- وَقَالَاور کہا
- مُوْسٰیموسیٰ نے
- رَبَّنَاۤاے ہمارے رب
- اِنَّكَبیشک تو نے
- اٰتَیْتَدیا تو نے
- فِرْعَوْنَفرعون کو
- وَمَلَاَهٗاور اس کے سرداروں کو
- زِیْنَةًزینت کا سامان
- وَّاَمْوَالًااور مال
- فِیمیں
- الْحَیٰوةِزندگی
- الدُّنْیَا ۙدنیا کی
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- لِیُضِلُّوْاتاکہ وہ بھٹکائیں
- عَنْسے
- سَبِیْلِكَ ۚتیرے راستے
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- اطْمِسْمٹا دے
- عَلٰۤیکو
- اَمْوَالِهِمْان کے مالوں
- وَاشْدُدْاور سخت کردے
- عَلٰیاوپر
- قُلُوْبِهِمْان کے دلوں کو
- فَلَاتو نہ لائیں
- یُؤْمِنُوْاوہ ایمان
- حَتّٰییہاں تک کہ
- یَرَوُاوہ دیکھ لیں
- الْعَذَابَعذاب
- الْاَلِیْمَدردناک
Surah 10 · word by word
Surah 10, ayah 88
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
موسیٰؑ نے دعا1کی”اے ہمارے ربّ ، تُو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دُنیا کی زندگی میں زینت2 اور اموال3 سے نواز رکھا ہے۔ اے ربّ ، کیا یہ اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے ربّ ، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مُہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔“4
Footnotes (the author's commentary)
-
اُوپر کی آیات حضرت موسیٰ کی دعوت کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور یہ دعا زمانہ ٔ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے کی ہے۔ بیچ میں کئی برس کا طویل فاصلہ ہے جس کی تفصیلات کی یہاں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں اس بیچ کے دور کا بھی مفصّل حال بیا ن ہواہے۔
-
یعنی ٹھاٹھ ، شان و شوکت ور تمدّن و تہذیب کی وہ خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا اُن پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔
-
یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں اور کن کے فقدان کی وجہ سے اہلِ حق اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔
-
جیسا کہ ابھی ہم بتا چکے ہیں، یہ دعا حضرت موسیٰ نے زمانۂ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی اور ا س وقت کی تھی جب پے دَر پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہو جانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے ۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بد دعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کر نے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 218
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.