Surah 10 · word by word

Surah 10, ayah 59

  1. قُلْکہہ دیجیے
  2. اَرَءَیْتُمْکیا سوچا تم نے
  3. مَّاۤجو
  4. اَنْزَلَنازل کیا
  5. اللّٰهُاللہ نے
  6. لَكُمْتمہارے لیے
  7. مِّنْمیں سے
  8. رِّزْقٍرزق
  9. فَجَعَلْتُمْتو بنا لیا تم نے
  10. مِّنْهُاس میں سے
  11. حَرَامًاحرام
  12. وَّحَلٰلًا ؕاور حلال
  13. قُلْکہہ دیجیے
  14. آٰللّٰهُکیا اللہ تعالیٰ نے
  15. اَذِنَاجازت دی تھی
  16. لَكُمْتم کو
  17. اَمْیا
  18. عَلَیاوپر
  19. اللّٰهِاللہ کے
  20. تَفْتَرُوْنَتم جھوٹ گھڑتے ہو

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اے نبی ؐ ، ان سے کہو”تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق1 اللہ نے تمہارے لیے اُتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا2“اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟3

Footnotes (the author's commentary)

  1. اُردو زبان میں رزق کا اطلاق صر ف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اُس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دستر خوان کی چھوٹی سی دنیامیں مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بنا پر لوگوں  نے کر ڈالی ہے۔ اس غلط فہمی میں جہلا اور عوام ہی  نہیں علما تک مبتلا ہیں۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں ہے بلکہ عطاء اور بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے ، حتیٰ کہ اولاد تک رزق ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں بکثرت راویوں کے نام رزق اور رُزَیق اور رزق اللہ ملتے ہیں جس کے معنی تقریبًا وہی ہیں جو اردو میں اللہ دیے کے معنی ہیں۔ مشہور دعا ہے ۔ مشہور دعا ہے اللھم ارنا الحق حقا  و ارزقنا اتباعہ، یعنی ہم پر حق واضح کر اور ہمیں اس کی اتباع کی توفیق دے ۔ محاورے میں بولا جاتا ہے رُزِقَ علمًا فلاں شخص کو علم دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حاملہ کے پیٹ میں ایک فرشتہ بھیجتا  ہے اور وہ پیدا ہونے والے کا رز ق اور اس کی مدت عمر اور اس کاکام لکھ دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں رزق سے مراد صرف وہ خوراک ہی نہیں ہے جو اس بچے کو آئندہ ملنے والی ہے بلکہ وہ سب کچھ ہے جو اسے دنیا میں دیا جائےگا۔ خود قرآن میں ہے وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ ، جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس رزق کو محض دستر خوان کی سرحدوں تک محدود سمجھنا اور یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالیٰ کو صرف اُن پابندیوں اور آزادیوں پر اعتراض ہے جو کھانے پینے کی چیزوں کے معاملہ میں لوگوں نے بطور خود اختیار کر لی ہیں، سخت غلطی ہے۔ اور یہ کوئی معمولی غلطی نہیں ہے ۔ اس کی بدولت خدا کے دین کی ایک بہت بڑی اصولی تعلیم لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ یہ اسی غلطی کا تو نتیجہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوّ حلت و  حرمت اور جواز و  عدم جواز کا معاملہ تو ایک دینی معاملہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن تمدن کے وسیع تر معاملات میں اگر یہ اصول طے کر لیا جائے کہ انسان خود اپنے لیے حدود مقرر کرنے کا حق رکھتا ہے ، اور اسی بنا ہر خدا اور اس کی کتاب سے بے نیاز ہو کر قانون سا زی کی جانے لگے ، تو عامی تو درکنار ، علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اور مفسرین ِ قرآن و شیوخِ حدیث تک کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ چیز بھی دین سے اسی طرح ٹکراتی ہے جس  طرح ماکولات و مشروبات میں شریعت الہٰی سے بے نیاز ہو کر جائز و ناجائز کے حدود بطور خود مقرر کر لینا۔

  2. یعنی تمہیں کچھ احساس بھِ ہے کہ یہ کتنا سخت باغیانہ جرم ہے جو تم کر رہے ہو۔ رزق اللہ کا ہے اور تم خود اللہ کے ہو، پھر یہ حق آخر تمہیں کہاں سے حاصل ہو گیا کہ اللہ کی املاک میں اپنے تصرف ، استعمال اور انتفاع کے لیے خود حد بندیاں مقرر کرو؟ کوئی نوکر اگر یہ دعویٰ کرے کہ آقا کے مال میں اپنے  تصرف اور اختیارات کی حدیں اسے خود مقرر کر لینے کا حق ہے اور اس معاملہ میں آقا کے کچھ بولنے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے تو اس کے متعلق  تمہاری کیا رائے ہے؟ تمہارا اپنا ملازم اگر تمہارے گھر میں اور تمہارے گھر کی سب چیزوں میں اپنے عمل اور استعمال کے لیے اس آزادی و خود مختاری کا دعویٰ کر ے تو تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرو گے؟ ۔۔۔۔۔۔ اُس نوکر کا معاملہ تو دوسرا ہی ہے جو سرے سے یہی نہیں مانتا کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور کوئی اس کا آقا بھی ہے اور یہ  کسی اور کا مال ہے جو اسکے تصرف میں ہے۔ اُس بد معاش غاصب کی پوزیشن یہاں زیرِ بحث نہیں ہے ۔ یہاں سوال اُس نوکر کی پوزیشن کا ہے جو خود مان رہا ہے کہ وہ کسی کا نوکر ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ مال اُسی کا ہے جس کا وہ نوکر ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس مال میں اپنے تصرف  کے حدود مقرر کر لینے کا حق مجھے آپ ہی حاصل ہے اور آقا سے کچھ ہوچھنے کی  ضرورت نہیں ہے۔

  3. یعنی تمہاری یہ پوزیشن صرف اسی صورت میں صحیح ہو سکتی  تھی کہ آقا  نے خود تم کو مجاز کر دیا ہوتا کہ میرے مال میں تم جس طرح چاہو تصرف کرو اپنے عمل اور استعمال کے حدود، قوانین  ، ضوابط سب کچھ بنا لینے کے جملہ حقوق میں نے تمہیں سونپے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تمہارے پاس واقعی اس کو کوئی سند ہے کہ آقا نے تم کو یہ اختیارات دے دیے ہیں؟ یا تم بغیر کسی سند کے یہ دعویٰ کر  رہے ہو کہ وہ تمام حقوق تمہیں سونپ چکا ہے؟ اگر پہلی صورت ہے تو براہِ کرم وہ سند دکھاؤ، ورنہ بصورت دیگر یہ کھلی بات ہے  کہ تم بغاوت پر جھوٹ اور افترا پردازی کا مزید جرم کر  رہے ہو۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

ان سے کہیے کہ تم نے کبھی غور کیا کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا ہے تم نے اس میں سے (ازخود) کسی کو حرام قرار دے دیا اور کسی کو حلال ! ان سے پوچھئے کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو ؟

Commentary

قُلْ ا آ للّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْنَ سورۃ الانعام میں ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جنہیں وہ لوگ ازخود حرام یا حلال قرار دے لیتے تھے۔ سورة المائدۃ میں بھی ان کی خود ساختہ شریعت کا ذکر ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 215

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution