- خَلَقَاس نے پیدا کیا
- السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
- وَالْاَرْضَاور زمین کو
- بِالْحَقِّ ؕساتھ حق کے
- تَعٰلٰیبلند ہے
- عَمَّااس سے جو
- یُشْرِكُوْنَوہ شرک کرتے ہیں
Surah 16 · word by word
Surah 16, ayah 3
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اُس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات جس کی دعوت خدا کے پیغمبر دیتے ہیں، اسی کی شہادت زمین وآسمان کا پورا کارخانۂ تخلیق دے رہا ہے۔ یہ کارخانۂ کوئی خیالی گورکھ دھندا نہیں ہے ، بلکہ ایک سراسر مبنی بر حقیقت نظام ہے۔ اس میں تم جس طرف چاہو نگاہ اُٹھا کر دیکھ لو ، شرک کی گواہی کہیں سے نہ ملے گی، اللہ کے سوا دوسرے کی خدائی کہیں چلتی نظر نہیں آئے گی، کسی چیز کی ساخت یہ شہادت نہ دے گی کہ اس کا وجود کسی اور کا بھی رہینِ منت ہے ۔ پھر جب یہ ٹھوس حقیقت پر بنا ہوا نظام خالص توحید پر چل رہا ہے تو آخر تمہارے اِس شرک کا سکہ کس جگہ رواں ہو سکتا ہے جبکہ اس کی تہ میں وہم و گمان کے سوا واقعیت کا شائبہ تک نہیں ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آثارِ کائنات سے اور خود انسان کے اپنے وجود سے وہ شہادتیں پیش کی جاتی ہیں جو ایک طرف توحید پر اور دوسری طرف رسالت پر دلالت کرتی ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔ وہ بہت بلند ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 267
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 16:2, 16:3)
يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ سے مراد اللہ کی وحی ہے۔ یعنی حضرت محمد کو اللہ نے اپنی وحی کے لیے چن لیا اور آپ کی طرف حضرت جبرائیل وحی لے کر آئے۔ یہاں پر لفظ ”امر“ کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ سورة الاعراف کی آیت 54 میں فرمایا گیا : اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط ”آگاہ ہوجاؤ ‘ اسی کے لیے خلق ہے اور اسی کے لیے امر“۔ یعنی عالم خلق اور عالم امر دو الگ الگ عالم ہیں۔ عالم امر کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں وقت کا عامل بالکل کارفرما نہیں۔ اس عالم میں کسی کام کے کرنے یا کوئی واقعہ وقوع پذیر ہونے میں وقت درکار نہیں ہوتا۔ بس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کے ”کُنْ“ فرمانے سے وہ کام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں فرمایا گیا : اِنَّمَآ اَمْرُہٓٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ”اس کا امر تو یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس یہی ہوتا کہ وہ اسے کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“ اس کے برعکس عالم خلق میں کسی کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں متعدد بار فرمایا گیا کہ اللہ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں تخلیق کیے۔ اسی طرح دنیا کا سارا نظام عالم خلق کے اصولوں پر چل رہا ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی سے کو نپلیں پھوٹتی ہیں ‘ پھر بڑھتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں پر روح کے ذکر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے۔ عالم امر کی صرف تین چیزیں ہی ہمارے علم میں ہیں۔ ملائکہ ‘ روح اور وحی۔ قرآن میں ملائکہ کو بھی روح کہا گیا ہے۔ جیسے حضرت جبرائیل کے لیے روح القدس اور روح الامین کے الفاظ آئے ہیں۔ سورة الشعراء میں فرمایا گیا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ جبکہ سورة البقرۃ کی آیت 87 میں ارشاد ہوا : وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۔ اسی طرح قرآن میں وحی کو بھی روح کہا گیا ہے ‘ اور یہ وحی نازل بھی روح پر ہوتی ہے۔ جب محمد رسول اللہ پر وحی نازل ہوتی تو آپ اس کا ادراک طبعی حواس خمسہ سے نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ وحی براہ راست آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ اس لیے کہ قلب محمدی روح محمدی کا مسکن تھا : نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ الشعراء۔ چناچہ وحی بھی روح ہے ‘ اس کو لانے والے جبرائیل امین بھی روح ہیں اور اس کا نزول بھی روح محمدی پر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں جگر مراد آبادی کا یہ شعر ان کی کسی خاص کیفیت کا مظہر معلوم ہوتا ہے نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو روح سنے اور روح سنائے !