- وَلَاۤاور نہ
- اَنْتُمْتم
- عٰبِدُوْنَعبادت کرنے والے ہو
- مَاۤجس کی
- اَعْبُدُمیں عبادت کرتا ہوں
Surah 109 · word by word
Surah 109, ayah 3
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
اصل الفاظ ہیں مَآ اَعْبُدُ۔ عربی زبان میں مَا کا لفظ عمو مًا بے جان یا بے عقل چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ذی عقل ہستیوں کے لیے مَنْ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اِس بنا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں مَنْ اَعْبُدُ کہنے کے بجائے مَآ اَعْبُدُ کیوں کہا گیا ہے؟ اس کے چار جواب عام طور پر مفسرین نے دیے ہیں۔ ایک یہ کہ مَا بمعنیٰ مَنْ ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں مَا بمعنی اَلَّذِیْ (یعنی جو یا جس) ہے۔ تیسرے یہ کہ دونوں فقروں میں مَا مصدر کے معنی میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ عبادت نہیں کرتا جو تم کرتے ہو، یعنی مشرکانہ عبادت، اور تم وہ عبادت نہیں کرتے ہو جو میں کرتا ہوں ، یعنی مُوحِّدانہ عبادت۔ چوتھے یہ کہ پہلے فقرے میں چونکہ مَا تَعْبُدُوْنَ فرمایا گیا ہے اس لیے دوسرے فقرے میں کلام کی مناسبت برقرار رکھتے ہوئے مَآ اَعْبُدُ فرمایا گیا ہے ، لیکن دونوں جگہ صرف لفظ کی یکسانی ہے، معنی کی یکسانی نہیں ہے ، اور اس کی مثالیں قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی ملتی ہیں۔ مثلاً سُورۂ بقرہ(آیت 194) میں فرمایا گیا ہے فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَا عْدَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ” جو تم پر زیادتی کرے اس پر تم ویسی ہی زیادتی کر و جیسی اس نے تم پر کی ہے۔“ ظاہر ہے کہ زیادتی کا ویسا ہی جواب جیسی زیادتی کی گئی ہو ، زیادتی کی تعریف میں نہیں آتا ، مگر محض کلام کی یکسانی کے لیے جوابًا زیادتی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اِسی طرح سُورۂ توبہ (آیت ۶7) میں ارشاد ہوا ہے نَسُوْا اللہ َ فَنَسِیَھُمْ ”وہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ اُن کو بھول گیا۔“ حالانکہ اللہ بھُولتا نہیں ہے اور مقصُودِ کلام یہ ہے کہ اللہ نے ان کو نظر انداز فرما دیا، لیکن اُن کے نِسیان کے جواب میں اللہ کے نسیان کا لفظ محض کلام کی یکسانی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ چاروں تاویلات اگرچہ ایک ایک لحاظ سے درست ہیں اور عربی زبان میں یہ سب معنی لینے کی گنجائش ہے، لین ان میں سے کسی سے بھی وہ اصل مدّعا واضح نہیں ہوتا جس کے لیے مَنْ اَعْبُدُ کہنے کے بجائے مَآ اَعْبُدُ کہا گیا ہے۔ دراصل عربی زبان میں کسی شخص کے لیے جب مَنْ کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مقصود اُس کی ذات کے متعلق کچھ کہنا یا پوچھنا ہوتا ہے ، اور جب مَا کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مقصود اُس کی صفت کے بارے میں استفسار یا اظہار خیال ہوتا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا اردو زبان میں جب ہم کسی شخص کے متعلق پوچھتے ہیں کہ یہ صاحب کون ہیں تو مقصد اس شخص کی ذات سے تعارف حاصل کرنا ہوتا ہے مگر جب ہم کسی شخص کے متعلق پوچھتے ہیں کہ یہ صاحب کیا ہیں؟ تو اس سے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ مثلاً وہ فوج کا آدمی ہے تو فوج میں اس کا منصب کیا ہے؟ اور کسی درس گاہ سے تعلق رکھتا ہے تو اِس میں ریڈر ہے؟ لکچرر ہے؟ پروفیسر ہے؟ کس علم یا فن کا استاد ہے؟ کیا ڈگریاں رکھتا ہے؟ وغیرہ پس اگر اس آیت میں یہ کہا جاتا کہ لَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَنْ اَعْبُدُ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تم اس ہستی کی عبادت کرنے والے نہیں ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں اور اس کے جواب میں مشرکین اور کفار یہ کہہ سکتے تھے کہ اللہ کی ہستی کو تو ہم مانتے ہیں اور اس کی عبادت بھی ہم کرتے ہیں۔ لیکن جب یہ کہا گیا کہ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ تو اس کا مطلب یہ ہو ا کہ جن صفات کے معبود کی عبادت میں کرتا ہوں اُن صفات کے معبود کی عبادت کرنے والے تم نہیں ہو۔ اور یہی وہ اصل بات ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین منکرینِ خدا کے سوا تمام اقسام کے کفار کے دین سے قطعی طور پر الگ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ آپؐ کا خدا اُن سب کے خدا سے بالکل مختلف ہے۔ اُن میں سے کسی کا خدا ایسا ہے جس کو چھ دن میں دنیا پیدا کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کرنے کی ضرورت پیش آئی، جو ربُّ العالمین نہیں بلکہ ربِّ اسرائیل ہے، جس ایک نسل کے لوگوں سے ایسا خاص رشتہ ہے جو دوسرے انسانوں سے نہیں ہے، جو حضرت یعقوبؑ سے کشتی لڑتا ہے اور ان کو گرا نہیں سکتا، جو عُزَیر نامی ایک بیٹا بھی رکھتا ہے۔ کسی کا خدا یسوع مسیح نامی ایک اِکلوتے بیٹے کا باپ ہے اور وہ دوسروں کے گناہوں کا کفارہ بنانے کے لیے اپنے بیٹے کو صلیب پر چڑھوا دیتا ہے۔ کسی کا خدا بیوی بچے رکھتا ہے ، مگربے چارے کے ہاں صرف بیٹیاں ہی بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کسی کا خدا انسانی شکل میں روپ دھارتا ہے اور زمین پر انسانی جسم میں رہ کر انسانوں کے سے کام کرتا ہے۔ کسی کا خدا محض واجب الوجود ، یا علت الْعِلَل یا علّتِ اولیٰ(First Cause ) ہے، کائنات کے نظام کو ایک مرتبہ حرکت دے کر الگ جا بیٹھا ہے، اس کے بعد کائنات لگے بندھے قوانین کے مطابق خود چل رہی ہے اور انسان کا اُس سے اور اُس کا انسان سے اب کوئی تعلق نہیں ہے۔ غرض خدا کو ماننے والے کفار بھی درحقیقت اُس خدا کو نہیں مانتے جو ساری کائنات کا ایک ہی خالق، مالک، مدبِّر، منتظم اور حاکم ہے۔ جس نے نظام کائنات کو صرف بنایا ہی نہیں ہے بلکہ ہر آن وہی اس کو چلا رہا ہے اور اس کا حکم ہر وقت یہاں چل رہا ہے۔ جو ہر عیب ، نقص ، کمزوری اور غلطی سے منزَّہ ہے۔ جو ہر تشبیہ اور تجسیم سے پاک، ہر نظیرو مَثِیل سے مُبَرّا اور ہر ساتھی اور ساجھی سے بے نیاز ہے۔ جس کی ذات، صفات ، اختیارات اور استحقاقِ معبودیّت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ ایک ایک فرد کے ساتھ رزّاقی اور ربوبیت اور رحمت اور نگہبانی کا براہِ راست تعلق ہے۔ جو دعائیں سننے والا اور اُن کا جواب دینے والا ہے۔ جو موت اور زندگی، نفع اور ضرر اور قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کے جملہ اختیارات کا تنہا مالک ہے۔ جو اپنی مخلوق کو صرف پالتا ہی نہیں ہے بلکہ ہر ایک کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق ہدایت بھی دیتا ہے۔ جس کے ساتھ ہمارا تعلق صرف یہی نہیں ہے کہ وہ ہمارا معبود ہے اور ہم اُس کی پرستش کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے ہمیں امر و نہی کے احکام دیتا ہے اور ہمارا کام اس کے احکام کی اطاعت کرنا ہے۔ جس کے سامنے ہم اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہیں ، جو مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ اٹھانے والا ہے اور ہمارے اعمال کا محاسبہ کر کے جزا اور سزا دینے والا ہے۔ اِن صفات کے معبود کی عبادت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کی پیروی کرنے والوں کے سوا دنیا میں کوئی بھی نہیں کر رہا ہے۔ دوسرے اگر خدا کی عبادت کر بھی رہے ہیں تو اصلی اور حقیقی خدا کی نہیں بلکہ اس خدا کی عبادت کر رہے ہیں جو اُن کا اپنا اخترا ع کردہ ایک خیالی خدا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 609
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 3{ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ۔ } ”اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔“ اس آیت میں ان کے تمام معبودوں کی نفی کردی گئی ہے۔ وہ لوگ اللہ کی پرستش تو کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے دیوی دیوتائوں کی پوجا کے بھی قائل تھے۔ اس پس منظر میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ جس طرح میں خالص اللہ کی بندگی کرتا ہوں ‘ اس طرح تم لوگ صرف اور صرف اس کی پرستش نہیں کرتے ہو۔ چناچہ تمہاری اس انداز کی پرستش تمہارے اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش تو ہوسکتی ہے ‘ ایک اللہ کی پرستش نہیں ہوسکتی۔