- فَذٰلِكَپس یہ وہ
- الَّذِیْشخص ہے
- یَدُعُّجو دھکے دیتا ہے
- الْیَتِیْمَیتیم کو
Surah 107 · word by word
Surah 107, ayah 2
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
وہی تو ہے1 جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے،2
Footnotes (the author's commentary)
-
اصل میں فَذٰلِکَ الَّذِی فرمایا گیا ہے۔ اس فقرے میں ف ایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ”اگر تم نہیں جانتے تو تمہیں معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو“ یا پھر یہ اِس معنی میں ہے کہ ”اپنے اِس انکار ِ آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو“۔
-
اصل میں یَدُعُّ الْیَتِیْمَ کا فقرہ استعملا ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ یتیم کا حق مار کھا تا ہے اور اس کے باپ کو چھوڑی ہوئی میراث سے بے دخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یتیم اگر اس سے مدد مانگنے آتا ہے تو رحم کھانے کے بجائے اسے دَھتکار دیتا ہے اور پھر بھی اگر وہ اپنی پریشان حالی کی بنا پر رحم کی امید لیے ہوئے کھڑا رہے تو اسے دھکّے دے کر دفع کر دیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ یتیم پر ظلم ڈھاتا ہے ، مثلاً اس کے گھر میں اگر اس کا اپنا ہی کوئی رشتہ دار یتیم ہو تو اس کے نصیب میں سارے گھر کی خدمتگاری کرنے اور بات بات پر جھڑکیاں اور ٹھوکریں کھانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ علاوہ بریں اِس فقرے میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہیں کہ اُس شخص سے کبھی کبھار یہ ظالمانہ حرکت سرزد نہیں ہوجاتی، بلکہ اس کی عادت اور اس کا مستقل رویّہ یہی ہے۔ اُسے یہ احساس ہی نہیں ہے کہ یہ کوئی بُرا کام ہے جو وہ کر رہا ہے۔ بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ یہ روش اختیار کیے رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یتیم ایک بےبس اور بے یار و مددگار مخلوق ہے ، اس لیے کوئی ہرج نہیں اگر اس کا حق مار کھایا جائے، یا اسے ظلم و ستم کا تختہ ٔ مشق بنا کر رکھا جائے ، یا وہ مدد مانگنے کے لیے آئے تو اُسے دَھتکار دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا عجیب واقعہ قاضی ابو الحسن لماوَرْدِی نے اپنی کتاب اَعلامُ النُّبُوَّۃ میں لکھا ہے۔ ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا۔ وہ بچہ ایک روز اِس حالت میں اُس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے۔ اوراس نے التجا کی کہ اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں سے وہ اُسے کچھ دیدے۔ مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجّہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کا ر مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جا کر شکایت کر، وہ ابو جہل سے سفارش کر کے تجھے تیرا مال دلوا دیں گے۔ بچہ بے چارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضور ؐ سے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اُسے کس غرض کے لیے یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ وہ سیدھا حضور ؐ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ ؐ سے بیان کیا۔ آپ ؐ اُسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابو جہل کے ہاں تشریف لے گئے ۔ آپؐ کو دیکھ کر اُس نے آپ ؐ کا استقبال کیا اور جب آپؐ نے فرمایا کہ اِس بچے کا حق اِسے دے دو۔ تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لا کر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں ، اِن دونوں کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے ۔ وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کر رہے تھے۔ مگر جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران ہو کر ابو جہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے ۔ اس نے کہا خدا کی قسم ، میں نے اپنا دین نہیں چھوڑا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی۔ اِس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں عرب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں کا یتیموں اور دوسرے بے یار و مددگار لوگوں کے ساتھ کیا سلوک تھا ، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتاہ ے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ کے اِس اخلاق کا آپ کے بدترین دشمنوں تک پر کیا رعب تھا۔ اِسی قِسم کا ایک واقعہ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن ، جلد سوم ،صفحہ 14۶ پر نقل کر چکے ہیں جو حضور ؐ کے اُس زبردست اخلاقی رعب پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے کفارِ قریش آپ کو جادوگر کہتے تھے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 608
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.