- وَقَالَاور کہا
- الَّذِیْنَان لوگوں نے
- اَشْرَكُوْاجنہوں نے شرک کیا
- لَوْاگر
- شَآءَچاہتا
- اللّٰهُاللہ
- مَانہ
- عَبَدْنَاہم عبادت کرتے
- مِنْکے
- دُوْنِهٖاس کے سوا
- مِنْکسی
- شَیْءٍکسی چیز کی
- نَّحْنُہم
- وَلَاۤاور نہ
- اٰبَآؤُنَاہمارے باپ دادا
- وَلَااور نہ
- حَرَّمْنَاہم حرام کرتے
- مِنْکے
- دُوْنِهٖاس کے سوا
- مِنْکسی
- شَیْءٍ ؕچیز کو
- كَذٰلِكَاسی طرح
- فَعَلَکیا
- الَّذِیْنَان لوگوں نے
- مِنْجو
- قَبْلِهِمْ ۚان سے پہلے تھے
- فَهَلْتو نہیں
- عَلَیاوپر
- الرُّسُلِرسولوں کے ہے
- اِلَّامگر
- الْبَلٰغُپہنچانا
- الْمُبِیْنُکھلم کھلا
Surah 16 · word by word
Surah 16, ayah 35
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ مشرکین کہتے ہیں”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اَور کی عبادت کرتے اور نہ اُس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔“1 ایسے ہی بہانے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں۔2 تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمّہ داری ہے؟
Footnotes (the author's commentary)
-
مشرکین کی اس حجت کو سورۂ انعام آیات نمبر 148 – 149 میں بھی نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ مقام اور اس کے حواشی اگر نگاہ میں رہیں تو سمجھنے میں زیادہ سہولت ہو گی۔ (ملاحظہ وہ سورۂ انعام، حواشی نمبر 124 تا نمبر 12۶ )۔
-
یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ آج تم لوگ اللہ کی مشیت کو اپنی گمراہی اور بد اعمالی کے لیے حجت بنا رہے ہو۔ یہ تو بڑی پرانی دلیل ہے جسے ہمیشہ سے بگڑے ہوئے لوگ اپنے ضمیر کو دھوکا دینے اور ناصحوں کا منہ بند کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ مشرکین کی حجت کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا پورا لطف اُٹھانے کے لیے یہ بات ذہن میں رہنی ضروری ہے کہ ابھی چند سطریں پہلے مشرکین کے اس پروپیگنڈا کا ذکر کر چکا ہے جو وہ قرآن کے خلا ف یہ کہہ کہہ کر کیا کرتے تھےکہ ”اجی! وہ تو پرانے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں“۔ گویا ان کو نبی پر اعتراض یہ تھا کہ یہ صاحب نئی بات کونسی لائے ہیں ، وہی پرانی باتیں دہرا رہے ہیں جو طوفانِ نوح کے وقت سے لے کر آج تک ہزاروں مرتبہ کہی جا چکی ہیں۔ اس کے جواب میں ان کے دلیل ( جسے وہ بڑے زور کی دلیل سمجھتے ہوئے پیش کرتے تھے) کا ذکر کرنے کے بعد یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرات، آپ ہی کونسے ماڈرن ہیں ، یہ مایہ ٔ ناز دلیل جو آپ لائے ہیں ا س میں قطعی کو ئی اُپچ موجود نہیں ہے، وہی دقیا نوسی بات ہے جو ہزاروں برس سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں، آپ نے بھی اُسی کو دہرا دیا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 271
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.