- قُلْکہہ دیجیے
- یٰۤاَیُّهَااے
- النَّاسُلوگو
- اِنْاگر
- كُنْتُمْہو تم
- فِیْمیں
- شَكٍّکسی شک
- مِّنْسے
- دِیْنِیْمیرے دین
- فَلَاۤتو نہیں
- اَعْبُدُمیں عبادت کرتا
- الَّذِیْنَان ہستیوں کی
- تَعْبُدُوْنَجن کی تم عبادت کر رہے ہو
- مِنْکے
- دُوْنِسوا
- اللّٰهِاللہ
- وَلٰكِنْلیکن میں
- اَعْبُدُعبادت کرتا ہوں
- اللّٰهَاللہ کی
- الَّذِیْوہ جو
- یَتَوَفّٰىكُمْ ۖۚفوت کرے گا تم کو
- وَاُمِرْتُاور مجھ کو حکم دیا گیا
- اَنْکہ میں
- اَكُوْنَہوجاؤں
- مِنَمیں سے
- الْمُؤْمِنِیْنَایمان لانے والوں
Surah 10 · word by word
Surah 10, ayah 104
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ !1 کہہ دو کہ لوگو، ”اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سُن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اُسی خدا کر بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے۔2 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں
Footnotes (the author's commentary)
-
جس مضمون سے تقریر کی ابتدا کی گئی تھی اسی پر اب تقریر کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ تقابل کے لیے پہلے رکوع کے مضمون پر پھر ایک نظر ڈال لی جائے۔
-
متن میں لفظ یَتَوَفّٰکُمْ ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے ”جو تمہیں موت دیتا ہے“۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل روح ظاہر نہیں ہوتی ۔ اس ارشاد کی روح یہ ہے کہ ”وہ جس کے قبضے میں تمہاری جان ہے، جو تم پر ایسا مکمل حاکمانہ اقتدار رکھتا ہے کہ جب تک اس کی مرضی ہو اسی وقت تک تم جی سکتے ہو اور جس وقت اس کا اشارہ ہو جائے اسی آن تمہیں اپنی جان اُس جان آفرین کے حوالے کردینی پڑتی ہے، میں صرف اُسی کی پرستش اور اسی کی بندگی و غلامی اور اسی کی اطاعت و رمانبرداری کا قائل ہوں “۔ یہاں اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ مشرکینِ مکہ یہ مانتے تھے اور آج بھی ہر قسم کے مشرک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موت صرف اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے ، اس پر کسی دوسرے کا قابو نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جن بزرگوں کو یہ مشرکین خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھیراتے ہیں ان کے متعلق بھی وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خود اپنی موت کا وقت نہیں ٹال سکا ہے۔ پس بیان مدعا کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات میں سے کسی دوسری صفت کا ذکر کرنے کے بجائے یہ خاص صفت کہ”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے “ یہاں اس لیے انتخاب کی گئی ہے کہ اپنا مسلک بیان کر نے کے ساتھ ساتھ اس کے صحیح ہونے کی دلیل بھی دے دی جائے۔ یعنی سب کو چھوڑ کر میں اُس کی بندگی اس لیے کرتا ہوں کہ زندگی و موت پر تنہا اسی کا اقتدار ہے۔ اور اس کے سوا دوسروں کی بندگی آخر کیوں کروں جب کہ وہ خود اپنی زندگی وموت پر بھی اختیار نہیں رکھتے کجا کہ کسی اور کی زندگی و موت کے مختار ہوں۔ پھر کمال بلاغت یہ ہے کہ ”وہ مجھے موت دینے والا ہے“ کہنے کے بجائے”وہ جو تمہیں موت دیتا ہے“ فرمایا۔ اس طرح ایک ہی لفظ میں بیانِ مدعا، دلیل مدعا، اور دعوت الی المدعیٰ، تینوں فائدے جمع کر دیے گئے ہیں۔ اگر یہ فرمایا جا تا کہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جومجھے موت دینے والا ہے“ تو اس سے صرف یہی معنی نکلتے کہ”مجھے اس کی بندگی کرنی ہی چاہیے“۔ اب جو یہ فرمایاکہ”میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہیں موت دینے والا ہے“، تو اس سے یہ معنی نکلے کہ مجھے ہی نہیں ، تم کو بھی اُسی کی بندگی کرنی ہی چاہیے اورتم یہ غلطی کر رہے ہو کہ اس کے سوا د دوسروں کی بندگی کیے جاتے ہو۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
(اے نبی !) کہہ دیجیے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی شک ہے تو (جان لو کہ) میں ہرگز نہیں پوجنے والا ان کو جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا بلکہ میں تو پوجوں گا اسی اللہ کو جو تمہیں قبض کرے گا اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں سے ہوجاؤں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 220
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 104 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ اب سورة کے آخر میں فیصلہ کن انداز میں خطاب کیا جا رہا ہے کہ اے لوگو ! یہ جو تم مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہو ‘ کہ میں اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کرلوں یا تمہارے ساتھ کسی حد تک مداہنت compromise کا رویہ اختیار کروں ‘ تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں میرے دین کے بارے میں ابھی تک شک ہے۔ اگر ایسا ہے تو تم لوگ اپنا یہ شک دور کرلو :