- وَاِذْاور جب
- قُلْنَاکہا ہم نے
- لِلْمَلٰٓىِٕكَةِفرشتوں سے
- اسْجُدُوْاسجدہ کرو
- لِاٰدَمَآدم کے لئے / آدم کو
- فَسَجَدُوْۤاتو انہوں نے سجدہ کیا
- اِلَّاۤمگر / سوائے
- اِبْلِیْسَ ؕابلیس کے
- اَبٰیاس نے انکار کیا
- وَاسْتَكْبَرَ ؗۗاور بڑا بننا چاہا
- وَكَانَاور ہوگیا
- مِنَمیں سے
- الْكٰفِرِیْنَکافروں کے
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 34
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب1 جُھک گئے، مگر ابلیس2 نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔3
Footnotes (the author's commentary)
-
“اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقہء کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں، ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مُسَخَّر ہوجانے کا حکم دیا گیا۔ چونکہ اس علاقے میں اللہ کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جارہا تھا، اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط ، جس کام میں بھی انسان اپنے اُن اختیارات کو ، جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں، استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کر لینے کا موقع دے دیں، تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرہٴ عمل سے وہ کام متعلق ہو، وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے، نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے، دونوں صُورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اِذن دے رہے ہیں، تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر اِس کو یوں سمجھیے کہ ایک فرماں روا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صُو بے یا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے ، تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں، ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں، اور جب تک فرمانروا کا منشا یہ ہے کہ اسے اپنے اختیارات کے استعمال کا موقع دے ، اس وقت تک اس کا ساتھ دیتے رہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ صحیح کام میں ان اختیارات کو استعمال کر رہا ہے یا غلط کام میں۔ البتہ جب جس کام کے بارے میں بھی فرماں روا کا اشارہ ہوجائے کہ اسے نہ کرنے دیا جائے، تو وہیں ان حاکم صاحب کا اقتدار ختم ہو جاتا ہے اور انہیں ایسا محسُوس ہونے لگتا ہے کہ سارے علاقے کے اہل کاروں نے گویا ہڑتا ل کر دی ہے ۔ حتّٰی کہ جس وقت فرمانروا کی طرف سے ان حاکم صاحب کو معزُولی اور گرفتاری کا حکم ہوتا ہے ، تو وہی ماتحت و خُدّام جو کل تک ان کے اشاروں پر حرکت کر رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑ یاں ڈال کر انہیں کشاں کشاں دارُالفاسقین کی طرف لے جاتے ہیں۔ فرشتوں کو آدم کے لیے سربسجُود ہوجانے کا جو حکم دیا گیا تھا اُس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی۔ ممکن ہے کہ صرف مسخّر ہوجانے ہی کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہو۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس انقیاد کی علامت کے طور پر کسی ظاہری فعل کا بھی حکم دیا گیا ہو، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
-
اِبْلِیسْ: لفظی ترجمہ” انتہائی مایوس“۔ اِصطلاحاً یہ اُس جِن کا نام ہے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے آدم اور بنی آدم کے لیے مطیع و مُسَخَّر ہونے سے انکار کر دیا اور اللہ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی کہ اسے نسلِ انسانی کو بہکانے اور گمراہیوں کی طرف ترغیب دینے کا موقع دیا جائے۔ اسی کو ”الشَیْطَان“ بھی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت شیطان اور ابلیس بھی محض کسی مجرّد قوت کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ بھی انسان کی طرح ایک صاحبِ تشخّص ہستی ہے۔ نیز کسی کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہونی چاہیے کہ یہ فرشتوں میں سے تھا۔ آگے چل کر قرآن نے خود تصریح کر دی ہے کہ وہ جِنّوں میں سے تھا، جو فرشتوں سے الگ، مخلوقات کی ایک مستقل صِنف ہیں۔
-
ِن الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غالباً ابلیس سجدے سے انکار کرنے میں اکیلا نہ تھا، بلکہ جِنّوں کی ایک جماعت نافرمانی پر آمادہ ہو گئی تھی اور ابلیس کا نام صرف اِس لیے لیا گیا کہ وہ ان کا سردار اور اس بغاوت میں پیش پیش تھا۔ لیکن اِس آیت کا دُوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ” وہ کافروں میں سے تھا“۔ اِس صُورت میں مطلب یہ ہو گا کہ جِنّوں کی ایک جماعت پہلے سے ایسی موجود تھی جو سرکش و نافرمان تھی ، اور ابلیس کا تعلق اسی جماعت سے تھا۔ قرآن میں بالعموم ”شیاطین“ کا لفظ اِنہی جِنّوں اور ان کی ذرّیّت (نسل) کے لیے استعمال ہوا ہے، اور جہاں شیاطین سے مُراد انسان مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ نہ ہو، وہاں یہی شیاطینِ جن مُراد ہوتے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 6
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.