Surah 1 · word by word

Surah 1, ayah 5

  1. اِیَّاكَصرف تیری
  2. نَعْبُدُہم عبادت کرتے ہیں
  3. وَاِیَّاكَاور صرف تجھ سے
  4. نَسْتَعِیْنُہم مدد چاہتے ہیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

ہم تیری ہی عبادت1 کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں2

Footnotes (the author's commentary)

  1. عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ (١)پوجا اور پرستش (2)اطاعت اور فرمانبرداری (3)بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں ،مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں ۔بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے ۔ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔

  2. یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں ۔ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا ربّ تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ،اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں ، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد پر ہمارا اعتماد ہے ۔ اسی بناپر ہم اپنی درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہورہے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے۔

Commentary

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ضمیر مخاطب ”کَ“ کو مقدمّ کرنے سے حصر کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ پھر عربی میں فعل مضارع ‘ زمانۂ حال اور مستقبل دونوں کے لیے آتا ہے ‘ لہٰذا میں نے ترجمہ میں ان باتوں کا لحاظ رکھا ہے۔ یہ بندے کا اپنے پروردگار سے عہد و پیمان ہے جسے میں نے hand shake سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا صحیح تصور ایک حدیث قدسی کی روشنی میں سامنے آتا ہے جسے میں بعد میں پیش کروں گا۔ یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرلینا تو آسان ہے کہ اے اللہ ! میں تیری ہی بندگی کروں گا ‘ لیکن اس فیصلہ کو نبھانا بہت مشکل ہے ؂یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا !اللہ کی بندگی کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کرنا آسان نہیں ہے ‘ لہٰذا بندگی کا عہد کرنے کے فوراً بعد اللہ کی پناہ میں آنا ہے کہ اے اللہ ! میں اس ضمن میں تیری ہی مدد چاہتا ہوں۔ فیصلہ تو میں نے کرلیا ہے کہ تیری ہی بندگی کروں گا اور اس کا وعدہ کر رہا ہوں ‘ لیکن اس پر کاربند رہنے کے لیے مجھے تیری مدد درکار ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے اذکارِ مأثورہ میں ہر نماز کے بعد آپ ﷺ کا ایک ذکر یہ بھی ہے : رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ 6 ”پروردگار ! میری مدد فرما کہ میں تجھے یاد رکھ سکوں ‘ تیرا شکر ادا کرسکوں اور تیری بندگی احسن طریقے سے بجا لاؤں“۔ تیری مدد کے بغیر میں یہ نہیں کرسکوں گا۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ جب بھی آپ اس آیت کو پڑھیں تو آپ کے اوپر ایک خاص کیفیت طاری ہونی چاہیے کہ پہلے کپکپی طاری ہوجائے کہ اے اللہ ! میں تیری بندگی کا وعدہ تو کر رہا ہوں ‘ میں نے ارادہ تو کرلیا ہے کہ تیرا بندہ بن کر زندگی گزاروں گا ‘ میں تیری جناب میں اس کا اقرار کر رہا ہوں ‘ لیکن اے اللہ ! میں تیری مدد کا محتاج ہوں ‘ تیری طرف سے توفیق ہوگی ‘ تیسیر ہوگی ‘ تعاون ہوگا ‘ نصرت ہوگی تب ہی میں یہ عہد و پیمان پورا کرسکوں گا ‘ ورنہ نہیں۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ آیت ایک ہے لیکن جملے دو ہیں۔ ”اِیَّاکَ نَعْبُدُ“ مکمل جملہ ہے ‘ جملہ فعلیہ انشائیہ ‘ اور ”اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ“ دوسرا جملہ ہے۔ بیچ میں حرف عطف واؤ ہے۔ اس سے پہلے اس سورة مبارکہ میں کوئی حرف عطف نہیں آیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ساری صفات اس کی ذات میں بیک وقت موجود ہیں۔ یہاں حرف عطف آگیا : ”اے اللہ ! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے“ اور ”تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے“۔ ہمارا سارا دار و مدار اور توکل تجھ ہی پر ہے۔ ہم تیری مدد ہی کے سہارے پر اتنی بڑی بات کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی بندگی کرتے رہیں گے۔ہم نماز وتر میں جو دعائے قنوت پڑھتے ہیں کبھی آپ نے اس کے مفہوم پر بھی غور کیا ہے ؟ اس میں ہم اللہ تعالیٰ کے حضور بہت بڑا اقرار کرتے ہیں : اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَنُثْنِیْ عَلَیْکَ الْخَیْرَ وَنَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ ‘ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ‘ اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّیْ وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ ‘ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشٰی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بالْکُفَّارِ مُلْحِقٌ”اے اللہ ! ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ‘ اور تجھ ہی سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ‘ اور ہم تجھ پر ایمان رکھتے ہیں ‘ اور تجھ پر توکل کرتے ہیں ‘ اور تیری تعریف کرتے ہیں ‘ اور تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور تیری ناشکری نہیں کرتے۔ اور ہم علیحدہ کردیتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں ہر اس شخص کو جو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ‘ اور ہم تیری طرف کوشش کرتے ہیں اور ہم حاضری دیتے ہیں۔ اور ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں ‘ بیشک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔“واقعہ یہ ہے کہ اس دعا کو پڑھتے ہوئے لرزہ طاری ہوتا ہے کہ کتنی بڑی بڑی باتیں ہم اپنی زبان سے نکال رہے ہیں۔ ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ ”اے اللہ ! ہم صرف تیری ہی مدد چاہتے ہیں“ لیکن نہ معلوم کس کس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور کس کس کے سامنے جبیں سائی کرتے ہیں ‘ کس کس کے سامنے اپنی عزت نفس کا دھیلا کرتے ہیں۔ پھر یہ الفاظ دیکھئے : نَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ کہ جو بھی تیری نافرمانی کرے اسے ہم علیحدہ کردیتے ہیں ‘ اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ‘ اس سے ترک تعلق کرلیتے ہیں۔ لیکن کیا واقعۃً ہم کسی سے ترک تعلق کرتے ہیں ؟ ہم کہتے ہیں دوستی ہے ‘ رشتہ داری ہے کیا کریں ‘ وہ اپنا عمل جانیں میں اپنا عمل جانوں۔ ہمارا طرز عمل تو یہ ہے۔ تو کتنا بڑا دعویٰ ہے اس دعا کے اندر ؟ اور وہ پورا دعویٰ اس ایک جملے میں مضمر ہے : اِیَّاکَ نَعْبُدُ ”پروردگار ! ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے“۔ چناچہ اس وقت فوری طور پر بندے کے سامنے یہ کیفیت آ جانی چاہیے کہ اے اللہ میں یہ اسی صورت میں کرسکوں گا اگر تیری مدد شامل حال رہے۔جزو ثالث : سورة الفاتحہ کا تیسرا حصہ تین آیات پر مشتمل ہے ‘ تاہم یہ ایک ہی جملہ بنتا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 1

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution