Surah 11 · word by word

Surah 11, ayah 3

  1. وَّاَنِاور یہ کہ
  2. اسْتَغْفِرُوْاتم بخشش مانگو
  3. رَبَّكُمْاپنے رب سے
  4. ثُمَّپھر
  5. تُوْبُوْۤاتوبہ کرو
  6. اِلَیْهِاس کی طرف
  7. یُمَتِّعْكُمْفائدہ دے گا تم کو
  8. مَّتَاعًافائدہ
  9. حَسَنًااچھا
  10. اِلٰۤیتک
  11. اَجَلٍوقت
  12. مُّسَمًّیمقرر
  13. وَّیُؤْتِاور دے گا
  14. كُلَّہر
  15. ذِیْصاحب
  16. فَضْلٍفضل کو
  17. فَضْلَهٗ ؕفضل اپنا
  18. وَاِنْاور اگر
  19. تَوَلَّوْاتم منہ پھیرو گے
  20. فَاِنِّیْۤتو بیشک میں
  21. اَخَافُمیں ڈرتا ہوں
  22. عَلَیْكُمْتمہارے بارے میں
  23. عَذَابَعذاب سے
  24. یَوْمٍدن کے
  25. كَبِیْرٍبڑے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور یہ کہ تم اپنے ربّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ تو وہ ایک مدّت ِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا1اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔2 لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی دنیا میں تمہارے ٹھیرنے کے لیے جو وقت مقرر  ہے اس وقت تک وہ تم کو بُری طرح نہیں بلکہ اچھی طرح رکھے گا۔ اس کی نعمتیں تم پر برسیں گی۔ اس کی برکتوں سے سرفراز ہوگے۔ خوش حال و فارغ البال رہو گے۔ زندگی میں امن اور چین نصیب ہوگا ۔ ذلت وخواری کے ساتھ نہیں بلکہ عزت و شرف کے ساتھ جیو گے۔ یہی مضمون دوسرے موقع  پر اس طرح ارشاد ہوا ہے کہ   مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْ مِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰو ۃً طَیِّبَۃً (النحل ۔ آیت 97) ” جو شخص بھی ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت، ہم اس کو پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے“۔ اس سے لوگوں کی اُس غلط فہمی کو رفع کرنا مقصود ہے جو شیطان نے ہر نادان دنیا پرست آدمی کو کان میں پھونک رکھی ہے کہ خدا ترسی اور راستبازی اور احساسِ ذمہ داری کا طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کی آخرت  بنتی ہو تو بنتی ہو،  مگر دنیا ضرور بگڑ جاتی ہے۔ اور یہ کہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں فاقہ مستی و خستہ حالی کے سوا کوئی زندگی نہیں ہے۔  اللہ تعالیٰ اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ اس راہِ راست کو اختیار کرنے سے تمہاری صرف آخرت ہی نہیں بلکہ دنیا بھی بنے گی۔ آخرت کی طرح اس دنیا  کی حقیقی عزت و کامیابی بھی ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو سچی خدا پرستی  کے ساتھ صالح زندگی بسر کریں۔ جن کے اخلاق پاکیزہ ہوں ، جن کے اخلاق پاکیزہ ہوں، جن کے معاملات درست ہوں ، جن پر ہر معاملہ میں بھروسہ کیا جا سکے، جن سے ہر شخص بھلائی کا متوقع ہو، جن سے کسی انسان کو یا کسی قوم کو شر کا اندیشہ نہ ہو۔  اس کے علاوہ ”مَتَاعٌ حَسَنٌ“  کے الفاظ  میں ایک اور پہلو ہے جو نگاہ  سے اوجھل نہ رہ جانا چاہیے۔ دنیا کا سامانِ زیست قرآن مجید کی رو سے دو قسم کا ہے۔ ایک وہ سروسامان ہے جو خدا سے پھرے ہوئے لوگوں کو فتنے میں ڈالنے کے لیے دیا جاتا ہے اور جس سے دھوکا کھا کر ایسے لوگ اپنے آپ کو دنیا پرستی و خدا فراموشی میں اور زیادہ گم کر دیتے ہیں۔ یہ بظاہر تو نعمت ہے مگر  بباطن خدا کی پھٹکار اور اس کے عذاب کا   پیش خیمہ  ہے۔ قرآن مجید اس کو ”مَتَاعٌ غُرُوْرٌ“ کے الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔ دوسرا  وہ سروسامان  ہے جس سے انسان خوشحال اور قوی بازو ہو کر اپنے خدا کا اور زیادہ شکر گزار بنتا ہے ، خدا اور اس کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق زیادہ اچھی طرح ادا کرتا ہے ، خدا کے  دیے ہوئے وسائل سے طاقت پا کر دنیا میں کیر و صلاح کی ترقی اور شروفساد کے استیصال کے لیے زیادہ کار گر کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ قرآن کی زبان میں ”مَتَاعٌ حَسَنٌ“ ہے، یعنی ایسا اچھا سامانِ زندگی جو محض عیش دنیا ہی پر ختم  نہیں ہو جاتا  بلکہ نتیجہ میں عیش آخرت کا بھی ذریعہ  بنتا ہے۔

  2. یعنی جو شخص اخلاق و اعمال میں جتنا بھی آگے بڑھے گا اللہ اس کو اتنا ہی بڑا درجہ عطا کرے گا۔ اللہ کے ہاں کسی کی خوبی پر پانی نہیں پھیرا جاتا۔ اس کے ہاں جس طرح برائی کی قدر نہیں ہے اسی طرح بھلائی کی ناقدری بھی نہیں ہے۔ اس کی سلطنت  کا دستور یہ نہیں ہے کہ اسپ  تازی  شدہ مجروح بزیر پالاں طوق زریں ہمہ در گردن خرمی بینم! وہاں تو جو شخص بھی اپنی سیرت و کردار سے اپنے آپ کو جس فضیلت کا مستحق ثابت کردے گا وہ فضیلت اس کو ضرور دی جائےگی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 221

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution