- یٰۤاَیُّهَااے
- الَّذِیْنَلوگو
- اٰمَنُوْۤاجو ایمان لائے ہو
- اِذَاجب
- تَدَایَنْتُمْتم باہم لین دین کرو
- بِدَیْنٍقرض کا
- اِلٰۤیتک
- اَجَلٍوقت مقررہ۔ طے شدہ (مقررہ وقت تک)
- مُّسَمًّیNo meaning in the source
- فَاكْتُبُوْهُ ؕتو لکھا کرو اس کو۔ تو لکھ لیا کرو اس کو
- وَلْیَكْتُبْچاہیے کہ لکھے
- بَّیْنَكُمْتمہارے درمیان
- كَاتِبٌلکھنے والا
- بِالْعَدْلِ ۪ساتھ عدل کے
- وَلَااور نہ
- یَاْبَانکار کرے
- كَاتِبٌلکھنے والا
- اَنْکہ
- یَّكْتُبَوہ لکھے
- كَمَاجیسا کہ
- عَلَّمَهُسکھا دیا اس کو
- اللّٰهُاللہ نے
- فَلْیَكْتُبْ ۚپس چاہیے کہ وہ لکھے
- وَلْیُمْلِلِاور چاہیے کہ املاء کرے
- الَّذِیْوہ شخص
- عَلَیْهِجس پر
- الْحَقُّحق ہے (مقروض ہے)
- وَلْیَتَّقِاورچاہیے کہ
- اللّٰهَاللہ سے
- رَبَّهٗجو رب ہے اس کا
- وَلَااور نہ
- یَبْخَسْکمی کرے
- مِنْهُاس سے
- شَیْـًٔا ؕکسی چیز کی
- فَاِنْپھر اگر
- كَانَہو
- الَّذِیْوہ شخص (یعنی مقروض)
- عَلَیْهِاوپر اس کے
- الْحَقُّحق ہے
- سَفِیْهًابےوقوف۔ کم عقل
- اَوْیا
- ضَعِیْفًاکمزور
- اَوْیا
- لَانہیں
- یَسْتَطِیْعُوہ استطاعت رکھتا
- اَنْکہ
- یُّمِلَّاملاء کرے
- هُوَوہ
- فَلْیُمْلِلْپس چاہیے کہ املاء کرے
- وَلِیُّهٗسرپرست اس کا
- بِالْعَدْلِ ؕعدل کے ساتھ
- وَاسْتَشْهِدُوْااور گواہ بنالیا کرو
- شَهِیْدَیْنِدو گواہ
- مِنْسے
- رِّجَالِكُمْ ۚاپنے مردو (میں سے)
- فَاِنْپھر اگر
- لَّمْنہ
- یَكُوْنَاوہ دو ہوں
- رَجُلَیْنِدو مرد
- فَرَجُلٌتو ایک مرد
- وَّامْرَاَتٰنِاور دو عورتیں
- مِمَّنْاس میں سے جو
- تَرْضَوْنَتم پسند کرتے ہو
- مِنَسے
- الشُّهَدَآءِگواہوں میں
- اَنْاس لیے کہ۔ مبادا کہ
- تَضِلَّبھول جائے گی
- اِحْدٰىهُمَاان دونوں میں سے ایک
- فَتُذَكِّرَتو یاد دہانی کرادے
- اِحْدٰىهُمَاان دونوں میں سے ایک
- الْاُخْرٰی ؕدوسری کو
- وَلَااور نہ
- یَاْبَانکار کریں
- الشُّهَدَآءُگواہ
- اِذَاجب بھی۔ جہاں بھی
- مَاNo meaning in the source
- دُعُوْا ؕوہ بلائے جائیں
- وَلَااور نہ
- تَسْـَٔمُوْۤاتم سستی کرو
- اَنْکہ
- تَكْتُبُوْهُتم لکھ لو اس کو
- صَغِیْرًاچھوٹا ہو
- اَوْیا
- كَبِیْرًابڑا ہو
- اِلٰۤیطرف
- اَجَلِهٖ ؕاس کے مقرر وقت کے
- ذٰلِكُمْیہ بات
- اَقْسَطُزیادہ انصاف والی ہے
- عِنْدَنزدیک
- اللّٰهِاللہ کے
- وَاَقْوَمُاور زیادہ درست رکھنے والی ہے
- لِلشَّهَادَةِگواہی کے لیے
- وَاَدْنٰۤیاور زیادہ قریب ہے
- اَلَّاکہ نہ
- تَرْتَابُوْۤاتم شک میں مبتلا ہو جاو
- اِلَّاۤمگر
- اَنْکہ
- تَكُوْنَہو
- تِجَارَةًتجارت۔ سودا
- حَاضِرَةًحاضر
- تُدِیْرُوْنَهَاتم لین دین کرتے ہو اس کا
- بَیْنَكُمْآپس میں
- فَلَیْسَتو نہیں ہے
- عَلَیْكُمْتم پر
- جُنَاحٌکوئی گناہ
- اَلَّاکہ نہ
- تَكْتُبُوْهَا ؕتم لکھو اس کو
- وَاَشْهِدُوْۤااور گواہ بنا لو
- اِذَاجب
- تَبَایَعْتُمْ ۪باہم خریدوفروخت کرو تم
- وَلَااور نہ
- یُضَآرَّضرر پہنچایاجائے
- كَاتِبٌکاتب کو
- وَّلَااور نہ
- شَهِیْدٌ ؕ۬گواہ کو
- وَاِنْاور اگر
- تَفْعَلُوْاتم کرو گے
- فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
- فُسُوْقٌگناہ ہوگا
- بِكُمْ ؕتمہارے لئیے
- وَاتَّقُوااور ڈرو تم
- اللّٰهَ ؕاللہ سے
- وَیُعَلِّمُكُمُاور سکھاتا ہے تم کو
- اللّٰهُ ؕاللہ
- وَاللّٰهُاور اللہ
- بِكُلِّساتھ ہر
- شَیْءٍچیز کے
- عَلِیْمٌجاننے والا ہے
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 282
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اے لوگو جو ایمان لائےہو، جب کسی مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین1 کرو ، تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقین2 کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائےجس پر حق آتا ہے(یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ ،اپنے ربّ سے ڈرنا چاہیےکہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ، یا املا نہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں میں3 سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اُسے یاد دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔4 گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تسا ہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں5، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے6۔ ایسا کروگے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ قرض کے معاملے میں مدّت کی تعیین ہونی چاہیے۔
-
عموماً دوستوں اور عزیزوں کے درمیان قرض کے معاملات میں دستاویز لکھنے اور گواہیاں لینے کو معیوب اور بے اعتمادی کی دلیل خیال کیا جاتا ہے ۔ لیکن اللہ کا ارشاد یہ ہے کہ قرض اور تجارتی قرار دادوں کو تحریر میں لانا چاہیے اور اس پر شہادت ثبت کرا لینی چاہیے تا کہ لوگوں کے درمیان معاملات صاف رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیں ، جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں، مگر ان کی فریاد سُنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دُوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے اس کا مال اس کے حوالے کر دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔
-
یعنی مسلمان مردوں میں سے، اس سے معلوم ہوا کہ جہاں گواہ بنانا اختیاری فعل ہو وہاں مسلمان صرف مسلمانوں ہی کو اپنا گواہ بنائیں۔ البتہ ذمّیوں کے گواہ ذمّی بھی ہو سکتے ہیں۔
-
“مطلب یہ ہے کہ ہر کس و ناکس گواہ ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے ، بلکہ ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جائے جو اپنے اخلاق و دیانت کے لحاظ سے بالعموم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد سمجھے جاتے ہوں۔
-
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ روز مرّہ کی خرید و فروخت میں بھی معاملہٴ بیع کا تحریر میں آجانا بہتر ہے ، جیسا کہ آج کل کیش میمو لکھنے کا طریقہ رائج ہے، تاہم ایسا کرنا لازم نہیں ہے۔ اِسی طرح ہمسایہ تاجر ایک دُوسرے سے رات دن جو لین دین کرتے رہتے ہیں ، اس کو بھی اگر تحریر میں نہ لایا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
-
)اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو دستاویز لکھنے یا اس پر گواہ بننے کے لیے مجبُور نہ کیا جائے، اور یہ بھی کہ کوئی فریق کا تب یا گواہ کو اس بنا پر نہ ستائے کہ وہ اس کے مفاد کے خلاف صحیح شہادت دیتا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 48
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. 2 words in this ayah have no meaning in the source and are left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.