- اَلَمْکیا تم نے
- تَرَدیکھا نہیں
- اَنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ (کو)
- یَسْجُدُسجدہ کر رہے ہیں
- لَهٗاس کو
- مَنْجو (کچھ)
- فِیمیں ہیں
- السَّمٰوٰتِآسمانوں
- وَمَنْاور جو (کچھ)
- فِیمیں ہیں
- الْاَرْضِزمین
- وَالشَّمْسُاور سورج
- وَالْقَمَرُاور چاند
- وَالنُّجُوْمُاور ستارے
- وَالْجِبَالُاور پہاڑ
- وَالشَّجَرُاور درخت
- وَالدَّوَآبُّاور جانور
- وَكَثِیْرٌاور بہت سے
- مِّنَمیں سے
- النَّاسِ ؕلوگوں
- وَكَثِیْرٌاور بہت سے
- حَقَّثابت ہوگیا۔ چسپاں ہوگیا
- عَلَیْهِاس پر
- الْعَذَابُ ؕعذاب
- وَمَنْاور جس کو
- یُّهِنِرسوا کردے
- اللّٰهُاللہ
- فَمَاتو نہیں
- لَهٗاس کے لیے
- مِنْکوئی
- مُّكْرِمٍ ؕعزت دینے والا
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- یَفْعَلُکرتا ہے
- مَاجو وہ
- یَشَآءُچاہتا ہے
Surah 22 · word by word
Surah 22, ayah 18
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجُود ہیں1 وہ سب جو آسمانوں میں ہیں2 اور جو زمین میں ہیں؟ سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان3 اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔4 اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے5 ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔6
Footnotes (the author's commentary)
-
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الرعد، حاشیہ نمبر 24 – 25، النحل، حاشیہ نمبر 41 – 42۔
-
عنی فرشتے، اَجرامِ فلکی ، اور وہ سب مخلوقات جو زمین کے ماورا ء دوسرے جہانوں میں ہیں خواہ وہ انسان کی طرح ذی عقل و اختیار ہوں ، یا حیوانات ، نباتات ، جمادات اور ہوا روشنی کی طرح بے عقل و بے اختیار۔
-
یعنی وہ جو محض مجبورً ا ہی نہیں بلکہ بالارادہ اور بطوع و رغبت بھی اُس کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرا انسانی گروہ جس کا بعد کے فقرے میں ذکر آرہا ہے، وہ ہے جو اپنے ارادے سے خدا کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے ، مگر دوسری بے اختیار مخلوقات کی طرح وہ بذھی قانونِ فطرت کی گرفت سے آزاد نہیں ہے اور سب کے ساتھ مجبورًا سجدہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس کے مستحق عذاب ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں بغاوت کی روش اختیار کرتا ہے۔
-
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان مختلف گروہوں کے جھگڑے کا فیصلہ تو قیامت ہی کے روز چکایا جائے گا، لیکن کوئی آنکھیں رکھتا ہو تو وہ آج بھی دیکھ سکتا ہے کہ حق پر کون ہے اور آخری فیصلہ کس کے حق میں ہونا چاہیے۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر شاہد ہے کہ زمین سے آسمانوں تک ایک ہی خدا کی خدائی پورے زور اور پوری ہمہ گیری کے ساتھ چل رہی ہے۔ زمین کے ایک ذرے سے لےکر آسمان کے بڑے بڑے سیّاروں تک سب ایک قانون میں جکڑے ہوئے ہیں جس سے بال برابر بھی جنبش کرنے کا کسی کو یارا نہیں ہے ۔ مومن تو خیر دل سے اس کے آگے سر جھکاتا ہے ، مگر وہ دہریہ جو اس کے وجود تک کا انکار کررہا ہے اور وہ مشرک جو ایک ایک بے اختیار ہستی کے آگے جھک رہا ہے وہ بھی اُس کی اطاعت پر اُسی طرح مجبور ہے جس طرح ہوا اور پانی ۔ کسی فرشتے ،کسی جن، کسی نبی اور ولی ، اور کسی دیوی یا دیوتا کے پاس خدائی کی صفات اور اختیارات کا ادنیٰ شائبہ تک نہیں ہے کہ اس کو الوہیت اور معبودیت کا مقام دیا جا سکے ، یا خداوند ِ عالم کا ہم جنس یا مثیل ٹھیرایا جا سکے۔ کسی قانون ِ بے حاکم اور فطرتِ بے صانع اور نظامِ بے ناظم کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنی بڑی کائنات کو وجود میں لا سکے اور باقاعدگی کے ساتھ خود ہی چلاتا رہے او ر قدرت و حکمت کے وہ حیرت انگیز کرشمے دکھا سکے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں ہر طرف نظر آرہے ہیں۔ کائنات کی یہ کھلی کتاب سامنے ہوتے ہوئے بھی جو شخص انبیاء کی بات نہیں مانتا اور مختلف خود ساختہ عقیدے اختیار کر کے خدا کے بارے میں جھگڑتا ہے اس کا برسر ِ باطل ہونا آج بھی اسی طرح ثابت ہے جس طرح قیامت کے روز ثابت ہو گا۔
-
یہاں ذلت اور عزّت سے مراد حق کا انکار اور اس کی پیروی ہے ، کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ذلّت اور عزّت ہی کی شکل میں ظاہر ہونا ہے۔ جو شخص کھلے کھلے اور روشن حقائق کو آنکھیں کھول کر نہ دیکھے، اور سمجھانے والے کی بات بھی سن کر نہ دے وہ خود ہی ذلت و خواری کو اپنے اوپر دعوت دیتا ہے ، اور اللہ وہی چیز اس کے نصیب میں لکھ دیتا ہے جو اس نے خود مانگی ہے۔ پھر جب اللہ ہی نے اس کو پیروی ِ حق کی عزت نہ دی تو اب کون ہے جو اس کو اِس عزت سے سرفراز کردے۔
-
یہاں سجدہ ٔ تلاوت واجب ہے ، اور سورۂ حج کا یہ سجدہ متفق علیہ ہے ۔ سجدہ ٔ تلاوت کی حکمت اور اس کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ نمبر 157۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 334
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.