Surah 21 · word by word

Surah 21, ayah 33

  1. وَهُوَاور وہ
  2. الَّذِیْاللہ وہ ذات ہے
  3. خَلَقَاس نے بنایا
  4. الَّیْلَرات کو
  5. وَالنَّهَارَاور دن کو
  6. وَالشَّمْسَاور سورج کو
  7. وَالْقَمَرَ ؕاور چاند کو
  8. كُلٌّسب کے سب
  9. فِیْمیں
  10. فَلَكٍایک فلک
  11. یَّسْبَحُوْنَتیر رہے ہیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب ایک ایک فلک میں تَیر رہے ہیں۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. کُلٌّ اور  یَسْبَحُوْنَ  کے الفاظ بتاتے ہیں کہ مراد صرف سورج اور چاند ہی نہیں ہیں  بلکہ دوسرے اَجرامِ فلکی ، یعنی تارے بھی مراد ہیں ، ورنہ جمع کے بجائے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا  جاتا۔ فَلَک ، جو فارسی کے چرخ اور گردوں کا ٹھیک ہم معنی ہے ، عربی زبان میں آسمان کے معروف ناموں میں سے ہے۔” سب ایک ایک فلک میں تَیر رہے ہیں “ سے دوباتیں صاف سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب تارے ایک ہی” فلک“ میں نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کا فلک الگ ہے۔ دوسرے یہ کہ فلک کوئی ایسی چیز نہیں ہے  جس میں یہ تارے کھونٹیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوں اور وہ خود انہیں لیے ہوئے گھوم رہا ہو، بلکہ وہ کوئی سیّال شے ہے یا فضا اور خلا کی سی نوعیت کی چیز ہے جس میں اِن تاروں کی حرکت تَیرنے کے فعل سے مشابہت رکھتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم، یٰسین ، حاشیہ نمبر 37)۔ قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے آسمان و زمین کے رتق و فتق ، اور پانی سے ہر زندہ چیز کے پیدا  کیے جانے، اور تاروں کے ایک ایک فلک میں تیرنے کا مفہوم کچھ اور تھا ، موجودہ زمانے میں طبعیات (Physics ) ، حیاتیات (Biology ) اور علمِ ہیئت (Astronomy ) کی جدید معلومات نےہمارے لیےی ان کا مفہوم کچھ اور کر دیا ہے ، اور نہیں کہہ سکتے کہ آ گے چل کر انسان کو جو معلومات حاصل ہونی ہیں وہ اِن الفاظ کے کن معانی پر روشنی ڈالیں گی۔ بہر حال موجودہ زمانے کا انسان اِن تینوں آیات کو بالکل اپنی جدید ترین معلومات کے مطابق پاتا ہے۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ  وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ  سے لے کر  کَذٰ لِکَ نَجْزِ ی الظّٰلِمِیْنَ تک کی تقریر شرک کی تردید  میں ہے ، اور اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا سے لے کر فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ تک جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں توحید کے لیے ایجابی (Positive ) دلائل دیے گئےہیں ۔ مدّعا یہ ہے کہ یہ نظامِ کائنات جو تمہارے سامنے ہے، کیا اس میں کہیں ایک اللہ ربّ العالمین کے سوا کسی اور کی بھی کوئی کاریگری تمہیں نظر آتی ہے ؟ کیا یہ نظام ایک سے زیادہ خداؤں کی کار فرمائی میں بن سکتا تھا اور اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا تھا؟ کیا اس حکیمانہ نظام کے متعلق کوئی صاحب عقل و خرد آدمی یہ تصور کر سکتا ہے کہ یہ ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے اور اس نے محض تفریح کے لیے چند گُڑیاں بنائی ہیں جن سے کچھ مدّت  کھیل کر بس وہ یونہی  اِن کو خاک میں ملا دے گا؟ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور پھر بھی نبی کی بات ماننے سے انکار کیے جاتے ہو. تم کو نظر نہیں آتا کہ زمین و آسمان کی ایک ایک چیز اس نظریۂ توحید کی شہادت دے رہی ہے جو یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے؟ ان نشانیوں کے ہوتے تم کہتے ہو کہ   فَلْیَاْ تِنَا بِاٰ یَۃٍ،” یہ نبی کوئی نشانی لے کر آئے“۔ کیا نبی کی دعوتِ توحید کے حق ہونے پر گواہی دینے  کے لیے یہ نشانیاں کافی نہیں ہیں؟

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور وہی ہے جس نے پیدا کیا رات دن سورج اور چاند کو یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں

Commentary (one passage for ayahs 21:32, 21:33)

آیت 32 وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًاج وَّہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوْنَ ”اس سے پہلے یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنّٰہَا للنّٰظِرِیْنَ۔ وَحَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ”اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اسے مزین کردیا ہے دیکھنے والوں کے لیے اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے“۔ یعنی آسمان دنیا پر جو ستارے ہیں وہ باعث زینت بھی ہیں ‘ لیکن دوسری طرف یہ شیاطین جن کے لیے میزائل سنٹر بھی ہیں۔ ان میں سے جو کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے اس پر شہاب ثاقب کی شکل میں میزائل داغا جاتا ہے اور یوں ان شیاطین کی پہنچ کے حوالے سے آسمان کو سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کا درجہ دے دیا گیا ہے۔اب تک کی سائنسی تحقیقات کے حوالے سے سَقْفًا مَّحْفُوْظًا کے دو پہلو اور بھی ہیں۔ ان میں سے ایک تو O-Zone Layer کی فراہم کردہ حفاظتی چھتری ہے جس نے پورے کرۂ ارض کو ڈھانپ رکھا ہے اور یوں سورج سے نکلنے والی تمام مضر شعاعوں کو زمین تک آنے سے روکنے کے لیے یہ فلٹر کا کام کرتی ہے ماحولیاتی سائنس کے ماہرین آج کل اس کے بارے میں بہت فکر مند ہیں کہ مختلف انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری فضا زمین کے اوپر کرۂ ہوائی بھی حفاظتی چھت کا کام دیتی ہے۔ خلا میں تیرنے والے چھوٹی بڑی جسامتوں کے بیشمار پتھر یہ پتھر یا پتھر نما ٹھوس اجسام مختلف ستاروں یا سیاروں میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ہر وقت خلا میں بکھرے رہتے ہیں جب کرۂ ہوائی میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی تیز رفتاری کے سبب ہوا کی رگڑ سے جل کر فضا میں ہی تحلیل ہوجاتے ہیں اور یوں زمین ان کے نقصانات سے محفوظ رہتی ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 324

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution