- وَّامْرَاَتُهٗ ؕاور اس کی بیوی
- حَمَّالَةَاٹھانے والی
- الْحَطَبِلکڑی کے گٹھے کو
Surah 111 · word by word
Surah 111, ayah 4
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورُو بھی،1 لگائی بُجھائی کرنے والی،2
Footnotes (the author's commentary)
-
اس عورت کا نام اَرْویٰ تھا اور اُمِّ جَمِیل اِس کی کنیت تھی۔ یہ ابو سُفیان کی بہت تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عداوت میں اپنے شوہر ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حضرت اَسماءؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت ناز ل ہوئی اور امِّ جمیل نے اِس کو سنا تو وہ بِپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلا ش میں نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں مُٹھی بھر پتھر تھے او ر وہ حضورؐ کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں پہنچی تو وہاں حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ حضورؐ تشریف فرما تھے ۔ حضر ت ابو بکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ، یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کر گے گی۔ حضورؐ نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں دیکھ سکے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپ کو نہیں دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا کہ میں نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے کہا، اِس گھر کے ربّ کی قسم اُنہوں نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی (ابن ابی حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام۔ بَزّار نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اِسی سے ملتا جُلتا واقعہ نقل کیا ہے)۔ حضرت ابو بکر ؓ کے اِس جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو ت اللہ تعالیٰ نے کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔
-
اصل الفاظ ہیں حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ ۔ جن کا لفظی ترجمہ ہے ” لکڑیاں ڈھونے والی“۔ مفسّرین نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، ابن زیدؓ، ضَحّاک اور ربیع بن انس کہتے ہیں کہ وہ راتوں کو خاردار درختوں کی ٹہنیاں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر ڈال دیتی تھی ، اس لیے اس کو لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا ہے۔ قَتادہ ، عِکْرِ مَہ، حسن بصری، مجاہد اور سُفیان ثَوری کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کے لیے چُغلیاں کھاتی پھرتی تھی، اس لیے اسے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونے والی کہا گیا، کیونکہ عرب ایسے شخص کو جو اِدھر کی بات اُدھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہو، لکڑیاں ڈھونے والا کہتے ہیں۔ اِس محاورے کے لحاظ سے حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اردو میں ”بی جمالو“ کے معنی ہیں۔ سعید بن جُبَیر کہتے ہیں کہ جو شخص گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہا ہو اُس کے متعلق عربی زبان میں بطور محاورہ کہا جاتا ہے فُلَانٌ یَّحْطَتِبُ عَلیٰ ظَھْرِ ہ۔ (فلاں شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لاد رہا ہے)۔ پس حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ہیں گناہوں کا بوجھ ڈھونے والی۔ ایک اور مطلب مفسّرین نے اس کا یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ آخرت میں اُس کا حال ہوگا، یعنی وہ لکڑیاں لا لا کر اُس آگ میں ڈالے گی جس میں ابو لہب جل رہا ہو گا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور اس کی بیوی کو بھی۔ جو ایندھن اٹھانے والی ہوگی۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 609
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 4{ وَّامْرَاَتُہٗ } ”اور اس کی بیوی کو بھی۔“ اس کی بیوی بھی حضور ﷺ کی دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی تھی۔ اس کا نام اَروَہ اور کنیت اُمّ جمیل تھی اور اس کے دل میں حضور ﷺ کی عداوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ حضور ﷺ کی دشمنی کے اعتبار سے ان دونوں کے بارے میں جو تفصیلات ملتی ہیں ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کون حضور ﷺ کا بڑا دشمن تھا۔ قبل ازیں سورة التحریم کے آخری رکوع میں ہم خواتین کے کردار کی تین مثالوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ پہلی مثال میں حضرت لوط اور حضرت نوح - کی کافر بیویوں کا ذکر ہے۔ یہ بہترین شوہروں کے گھروں میں بدترین بیویوں کی مثال ہے۔ پھر فرعون کی بیوی آسیہ رض کا ذکر گویا بدترین شوہر کے ہاں بہترین بیوی کی مثال ہے۔ اس کے بعد حضرت مریم سلامٌ علیہا کے حوالے سے ایک ایسی خاتون کی مثال بیان کی گئی ہے جو خود بھی نیک فطرت تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی میں انہیں ماحول بھی ایسا ملا جو نیکی اور پاکیزگی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ گویا وہاں سورة التحریم میں خواتین کے حوالے سے تین قسم کی ممکنہ صورتوں کی مثالوں کا ذکر تو ہوچکا ہے ‘ جبکہ اس سلسلے کی چوتھی ممکنہ صورت کا ذکر یہاں اس سورت میں ہوا ہے ‘ یعنی شوہر بھی بدترین اور بیوی بھی بدترین۔ { حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ۔ } ”جو ایندھن اٹھانے والی ہوگی۔“ روایات میں چونکہ ذکر ملتا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی بہت بخیل تھے ‘ اس لیے بعض لوگوں نے ان الفاظ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ عورت جنگل سے لکڑیاں ُ چن کر لایا کرتی تھی ‘ حالانکہ یہ بات خلافِ عقل و قیاس ہے۔ ابولہب نہ صرف بہت مال دار تھا بلکہ معاشرتی لحاظ سے وہ اپنے زمانے کا بہت بڑا منصب دار بھی تھا۔ وہ حرم کے محکمہ مالیات کا انچارج تھا اس حیثیت سے اس پر اگرچہ یہ الزام بھی تھا کہ اس نے حرم کے خزانے سے سونے کے دو ہرن چرالیے تھے۔ چناچہ یہ دونوں میاں بیوی اپنے معاشرے کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معاشرے کی ایکوی آئی پی خاتون ‘ بنوہاشم کے رئیس کی بیوی ‘ جسے گویا خاتونِ اوّل کا سا درجہ حاصل تھا ‘ کے بارے میں جنگل سے لکڑیاں چن کر سرپر گٹھڑ لاد کر لانے والی بات بالکل قرین قیاس نہیں۔ چناچہ اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اس عورت کی حرکتیں جہنم کی آگ کا ایندھن اکٹھا کرنے اور اپنے شوہر کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہیں۔ جب یہ اپنے شوہر کے ساتھ جہنم میں جھونکی جائے گی اس وقت اس کا حال اس مجرم کا سا ہوگا جو اپنے جلانے کا ایندھن خود اٹھائے ہوئے ہو۔