- وَاِذَااور جب
- سَاَلَكَسوال کریں تجھ سے
- عِبَادِیْمیرے بندے
- عَنِّیْمیرے بارے میں
- فَاِنِّیْتو بیشک میں
- قَرِیْبٌ ؕقریب ہوں
- اُجِیْبُمیں جواب دیتا ہوں
- دَعْوَةَپکار کا۔ دعا کا
- الدَّاعِپکارنے والے کی
- اِذَاجب بھی
- دَعَانِ ۙوہ پکارے مجھے۔ وہ پکارتا ہے مجھ کو
- فَلْیَسْتَجِیْبُوْاپس چاہیے کہ وہ بات مانیں
- لِیْمیرے لیے
- وَلْیُؤْمِنُوْااور چاہیے کہ وہ ایمان لائیں۔ یقین رکھیں
- بِیْساتھ میرے
- لَعَلَّهُمْتاکہ وہ
- یَرْشُدُوْنَوہ راہ راست پائیں
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 186
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 28
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 186 وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط میرے نزدیک یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔ فصل اگر ہے تو وہ تمہاری اپنی خباثت ہے۔ اگر تمہاری نیت میں فساد ہے کہ حرام خوری تو کرنی ہی کرنی ہے تو اب کس منہ سے اللہ سے دعا کرو گے ؟ لہٰذا کسی پیر کے پاس جاؤ گے کہ آپ دعا کردیجیے ‘ یہ نذرانہ حاضر ہے۔ بندے اور خدا کے درمیان خود انسان کا نفس حائل ہے اور کوئی نہیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو یہ ہے کہ : ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے ‘ راہ رو منزل ہی نہیں !اس تک پہنچنے کا واسطہ کوئی پوپ نہیں ‘ کوئی پادری نہیں ‘ کوئی پنڈت نہیں ‘ کوئی پروہت نہیں ‘ کوئی پیر نہیں۔ جب چاہو اللہ سے ہم کلام ہوجاؤ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے : کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے ؟پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ میرا ہر بندہ جب چاہے ‘ جہاں چاہے مجھ سے ہم کلام ہوسکتا ہے۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا اجابت کے مفہوم میں کسی کی پکار کا سننا ‘ اس کا جواب دینا اور اسے قبول کرنا ‘ یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ لیکن اس کے لیے ایک شرط عائد کی جا رہی ہے : فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ یہ یک طرفہ بات نہیں ہے ‘ بلکہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ جیسے ہم پڑھ چکے ہیں : فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہاری قدردانی کروں گا۔ تم میری طرف چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔ تم بالشت بھر آؤ گے تو میں ہاتھ بھر آؤں گا۔ لیکن اگر تم رخ موڑ لو گے تو ہم بھی رخ موڑ لیں گے۔ ہماری تو کوئی غرض نہیں ہے ‘ غرض تو تمہاری ہے۔ تم رجوع کرو گے تو ہم بھی رجوع کریں گے۔ تم توبہ کرو گے تو ہم اپنی نظر کرم تم پر متوجہ کردیں گے۔ سورة محمد ﷺ میں الفاظ آئے ہیں : اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ آیت 7 اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ لیکن اگر تم اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ ‘ ان کے ساتھ تمہاری ساز باز ہو اور کھڑے ہوجاؤ قنوت نازلہ میں اللہ سے مدد مانگنے کے لیے تو تم سے بڑا بیوقوف کون ہوگا ؟ پہلے اللہ کی طرف اپنا رخ تو کرو ‘ اللہ سے اپنا معاملہ تو درست کرو۔ اس میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے ولی کامل بن جاؤ ‘ بلکہ اسی وقت خلوص نیت سے توبہ کرو ‘ سارے پردے ہٹ جائیں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا :لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے احکام پر چلنے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن ہوجائیں گے۔