے ہوں۔ بِیعہ کا لفظ عربی زبان میں عیسائیوں کی عبادت گاہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ صَلَوات سے مراد یہودیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔ یہودیوں کے ہاں اس کا نام صلوتا تھا جو آرامی زبان کا لفظ ہے۔ بعید نہیں کہ انگریزی لفظ (Salute ) اور (Salutation ) اسی سے نِکل کر لاطینی میں اور پھر انگریزی میں پہنچا ہو۔
-
یعنی یہ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے کسی ایک گروہ یا قوم کو دائمی اقتدار کا پٹہ لکھ کر نہیں دے دیا، بلکہ وہ وقتًا فوقتًا دنیا میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے دفع کر تا رہتا ہے۔ ورنہ اگر ایک ہی گروہ کو کہیں پٹہ مل گیا ہوتا تو قلعے اور قصر اور ایوان سیاست اور صنعت و تجارت کے مرکز ہی تباہ نہ کر دیے جاتے بلکہ عبادت گاہیں تک دست درازیوں سے نہ بچتیں۔ سورہ بقرہ میں اس مضمون کو یوں ادا کیا گیا ہے وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضُھُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ،”اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد مچ جاتا ۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے“۔ (آیت 251)۔
-
یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے کہ جو لوگ خلقِ خدا کو توحید کی طرف بلانے اور دینِ حق کو قائم کرنے اور شر کی جگہ خیر کو فروغ دینے کی سعی و جہد کرتے ہیں وہ دراصل اللہ کے مددگار ہیں، کیونکہ یہ اللہ کا کام ہے جسے انجام دینے میں وہ اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، آلِ عمران، حاشیہ نمبر 5۰)۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے صرف اس (جرم) پر کہ انہوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا تو ڈھا دیے جاتے ساری خانقاہیں گرجے کنیسے اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اللہ لازماً اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا یقیناً اللہ طاقتور ہے زبردست ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 337
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 40 الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ ”یعنی مہاجرین جنہیں اپنے اہل و عیال اور گھر بار چھوڑ کر مکہّ سے نکل جانے پر مجبور کردیا گیا تھا۔اِلَّآ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ط ”ان کا جرم بس یہ تھا کہ وہ اہل مکہ کے باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا رب اور معبود مانتے تھے ‘ جس کی پاداش میں انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ”یہ مضمون اس سے پہلے سورة البقرۃ کی آیت 251 میں بھی آچکا ہے۔ وہاں پر مشرک بادشاہ جالوت کے ساتھ حضرت طالوت کی جنگ کا ذکر کرنے کے بعد یہ اصول بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً زمین کی صفائی کرتا رہتا ہے۔ فاسد لوگ ہوں یا فاسد تہذیب و ثقافت ‘ جب ان کا فساد زمین میں ایک حد سے تجاوز کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اسے کسی دوسری طاقت کے ذریعے نیست و نابود کردیتا ہے۔ سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ ایسے نہ کرتا تو : لَفَسَدَتِ الْاَرْضُ زمین میں ہر طرف فساد ہی فساد ہوتا۔ البتہ یہاں اس بگاڑ یا فساد کے ایک دوسرے پہلو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے :لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط ”صَلَوٰتٌ‘ صلوٰۃ کی جمع ہے۔ صَلَوتَا عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس سے مراد یہودیوں کے عبادت خانے Cinygogs ہیں۔ دراصل عبرانی اور عربی زبانوں میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یا تو ان کا آپس میں ماں بیٹی کا رشتہ ہے یا پھر دونوں سگی بہنیں ہیں۔ یعنی یا تو عربی زبان عبرانی سے نکلی ہے اور یا یہ دونوں کسی ایک زبان کی شاخیں ہیں۔ چناچہ ان دونوں میں بہت سے الفاظ باہم مشابہ ہیں۔ مثلا عربی کے لفظ ”سلام“ کی جگہ عبرانی میں ”شولوم“ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح عبرانی کے ”یوم کپور“ کو عربی میں ”یوم کفارہ“ ّ کہا جاتا ہے۔ یعنی لفظ ”یوم“ تو جوں کا توں ویسے ہی ہے جبکہ ”کپور“ اور ”کفارہ“ میں بنیادی فرق ”پ“ اور ”ف“ کا ہے۔ عربی میں چونکہ ”پ“ نہیں ہے اس لیے اکثر زبانوں کی ”پ“ کی آواز عربی میں آکر ”ف“ سے بدل جاتی ہے۔ جیسے اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 85 کے تحت ”ذو الکفل“ ِ کے حوالے سے ہندی کے لفظ ”کپل“ کا عربی کے ِ ”کفل“ کی صورت اختیار کرنے کا ذکر ہوا تھا۔ بہر حال عبرانی اور عربی زبانوں کے الفاظ اور ان کی اصطلاحات میں اکثر مشابہت پائی جاتی ہے۔تو اگر اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا ‘ یعنی مفسد قوتوں کو نیست و نابود نہ کرتا رہتا تو دنیا میں تمام مذاہب کی جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہ سب کی سب منہدم کردی جاتیں۔ ظاہر ہے یہ تمام عبادت گاہیں اپنے اپنے وقت میں ایک اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی تھیں۔وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ ط ”ان الفاظ میں اہل ایمان کے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ لہٰذا آیت کا یہ ٹکڑا ہر مسلمان کو ازبر ہونا چاہیے۔ اس عبارت میں تاکید کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے وہ عربی زبان میں انتہائی تاکید کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ فعل مضارع سے پہلے لام مفتوح زبر کے ساتھ بھی حرف تاکید ہے ‘ جبکہ آخر میں نون مشددّ سے معنی میں مزید تاکید پیدا ہوتی ہے۔ جیسے اَفْعَلُ کے معنی ہیں کہ میں یہ کروں گا ‘ لیکن لَاَفْعَلَنََّّ کے معنی ہوں گے کہ میں یہ لازماً کر کے رہوں گا۔لیکن اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ یک طرفہ معاملہ نہیں ہے ‘ بلکہ یہ وعدہ مشروط ہے۔ تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا ! جیسے سورة البقرۃ کی آیت 152 میں فرمایا گیا ہے : فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ کہ تم مجھے یاد رکھو ‘ میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ تم لوگ اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ ‘ تمہاری وفاداریاں اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ہوں اور پھر بھی تم چاہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ اس سلسلے میں اسی سورت کی آیت 15 کا مضمون بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے ‘ جس میں اللہ کی مدد پر بندۂ مؤمن کے پختہ یقین کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ دراصل یہ بندۂ مؤمن کا ”یقین“ ہی ہے جو اس کے صبر و استقامت اور ثبات و استقلال کے لیے سہارا فراہم کرتا ہے۔ اور اگر دل میں یقین کی جگہ بےیقینی ڈیرے جما لے اور اس بےیقینی کے ہاتھوں نصرت الٰہی کی امید کی رسی ہی کٹ جائے تو پھر ایسے شخص کے لیے دنیا میں اور کوئی سہارا نہیں رہتا۔اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ”یعنی اللہ نے تمہاری مدد کا وعدہ کیا ہے تو جان لو کہ وہ زبردست طاقت کا مالک اور ہر وقت ‘ ہر جگہ تمہاری مدد پر پوری طرح قادر ہے۔