Surah 12 · word by word

Surah 12, ayah 67

  1. وَقَالَاور اس نے کہا
  2. یٰبَنِیَّاے میرے بچو
  3. لَانہ
  4. تَدْخُلُوْاتم داخل ہونا
  5. مِنْسے
  6. بَابٍدروازے
  7. وَّاحِدٍایک
  8. وَّادْخُلُوْابلکہ داخل ہونا
  9. مِنْسے
  10. اَبْوَابٍدروازوں
  11. مُّتَفَرِّقَةٍ ؕمختلف
  12. وَمَاۤاور نہیں
  13. اُغْنِیْمیں بچا سکتا
  14. عَنْكُمْتم کو
  15. مِّنَسے
  16. اللّٰهِاللہ
  17. مِنْکسی
  18. شَیْءٍ ؕچیز سے
  19. اِنِنہیں
  20. الْحُكْمُفیصلہ
  21. اِلَّامگر
  22. لِلّٰهِ ؕاللہ کے لئے
  23. عَلَیْهِاسی پر
  24. تَوَكَّلْتُ ۚمیں نے توکل کیا
  25. وَعَلَیْهِاور اسی پر
  26. فَلْیَتَوَكَّلِپس چاہیے کہ توکل کیا کریں
  27. الْمُتَوَكِّلُوْنَتوکل کرنے والے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر اُس نے کہا”میرے بچو، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔1 مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اُسی پر کرے۔“

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف ؑ  کے بعد ان کے بھائی کو بھیجتے وقت حضرت یعقوب ؑ کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی۔ گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا۔ مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی۔ طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی جائے۔                 یہ احتیاطی مشورہ کے مصر کے دارلسلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں ، اُن سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو اس وقت پائے جاتے تھے۔ یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد قبائلی علاقے کے رہنے والے تھے۔ اہل مصر اس علاقے کے لوگوں کو اسی شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے جس نگاہ سے ہندوستان کی برطانوی حکومت آزاد سرحدی علاقے والوں کو دیکھتی رہی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا ہوگا کہ اس قحط کے زمانہ میں اگر یہ لوگ ایک جتھا بنے ہوئے وہاں داخل ہوں گے تو شاید انہیں مشتبہ سمجھا جائے اور یہ گمان کیا جائے کہ یہ یہاں لوٹ مار کی غرض سے آئے ہیں ۔ پچھلی آیت میں حضرت یعقوب ؑ کا یہ ارشاد کہ”اِلَّا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ“۔ اس مضمون کی طرف خود اشارہ کررہا ہے کہ یہ مشورہ سیاسی اسباب کی بنا پر تھا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 243

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution