Surah 12 · word by word

Surah 12, ayah 42

  1. وَقَالَاور کہا
  2. لِلَّذِیْاس کے لیے۔ اس کو
  3. ظَنَّکہ اس نے گمان کیا تھا
  4. اَنَّهٗکہ بیشک وہ
  5. نَاجٍنجات پانے والا ہے
  6. مِّنْهُمَاان دونوں میں سے
  7. اذْكُرْنِیْذکر کرنا میرا
  8. عِنْدَپاس
  9. رَبِّكَ ؗاپنے آقا کے
  10. فَاَنْسٰىهُتو بھلا دیا اس کو
  11. الشَّیْطٰنُشیطان نے
  12. ذِكْرَذکر کرنا
  13. رَبِّهٖاپنے آقا کو
  14. فَلَبِثَتو ٹھہرا رہا
  15. فِیمیں
  16. السِّجْنِقید خانے
  17. بِضْعَچند
  18. سِنِیْنَسال

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یُوسُف ؑ نے کہا کہ ”اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے میرا ذکر کرنا۔“ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے اس کا ذکر کرنا بھُول گیا اور یُوسُف ؑ کئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس مقام کی تفسیر بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ ”شیطان نے حضرت یوسف ؑ کو اپنے رب(یعنی اللہ تعالیٰ) کی یاد سے غافل کردیا اور انہوں نے ایک بندے سے چاہا کہ وہ اپنے رب(یعنی شاہ مصر) سے ان کا تذکرہ کر کے ان کی رہائی کی کوشش کرے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزادی کہ وہ کئی سال تک جیل میں پڑے رہے“۔  درحقیقت یہ تفسیر بالکل غلط ہے۔ صحیح یہی ہے، جیسا کہ علامہ ابن کثیر، اور متقد مین میں سے مجاہد اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے کہاہے کہ فا نساہ الشیطان ذکر ربّہ کی ضمیر اس شخص کی طر پھرتی ہے جس کے متعلق حضرت یوسف ؑ کا گمان تھا کہ وہ  رہائی پانے والا ہے، اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ”شیطان نے اسے اپنے آقا سے حضرت یوسف ؑ کا ذکر کرنا بھلا دیا“۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر یوسف علیہ السلام نے وہ بات نہ کہی ہوتی جو انہوں نے کہی تو وہ قید میں کئی سال نہ پڑے رہتے“۔ لیکن علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ  ”یہ حدیث جتنے طریقوں سے روایت کی گئی ہے وہ سب ضعیف ہیں۔ بعض طریقوں سے یہ مرفوعاً روایت کی گئی ہے اور ان میں سفیان بن وکیع اور ابراہیم بن یزیدراوی ہیں جو دونوں ناقابل اعتماد ہیں ۔ اور بعض طریقوں سے یہ مُرسَلاً روایت ہوئی ہے اور ایسے معاملات میں مُرسلات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا“۔ علاوہ بریں و رایت کے اعتبار سے بھی یہ  بات باور کرنے کے قابل نہیں ہے کہ ایک مظلوم شخص کا اپنی رہائی کے لیے دنیوی تدبیر کرنا خدا سے غفلت اور توکل کے فقدان کی دلیل قرار دیا گیا ہوگا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 240

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution