- تَبَّتْٹوٹ گئے
- یَدَاۤدونوں ہاتھ
- اَبِیْابو
- لَهَبٍلہب کے
- وَّتَبَّاور وہ ہلاک ہوا
Surah 111 · word by word
Surah 111, ayah 1
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
اس شخص کا اصل نام عبد العُزّیٰ تھا ، اور اسے ابو لہب اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا سرخ و سفید تھا۔ لہب آگ کے شُعلے کو کہتے ہیں اور ابو لہب کے معنی ہیں شُعلہ رو۔ یہاں اُس کا ذِکر اُس کے نام کے بجائے اُس کی کُنّیت سے کرنے کے کئی وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زیادہ تر اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنی کنیت ہی سے معروف تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کا نام عبد العُزّیٰ (بندۂ عُزّیٰ) ایک مشرکانہ نام تھا اور قرآن میں یہ پسند نہیں کیا گیا کہ اُسے اِس نام سے یاد کیا جائے۔ تیسرے یہ کہ اُس کا جو انجام اِس سورہ میں بیان کیا گیا ہے اُس کے ساتھ اُس کی یہ کنیت ہی زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبْ کے معنی بعض مفسرین نے ”ٹوٹ جائیں ابولہب کے ہاتھ“ بیان کیے ہیں اور وَتَبَّ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ”وہ ہلاک ہو جائے“ یا ”وہ ہلاک ہو گیا“۔ لیکن درحقیقت یہ کوئی کوسنا نہیں ہے جو اُس کو دیا گیا ہو، بلکہ ایک پیشنگوئی ہے جس میں آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں میں بیان کیا گیا ہے ، گویا اُس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے وہ ہو چکی ۔ اور فی الواقع آخر کار وہی کچھ ہوا جو اِس سورہ میں چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد ظاہر ہے کہ جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں ہے، بلکہ کسی شخص کا اپنے اُس مقصد میں قطعی ناکام ہو جانا ہے جس کے لیے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا ہو۔ اور ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو زک دینے کے لیے واقعی اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔ لیکن اِس سورہ کے نزول پر سات آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں قریش کے اکثر و بیشتر وہ بڑے بڑے سردار مارے گئے جو اسلام کی دشمنی میں ابو لہب کے ساتھی تھے ۔ مکّہ میں جب اِس شکست کی خبر پہنچی تو اُس کو اتنا رنج ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ پھر اس کی موت بھی نہایت عبرتناک تھی۔ اُسے عَدَسَہ (Malignant Pustule) کی بیماری ہو گئی جس کی وجہ سے اُس کے گھر والوں نے اُسے چھوڑ دیا، کیونکہ انہیں چھُوت لگنے کا ڈر تھا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور اس کی بو پھیلنے لگی۔ آخر کار جب لوگوں نے اس کے بیٹوںً کو طعنے دینے شروع کیے تو ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کچھ حبشیوں کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور اُنہی مزدوروں نے اس کو دفن کیا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں پھینکا اور اوپر سے مٹی پتھر ڈال کر اسے ڈھانک دیا۔ اُس کی مزیداور مکمّل شکست اِس طرح ہوئی کہ جس دین کی راہ روکنے کے لیے اُس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا، اسی دین کو اس کی اولاد نے قبول کیا۔ سب سے پہلے اس کی بیٹی درّہ ہجرت کر کے مکّہ سے مدینے پہنچیں اور اسلام لائیں۔ پھر فتح مکّہ کے موقع پر اُس کے دونوں بیٹے عُتْبہ اور مُعَتَّب حضر ت عباس ؓ کی وساطت سے حضور ؐ کے سامنے پیش ہوئے اور ایمان لا کر انہوں نے آپ ؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ و برباد ہوگیا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 609
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 110:3, 111:1, 111:2)
آیت 3{ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ } ”تو پھر آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے ‘ اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔“ { اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا۔ } ”یقیناوہ بہت توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ یعنی ابھی تو آپ ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور فریضہ رسالت کے سلسلے میں بہت سی مشقتیں اٹھانی ہیں اور جنگ و قتال کے مراحل سے گزرنا ہے ‘ لیکن جب آپ ﷺ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں یعنی اللہ کا دین غالب ہوجائے تو آپ ﷺ ہمہ وقت ‘ ہمہ تن اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہوجایئے گا۔ نوٹ کیجیے ! سورة الانشراح کی آخری آیات میں بھی اسی اسلوب و انداز میں بالکل ایسا ہی حکم دیا گیا ہے۔