- یٰۤاِبْرٰهِیْمُاے ابراہیم
- اَعْرِضْاعراض ہو تو۔ چھوڑ دو
- عَنْسے
- هٰذَا ۚاسے
- اِنَّهٗبیشک وہ
- قَدْتحقیق
- جَآءَآ چکا ہے
- اَمْرُحکم۔ فیصلہ
- رَبِّكَ ۚتیرے رب کا
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- اٰتِیْهِمْآنے والا ہے ان کو
- عَذَابٌایک عذاب
- غَیْرُنہ
- مَرْدُوْدٍپھیرا جانے والا
Surah 11 · word by word
Surah 11, ayah 76
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
(آخرِ کار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا) ”اے ابراہیم ؑ ، اس سے باز آجاوٴ، تمہارے ربّ کا حکم ہو چکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھر سکتا۔“1
Footnotes (the author's commentary)
-
اس سلسلہ بیان میں حضرت ابراہیم ؑ کا یہ واقعہ ، خصوصًا قومِ لوطؑ کے قصّے کی تمہید کے طور پر ، بظاہر کچھ بے جوڑ سا محسوس ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت میں یہ اُس مقصد کے لحاظ سے نہایت بر محل ہے جس کے لیے پچھلی تاریخ کے یہ واقعات یہاں بیان کیے جا رہے ہیں۔ اس کی مناسبت سمجھنے کے لیے حسبِ ذیل دو باتوں کو پیشِ نظر رکھیے: (1) مخاطب قریش کے لوگ ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ ہی سے تمام عرب کے پیرزادے، کعبۃ اللہ کے مجاور اور مذہبی و اخلاقی او ر سیاسی و تمدنی پیشوائی کے مالک بنے ہوئے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ہم پر خدا کا غضب کیسے نازل ہو سکتا ہے کہ جبکہ ہم خدا کے اُس پیارے بندے کی اولاد ہیں اور وہ خدا کےدربار میں ہماری سفارش کرنے کو موجود ہے۔ اس پندارِ غلط کو توڑنے کے لیے پہلے تو انہیں یہ منظر دکھایا گیا ہے کہ حضرت نوح ؑ جیسا عظیم الشان پیغمبر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر گوشے کو ڈوبتے دیکھ رہا ہے اور تڑپ کر خدا سے دعا کرتا ہے کہ اس کے بیٹے کو بچا لیا جائے مگر صرف یہی نہیں کہ اُس کی سفارش بیٹے کے کچھ کام نہیں آتی ، بلکہ اس سفارش پر باپ کو اُلٹی ڈانٹ سننی پڑتی ہے ۔ اس کے بعد اب یہ دوسرا منظر خود حضرت ابراہیم ؑ کا دکھایا جاتا ہے کہ ایک طرف تو ان پر بے پایاں عنایات ہیں اور نہایت پیا ر کے انداز میں ان کا ذکر ہو رہا ہے ، مگر دوسری طرف جب وہی ابراہیم ؑ خلیل انصاف کے معاملہ میں دخل دیتے ہیں تو ان کے اصرار و الحاح کے باوجود اللہ تعالیٰ مجرم قوم کے معاملے میں ان کی سفارش کو رد کر دیتا ہے۔ (2) اس تقریر میں یہ بات بھی قریش کے ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ قانون ِ مکافات جس سے لوگ بالکل بے خوف اور مطمئن بیٹھے ہوئے تھے، کس طرح تاریخ کے دوران میں تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ ظاہر ہوتا رہا ہے اور خود ان کے گردوپیش اس کے کیسے کھلے کھلے آثار موجود ہیں۔ ایک طرف حضرت ابراہیمؑ ہیں جو حق و صداقت کی خاطر گھر سے بے گھر ہو کر ایک اجنبی ملک میں مقیم ہیں اور بظاہر کوئی طاقت ان کے پاس نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے حسن ِ عمل کا یہ پھل ان کو دیتا ہے کہ بانجھ بیوی کے پیٹ سے بُڑھاپے میں اسحاق ؑ پیدا ہوتے ہیں، پھر ان کے ہاں یعقوب ؑ کی پیدائش ہوتی ہے، اور ان سے بنی اسرائیل کی وہ عظیم الشان نسل چلتی ہے جس کی عظمت کے ڈنکے صدیوں تک اُسی فلسطین و شام میں بجتے رہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ ایک بے خانماں مہاجر کی حیثیت سے آکر آباد ہوئے تھے۔ دوسری طرف قوم لوطؑ ہے جو اسی سرزمین کے ایک حصہ میں اپنی خوشحالی پر مگن اور اپنی بدکاریوں میں مست ہے۔ دور دور تک کہیں بھی اس کو اپنی شامتِ اعمال کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ اور لوطؑ کی نصیحتوں کو وہ چٹکیوں میں اڑا رہے ہیں ۔ مگر جس تاریخ کو ابراہیم ؑ کی نسل سے ایک بڑی اقبال مند قوم کے اُٹھائَ جانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے ، ٹھیک وہی تاریخ ہے جب اِس بدکار قوم کو دنیا سے نیست و نابود کرنے کا فرمان نافذ ہوتا ہے اور وہ ایسے عبرتناک طریقہ سے فنا کی جاتی ہے کہ آج اس کی بستیوں کا نشان کہیں ڈھونڈے نہیں ملتا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اے ابراہیم چھوڑیے اس معاملے کو اب تو آپ کے رب کا فیصلہ آچکا ہے اور ان پر وہ عذاب آکر ہی رہے گا جسے لوٹایا نہیں جاسکے گا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 230
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 11:75, 11:76)
یہاں حضرت ابراہیم کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے اسی وجہ سے آپ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔