- وَمِنَاور سے
- النَّاسِلوگوں میں(کہ)
- مَنْوہ ہیں جو
- یَّتَّخِذُبنا لیتے ہیں
- مِنْسے
- دُوْنِسوا
- اللّٰهِاللہ کے
- اَنْدَادًاشریک
- یُّحِبُّوْنَهُمْوہ محبت کرتے ہیں ان سے
- كَحُبِّجیسے محبت کرنا ہوتی ہے
- اللّٰهِ ؕاللہ سے
- وَالَّذِیْنَاور وہ لوگ
- اٰمَنُوْۤاجو ایمان لائے
- اَشَدُّزیادہ شدید ہیں۔ سخت ہوتے ہیں
- حُبًّااز روئے محبت
- لِّلّٰهِ ؕاللہ کے لیے۔ اللہ کے لیے محبت میں
- وَلَوْاور کاش۔ اگر
- یَرَیدیکھ لیں
- الَّذِیْنَوہ لوگ
- ظَلَمُوْۤاجنہوں نے ظلم کیا۔ شرک کیا
- اِذْجب
- یَرَوْنَوہ دیکھیں گے
- الْعَذَابَ ۙعذاب کو (جان لیں گے)
- اَنَّبیشک
- الْقُوَّةَتمام تر قوت
- لِلّٰهِاللہ ہی کے لیے ہے
- جَمِیْعًا ۙساری کی ساری
- وَّاَنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ
- شَدِیْدُسخت
- الْعَذَابِعذاب (دینے والا ہے)
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 165
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
(مگر وحدتِ خدا وندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں1اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔2 کاش ، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انھیں سوجھنے والاہےوہ آج ہی ان ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کےقبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی خدائی کی جو صفات اللہ کے لیے خاص ہیں اُن میں سے بعض کو دُوسروں کی طرف منسُوب کرتے ہیں ، اور خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جو حقوق ہیں، وہ سب یا اُن میں سے بعض حقوق یہ لوگ اُن دُوسرے بناوٹی معبُودوں کو ادا کرتے ہیں۔ مثلاً سلسلہء اسباب پر حکمرانی ، حاجت روائی، مشکل کشائی، فریاد رسی، دُعائیں سُننا اور غیب و شہادت پر چیز سے واقف ہونا، یہ سب اللہ کی مخصُوص صفات ہیں۔ اور یہ صرف اللہ ہی کا حق ہے کہ بندے اُسی کو مقتدرِ اعلیٰ مانیں، اُسی کے آگے اعترافِ بندگی میں سَر جُھکائیں، اُسی کی طرف اپنی حاجتوں میں رجُوع کریں، اُسی کو مدد کے لیے پکاریں، اُسی پر بھروسہ کریں، اُسی سے اُمیدیں وابستہ کریں اور اُسی سے ظاہر و باطن میں ڈریں۔ اِسی طرح مالک الملک ہونے کی حیثیت سے یہ منصب بھی اللہ ہی کا ہے کہ اپنی رعیّت کے لیے حلال و حرام کے حدُود مقرر کرے ، ان کے فرائض و حقوق معیّن کرے، ان کو امر ونہی کے احکام دے، اور انھیں یہ بتائے کہ اس کی دی ہوئی قوتوں اور اس کے بخشے ہوئے وسائل کو وہ کس طرح کِن کاموں میں کن مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ اور یہ صرف اللہ کا حق ہے کہ بندے اس کی حاکمیّت تسلیم کریں، اس کے حکم کو منبعِ قانون مانیں، اسی کو امر و نہی کا مختا ر سمجھیں، اپنی زندگی کے معاملات میں اس کے فرمان کو فیصلہ کُن قرار دیں، اور ہدایت و رہنمائی کے لیے اُسی کی طرف رُجوع کریں۔ جو شخص خدا کی اِن صفات میں سے کسی صِفْت کو بھی کسی دُوسرے کی طرف منسُوب کرتا ہے ، اور اُس کے اِن حقوق میں سے کوئی ایک حق بھی کسی دُوسرے کو دیتا ہے وہ دراصل اُسے خدا کا مدِّ مقابل اور ہمسر بناتا ہے۔ اور اسی طرح جو شخص یا جو ادارہ اِن صفات میں سے کسی صِفْت کا مدّعی ہو اور ان حقوق میں سے کسی حق کا انسانوں سے مطالبہ کرتا ہو، وہ بھی دراصل خدا کا مدِّ مقابل اور ہمسر بنتا ہے خواہ زبان سے خدائی کا دعویٰ کرے یا نہ کرے۔
-
یعنی ایمان کا اقتضا یہ ہے کہ آدمی کے لیے اللہ کی رضا ہر دُوسرے کی رضا پر مقدم ہو اور کسی چیز کی محبت بھی انسان کے دل میں یہ مرتبہ اور مقام حاصل نہ کرلے کہ وہ اللہ کی محبت پر اسے قربان نہ کر سکتا ہو۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر کچھ اور چیزوں کو اس کا ہمسر اور مدمقابلّ بنا دیتے ہیں وہ ان سے ایسی محبت کرنے لگتے ہیں جیسی اللہ سے کرنی چاہیے اور جو لوگ واقعتا صاحب ایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے اور اگر یہ ظالم لوگ اس وقت کو دیکھ لیں جب یہ دیکھیں گے عذاب کو تو (ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ) قوت تو ساری کی ساری اللہ کے پاس ہے اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 25
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 165 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَہُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ط۔ یہ دراصل ایک فلسفہ ہے کہ ہر باشعور انسان کسی شے کو اپنا آئیڈیل ‘ نصب العین یا آدرش ٹھہراتا ہے اور پھر اس سے بھرپور محبت کرتا ہے ‘ اس کے لیے جیتا ہے ‘ اس کے لیے مرتا ہے ‘ قربانیاں دیتا ہے ‘ ایثار کرتا ہے۔ چناچہ کوئی قوم کے لیے ‘ کوئی وطن کے لیے اور کوئی خود اپنی ذات کے لیے قربانی دیتا ہے۔ لیکن بندۂ مؤمن یہ سارے کام اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ اپنا مطلوب و مقصود اور محبوب صرف اللہ کو بناتا ہے۔ وہ اسی کے لیے جیتا ہے ‘ اسی کے لیے مرتا ہے : اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الانعام بیشک میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کے برعکس عام انسانوں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ : می تراشد فکر ما ہر دم خداوندے دگر رست از یک بند تا افتاد در بندے دگر انسان اپنے ذہن سے معبود تراشتا رہتا ہے ‘ ان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ یہ مضمون سورة الحج کے آخری رکوع میں زیادہ وضاحت کے ساتھ آئے گا۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ط۔ عگر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں ! یہ گویا لٹمس ٹیسٹ ہے۔ کوئی شے اگر اللہ سے بڑھ کر محبوب ہوگئی تو وہ تمہاری معبود ہے۔ تم نے اللہ کو چھوڑ کر اس کو اپنا معبود بنا لیا ‘ چاہے وہ دولت ہی ہو۔ حدیث نبوی ﷺ ہے : تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ 19 ہلاک اور برباد ہوجائے درہم و دینار کا بندہ۔ نام خواہ عبد الرحمن ہو ‘ حقیقت میں وہ عبد الدینار ہے۔ اس لیے کہ وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ دینار آنا چاہیے ‘ خواہ حرام سے آئے یا حلال سے ‘ جائز ذرائع سے آئے یا ناجائز ذرائع سے۔ چناچہ اس کا معبود اللہ ‘ نہیں ‘ دینار ہے۔ ہندو نے لکشمی دیوی کی مورتی بنا کر اسے پوجنا شروع کردیا کہ یہ لکشمی دیوی اگر ذرا مہربان ہوجائے گی تو دولت کی ریل پیل ہوجائے گی۔ ہم نے اس درمیانی واسطے کو بھی ہٹا کر براہ راست ڈالر اور پیڑو ڈالر کو پوجنا شروع کردیا اور اس کی خاطر اپنے وطن اور اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیا۔ چناچہ یہاں کتنے ہی لوگ سسک سسک کر مرجاتے ہیں اور آخری لمحات میں ان کا بیٹا یا بیٹی ان کے پاس موجود نہیں ہوتا بلکہ دیار غیر میں ڈالر کی پوجا میں مصروف ہوتا ہے۔وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ لا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًالا یہاں ظلم شرک کے معنی میں آیا ہے اور ظالم سے مراد مشرک ہیں۔وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ ۔ اس وقت آنکھ کھلے گی تو کیا فائدہ ہوگا ؟ اب آنکھ کھلے تو فائدہ ہے۔