Surah 2 · word by word

Surah 2, ayah 35

  1. وَقُلْنَااور کہا ہم نے
  2. یٰۤاٰدَمُاے آدم
  3. اسْكُنْتم رہو
  4. اَنْتَتم
  5. وَزَوْجُكَاوربیوی تمہاری
  6. الْجَنَّةَجنت میں
  7. وَكُلَااور تم دونوں کھاؤ
  8. مِنْهَااس میں سے
  9. رَغَدًاخوف جی بھر کے / بافراغت
  10. حَیْثُجہاں سے
  11. شِئْتُمَا ۪تم دونوں چاہو
  12. وَلَااور نا
  13. تَقْرَبَاتم دونوں قریب جانا
  14. هٰذِهِاس
  15. الشَّجَرَةَدرخت کے
  16. فَتَكُوْنَاورنہ تم دونو ہو جاو گے
  17. مِنَسے
  18. الظّٰلِمِیْنَظالموں میں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر ہم نے آدم سے کہا کہ”تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاوٴ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا1 ،ورنہ ظالموں2 میں شمارہوگے۔“

Footnotes (the author's commentary)

  1. اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کے رُحجانات کی آزمائش ہوجائے۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چُن لیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے قریب نہ پھٹکنا، اور اس کا انجام بھی بتا دیا گیا کہ ایسا کرو گے تو ہماری نگاہ میں ظالم قرار پا ؤ گے۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ یہ شیطان کی ترغیبات کے مقابلے میں کس حد تک حکم کی پیروی پر قائم رہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسی ایک چیز کا منتخب کر لینا کافی تھا۔ اسی لیے اسی لیے اللہ نے درخت کے نام اور اس کی خاصیت کا کوئی ذکر نہیں  فرمایا۔ اس امتحان کے لیے جنت ہی کا مقام سب سے زیادہ موزوں تھا۔ دراصل اسے امتحان گاہ بنانے کا مقصُود یہ حقیقت  انسان کے ذہن نشین کر نا تھا کہ تمہارے لیے تمہارے مرتبہء انسانیت کے لحاظ سے جنت ہی لائق و مناسب مقام ہے ۔ لیکن شیطانی ترغیبات کے مقابلے میں اگر تم اللہ کی فرمانبرداری کے راستے سے منحرف ہو جا ؤ، تو جس طرح ابتدا میں اس سے محرُوم کیے گئے تھے اسی طرح آخر میں بھی محرُوم ہی رہو گے۔ اپنے اِس مقامِ لائق ، اپنی اِس فردو سِ گم گشتہ کی بازیافت تم صرف اسی طرح کر سکتے ہو کہ اپنے اس دُشمن کا کامیابی سے مقابلہ کرو جو تمہیں فرماں برداری کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

  2. ظالم کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔”ظلم“ دراصل حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ جو شخص خدا کی نافرمانی کرتا ہے، وہ درحقیقت تین بڑے بُنیادی حقوق تلف کرتا ہے۔ اوّلاً خدا کا حق، کیونکہ وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔ ثانیاً اُن تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ اس کے اعضا ئے جسمانی، اس کے قوائے نفس، اس کے ہم معاشرت انسان، وہ فرشتے جو اس کے ارادے کی تکمیل کا انتظام کرتے ہیں، اور وہ اشیاء جو اس کام میں استعمال ہوتی ہیں، ان سب کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف ان کے مالک ہی کی مرضی کے مطابق ان پر اپنے اختیارات استعمال کرے۔ مگر جب اس کی مرضی کے خلاف اس نے ان پر اختیارات استعمال کیے، تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ ثَا لثًا خود اپنا حق ، کیونکہ اس پر اس کی ذات کا یہ حق ہے کہ وہ اسے تباہی سے بچائے، مگر نافرمانی کر کے جب وہ اپنے آپ کو اللہ کی سزا کا مستحق بناتا ہے ، تو دراصل اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے۔ انہی وجُوہ سے قرآن میں جگہ جگہ گناہ کے لیے ظلم  اور گناہ گار کے لیے ظالم کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور ہم نے کہا اے آدم ! رہو تم اور تمہاری بیوی جنت میں اور کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔

Commentary

آیت 35 وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنت کون سی ہے ؟ اکثر حضرات کے نزدیک یہ جنت کہیں آسمان ہی میں تھی اور آسمان ہی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی۔ البتہ یہ سب مانتے ہیں کہ یہ وہ جنت الفردوس نہیں تھی جس میں جانے کے بعد نکلنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس جنت میں تو آخرت میں لوگوں کو جا کر داخل ہونا ہے اور اس میں داخلے کے بعد پھر وہاں سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے ‘ اور میرا رجحان اسی رائے کی طرف ہے ‘ کہ تخلیق آدم علیہ السلام اسی زمین پر ہوئی ہے۔ وہ تخلیق جن مراحل سے گزری وہ اس وقت ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔ بائیولوجی اور وحی دونوں اس پر متفق ہیں کہ قشر ارض Crust of the Earth یعنی مٹی سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ اس کے بعد کسی اونچے مقام پر کسی سرسبز و شاداب علاقے میں حضرت آدم علیہ السلام کو رکھا گیا ‘ جہاں ہر قسم کے میوے تھے ‘ ہر شے بافراغتّ میسر تھی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اِنَّ لَکَ اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْھَا وَلَا تَعْرٰی وَاَنَّکَ لَا تَظْمَاُ فِیْھَا وَلَا تَضْحٰی۔ طٰہٰ ”یہاں تمہارے لیے یہ آسائشیں موجود ہیں کہ نہ تمہیں اس میں بھوک لگے گی نہ عریانی لاحق ہوگی۔ اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس تنگ کرے گی نہ دھوپ ستائے گی“۔ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو وہاں ہر طرح کی آسائشیں حاصل تھیں۔ البتہ یہ جنت صرف ایک demonstration کے لیے تھی کہ انہیں نظر آجائے کہ شیطان ان کا اور ان کی اولاد کا ازلی دشمن ہے ‘ وہ انہیں ورغلائے گا اور طرح طرح سے وسوسہ اندازی کرے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ کسی شخص کا انتخاب تو ہوگیا اور وہ CSP cadre میں آگیا ‘ لیکن اس کی تعیناتی posting سے پہلے اسے سول سروس اکیڈمی میں زیرتربیت رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں جو لفظ ہبوط اُترنا آ رہا ہے وہ صرف اسی ایک معنی میں نہیں آتا ‘ اس کے دوسرے معانی بھی ہیں۔ یہ چیزیں پھر متشابہات میں سے رہیں گی۔ اس لیے ان کے بارے میں غور و فکر سے کوئی ایک یا دوسری رائے اختیار کی جاسکتی ہے۔ واللہ اعلم !وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِءْتُمَاص یہاں ہر طرح کے پھل موجود ہیں ‘ جو چاہو بلاروک ٹوک کھاؤ۔ وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ یہاں پر اس درخت کا نام نہیں لیا گیا ‘ اشارہ کردیا گیا کہ اس درخت کے قریب بھی مت ‘ جانا۔فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ تم حد سے گزرنے والوں میں شمار ہو گے۔ اب اس کی بھی حکمت سمجھئے کہ یہ اس demonstration کا حصہّ ہے کہ دنیا میں کھانے پینے کی ہزاروں چیزیں مباح ہیں ‘ صرف چند چیزیں حرام ہیں۔ اب اگر تم ہزاروں مباح چیزوں کو چھوڑ کر حرام میں منہ مارتے ہو تو یہ نافرمانی شمار ہوگی۔ اللہ نے مباحات کا دائرہ بہت وسیع رکھا ہے۔ چند رشتے ہیں جو بیان کردیے گئے کہ یہ حرام ہیں ‘ محرمات ابدیہ ہیں ‘ ان سے تو شادی نہیں ہوسکتی ‘ باقی ایک مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے دنیا کے کسی بھی کونے میں شادی کرسکتا ہے ‘ اس کے لیے کروڑوں options کھلے ہیں۔ پھر ایک نہیں ‘ دو دو ‘ تین تین ‘ چار چار تک عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود انسان شادی نہ کرے اور زنا کرے ‘ تو یہ گویا اس کی اپنی خباثت نفس ہے۔ چناچہ آدم و حوا علیہ السلام کو بتادیا گیا کہ یہ پورا باغ تمہارے لیے مباح ہے ‘ بس یہ ایک درخت ہے ‘ اس کے پاس نہ جانا۔ درخت کا نام لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ تو صرف ایک آزمائش اور اس کی demonstration تھی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 6

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution