- فَتَلَقّٰۤیپس سیکھ لئے / پھر حاصل کرلئے
- اٰدَمُآدم نے
- مِنْسے
- رَّبِّهٖاپنے رب
- كَلِمٰتٍکچھ کلمے / چند الفاظ
- فَتَابَپھر مہربان ہوا
- عَلَیْهِ ؕاس پر
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہی ہے
- التَّوَّابُجو توبہ قبول کرنے والا ہے
- الرَّحِیْمُجو بار بار رحم کرنے والا ہے
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 37
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے چند کلمات تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ یقیناً وہی تو ہے توبہ کا بہت قبول کرنے والا بہت رحم فرمانے والا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 6
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 37 فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط اس کی وضاحت سورة الاعراف میں ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو سخت پشیمانی اور ندامت پیدا ہوئی کہ یہ میں نے کیا کیا ‘ مجھ سے کیسی خطا سرزد ہوگئی کہ میں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ لیکن ان کے پاس توبہ و استغفار کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں۔ اللہ کی رحمت یہ ہوئی کہ اس نے الفاظ انہیں خود تلقین فرما دیے۔ یہ اللہ کی شان رحیمی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہوجانا ہے۔ اقبال نے عنفوان شباب میں جو اشعار کہے تھے ان میں سے ایک شعر کو سن کر اس وقت کے اساتذہ بھی پھڑک اٹھے تھے موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے یعنی شرمندگی کے باعث میری پیشانی پر پسینے کے جو قطرے نمودار ہوگئے میرے پروردگار کو وہ اتنے عزیز ہوئے کہ اس نے انہیں موتیوں کی طرح چن لیا۔ حضرات آدم و حوا علیہ السلام کو جب اپنی غلطی پر ندامت ہوئی تو وہ گریہ وزاری میں مشغول ہوگئے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے انہیں چند کلمات القا فرمائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ وہ کلمات سورة الاعراف میں بیان ہوئے ہیں : رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاسکتۃ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ”اے ہمارے ربّ ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ اور اگر تو نے ہمیں بخش نہ دیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔“ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔اس مقام پر شیطنت اور آدمیت کا فوری تقابل موجود ہے۔ غلطی ابلیس سے بھی ہوئی ‘ اللہ کے حکم سے سرتابی ہوئی ‘ لیکن اسے اس پر ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ تکبر کی بنا پر مزید اکڑ گیا کہ ”اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ“ اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری طرف غلطی آدم سے بھی ہوئی ‘ نافرمانی ہوئی ‘ لیکن وہ اس پر پشیمان ہوئے اور توبہ کی۔ وہ طرزعمل شیطنت ہے اور یہ آدمیت ہے۔ ورنہ کوئی انسان گناہ سے اور معصیت سے مبراّ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث ہے : کُلُّ بَنِیْ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّاءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ 5”آدم علیہ السلام کی تمام اولاد خطاکار ہے ‘ اور ان خطاکاروں میں بہتر وہ ہیں جو توبہ کرلیں۔“حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی۔ انہیں اس پر ندامت ہوئی ‘ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ توبہ کا لفظ دونوں طرف سے آتا ہے۔ بندہ بھی توّاب ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ البقرۃ جبکہ توّاب اللہ تعالیٰ بھی ہے۔ اس کی اصل حقیقت سمجھ لیجیے۔ بندے نے خطا کی اور اللہ سے دور ہوگیا تو اللہ نے اپنی رحمت کی نگاہ اس سے پھیرلی۔ بندے نے توبہ کی تو اللہ پھر اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہّ ہوگیا۔ توبہ کے معنی ہیں پلٹنا۔ بندہ معصیت سے توبہ کر کے اپنی اصلاح کی طرف ‘ بندگی کی طرف ‘ اطاعت کی طرف پلٹ آیا ‘ اور اللہ نے جو اپنی نظر رحمت بندے سے پھیرلی تھی ‘ پھر اپنی شان غفاری اور رحیمی کے ساتھ بندے کی طرف توجہ فرمالی۔ اس کے لیے حدیث میں الفاظ آتے ہیں :۔۔ وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا وَاِنْ تَقَرَّبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا ‘ وَاِنْ اَتَانِیْ یَمْشِیْ اَتَیْتُہٗ ھَرْوَلَۃً 6”۔۔ اور اگر وہ میرا بندہ بالشت بھر میری طرف آتا ہے تو میں ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ ہاتھ بھر میری طرف آتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں ‘ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے راہ رَوِ منزل ہی نہیں !وہ تو توّاب ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ”تَابَ“ بندے کے لیے آئے گا تو ”اِلٰی“ کے صلہ کے ساتھ آئے گا۔ جیسے اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ اور جب اللہ کے لیے آئے گا تو ’ عَلٰی“ کے صلہ کے ساتھ ”تَابَ عَلٰی“ آئے گا ‘ جیسے آیت زیر مطالعہ میں آیا : فَتَابَ عَلَیْہِ ۔ اللہ کی شان بہت بلند ہے۔ انسان توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف توبہ کرتا ہے ‘ جبکہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ بندے پر توبہ کرتا ہے۔