The Book of Jihad and Expeditions
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 4596
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، الْخُدْرِيَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَنْصَارِ " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ - أَوْ خَيْرِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ " . قَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذُرِّيَّتَهُمْ . قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ - وَرُبَّمَا قَالَ - قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى وَرُبَّمَا قَالَ " قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ۔ ۔ ان سب کے الفاظ قریب قریب ہیں ۔ ۔ ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ابوبکر نے کہا : ہمیں غندر نے شعبہ سے حدیث بیان کی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر ( غندر ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : قریظہ کے یہود حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے ( کو قبول کرنے کی شرط ) پر ( قلعہ سے ) اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا ، وہ گدھے پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : " اپنے سردار ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) اپنے بہترین آدمی ۔ ۔ کے ( استقبال کے ) لیے اٹھو ۔ " پھر فرمایا : " یہ لوگ تمہارے فیصلے ( کی شرط ) پر ( قلعے سے ) اترے ہیں ۔ " انہوں نے کہا : ان کے جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے اور ( ان کی عورتوں اور ) ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے ۔ کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ( اصل ) بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " ابن مثنیٰ نے یہ بیان نہیں کیا : اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
-
No. 4597
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ " . وَقَالَ مَرَّةً " لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ " اور ایک بار فرمایا : " تم نے ( حقیقی ) بادشاہ ( اللہ ) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
-
No. 4598
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ . رَمَاهُ فِي الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَأَيْنَ " . فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : خندق کے دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، انہیں قریش کے ایک آدمی نے ، جسے ابن عرقہ کہا جاتا تھا ، تیر مارا ۔ اس نے انہیں بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا ، آپ قریب سے ان کی تیمارداری کرنا چاہتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس ہوئے ، اسلحہ اتارا اور غسل کیا تو ( ایک انسان کی شکل میں ) جبریل علیہ السلام آئے ، وہ اپنے سر سے گردوغبار جھاڑ رہے تھے ، انہوں نے کہا : آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے؟ اللہ کی قسم! ہم نے نہیں اتارا ، ان کی طرف نکلیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کہاں؟ " انہوں نے بنوقریظہ کی طرف اشارہ کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگ کی ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا ، انہوں نے کہا : میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے اور یہ کہ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے اموال تقسیم کر دیے جائیں
-
No. 4599
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ قَالَ أَبِي فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
عروہ نے کہا : مجھے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے
-
No. 4600
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَعْدًا، قَالَ وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صلى الله عليه وسلم وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَىْءٌ فَأَبْقِنِي أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهَا . فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ - وَفِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ - إِلاَّ وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا .
ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ، جب ان کا زخم بھر رہا تھا ، ( تو دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں ، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور نکالا ۔ اگر قریش کی جنگ کا کوئی حصہ باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ تاکہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں ۔ اے اللہ! میرا خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے ۔ اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی واقعی ختم کر دی ہے تو اس ( زخم ) کو پھاڑ دے اور مجھے اسی میں موت عطا فرما ، چنانچہ ان کی ہنسلی سے خون بہنے لگا ، لوگوں کو ۔ ۔ اور مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا ۔ ۔ اس خون نے ہی خوفزدہ کیا جو ان کی طرف بہہ رہا تھا ۔ انہوں نے پوچھا : اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ تو وہ سعد رضی اللہ عنہ کا زخم تھا جس سے مسلسل خوب بہہ رہا ہے ، چنانچہ وہ اسی ( کیفیت ) میں فوت ہو گئے
-
No. 4601
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَازَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ أَلاَ يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِي مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لاَ شَىْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلاَ تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالاً كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ
عبدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : اسی رات سے خوب بہنے لگا اور مسلسل بہتا رہا حتی کہ وہ وفات پا گئے ۔ اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا ، کہا : یہی وقت ہے جب ( ایک کافر ) شاعر کہتا ہے : اے سعد! بنو معاذ کے ( گھرانے کے ) سعد! وہ کیا تھا جو بنو قریظہ نے کیا اور ( وہ کیا تھا جو ) بنونضیر نے کیا؟ تمہاری زندگی کی قسم! بنو معاذ کا سعد ، جس صبح ان لوگوں نے سزا برداشت کی ، خوب صبر کرنے والا تھا ۔ تم ( اوس کے ) لوگوں نے اپنی ہڈیاں اس طرح چھوڑیں کہ ان میں کچھ باقی نہ بچا تھا جبکہ قوم ( بنو خزرج ) کی ہانڈیاں گرم تھیں ، ابل رہی تھیں ( انہوں نے اپنے حلیف بنو نضیر کا ساتھ دیا تھا ۔ ) ایک کریم انسان ابوحباب ( رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول ) نے کہا تھا : ( بنو ) قینقاع! مقیم رہو ، مت جاو ۔ وہ لوگ اپنے شہر میں بہت وزن رکھتے تھے ( باوقعت تھے ) جس طرح جبلِ میطان کی چٹانیں بہت وزن رکھتی ہیں
-
No. 4602
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الأَحْزَابِ " أَنْ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلاَّ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ " . فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلُّوا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ . وَقَالَ آخَرُونَ لاَ نُصَلِّي إِلاَّ حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ قَالَ فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ .
حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹےہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے ۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ ( پہنچنے ) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی ، جبکہ دوسروں نے کہا : چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ کہا : تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی
-
No. 4603
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ وَكَانَ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهْىَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ - وَكَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ أَخًا لأَنَسٍ لأُمِّهِ - وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِذَاقًا لَهَا فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاَتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِي كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ - قَالَ - فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُمِّي عِذَاقَهَا وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَتْ مِنَ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ أَبُوهُ فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْتَقَهَا ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ .
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو اس حالت میں آئے کہ ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، جبکہ انصار زمین اور جائدادوں والے تھے ۔ تو انصار نے ان کے ساتھ اس طرح حصہ داری کی کہ وہ انہیں ہر سال اپنے اموال کی پیداوار کا آدھا حصہ دیں گے اور یہ ( مہاجرین ) انہیں محنت و مشقت سے بے نیاز کر دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ، جو ام سلیم کہلاتی تھیں اور عبداللہ بن ابی طلحہ جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مادری بھائی تھے ، کی بھی والدہ تھیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ( انہی ) والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے اپنے کچھ درخت دیے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی آزاد کردہ کنیز ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ، ام ایمن رضی اللہ عنہا کو عنایت کر دیے تھے ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل خیبر کے خلاف جنگ سے فارغ ہوئے اور مدینہ واپس آئے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطیے واپس کر دیے جو انہوں نے انہیں اپنے پھلوں ( کھیتوں باغوں ) میں سے دیے تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ کو ان کے کھجور کے درخت واپس کر دیے اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ اپنے باغ میں سے ( ایک حصہ ) عطا فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات یہ ہیں کہ وہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد گرامی ) عبداللہ بن عبدالمطلب کی کنیز تھیں ، اور وہ حبشہ سے تھیں ، اپنے والد کی وفات کے بعد جب حضرت آمنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آپ کو گود میں اٹھاتیں اور آپ کی پرورش میں شریک رہیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہو گئے تو آپ نے انہیں آزاد کر دیا ، پھر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پانچ ماہ بعد فوت ہو گئیں
-
No. 4604
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، الْقَيْسِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلاً، - وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ، - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّخَلاَتِ مِنْ أَرْضِهِ . حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ . قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا " . وَتَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ . فَجَعَلَ يَقُولُ كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ .
ابوبکر بن ابی شیبہ ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی ، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی ۔ ۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا : کوئی مخصوص آدمی ۔ ۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت ( فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا ، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں ، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا ، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں ، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں : اللہ کی قسم! ہم وہ ( درخت ) تمہیں نہیں دیں گے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام ایمان! اسے چھوڑ دو ، اتنا اتنا تمہارا ہوا وہ کہتی تہیں : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریبا دس گنا عطا فرما دیا
-
No. 4605
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدُ، بْنُ هِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ - قَالَ - فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ لاَ أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُتَبَسِّمًا .
ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن مغفل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : خیبر کے دن مجھے چربی کا ( بھرا ہوا ) چمڑے کا ایک تھیلا ملا ۔ کہا : میں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور کہا : آج کے دن میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے
-
No. 4606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ، بْنُ هِلاَلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، يَقُولُ رُمِيَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَفَوَثَبْتُ لآخُذَهُ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ .
بہز بن اسد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حمید بن ہلال نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کو یہ بتاتے ہوئے سنا : خیبر کے دن ہماری طرف چمڑے کا ایک تھیلا پھینکا گیا جس میں کھانا اور چربی تھی ، میں اسے پکڑنے کے لیے جھپٹا ۔ کہا : میں نے مڑ کر دیکھا تو ( پیچھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ۔ تو مجھے آپ سے بہت حیا آئی ۔ ابوداود نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے "" چربی کا ( بھرا ہوا ) تھیلا "" کہا ، کھانے کا ذکر نہیں کیا
-
No. 4607
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ، حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ مِنْ، فِيهِ إِلَى فِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى هِرَقْلَ يَعْنِي عَظِيمَ الرُّومِ - قَالَ - وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالُوا نَعَمْ - قَالَ - فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا . فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُمْ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ . قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَىَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ . ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ كَانَ مِن�� آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ لاَ . قَالَ فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ . قَالَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ يَزِيدُونَ . قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالاً يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ . قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قُلْتُ لاَ . وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لاَ نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا . قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ . قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا . وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ . فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ . وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ . فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ . وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالاً يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ . وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لاَ يَغْدِرُ . وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لاَ تَغْدِرُ . وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ . فَقُلْتُ لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ . قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُ كُمْ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِيٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِلَيْهِ لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَىَّ . قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ وَ { يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغْطُ وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا . قَالَ فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَىَّ الإِسْلاَمَ .
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں روبرو بتایا ، کہا : ( معاہدہ صلح کی ) اس مدت کے دوران میں جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھی ، میں سفر پر گیا ۔ کہا : اس اثنا میں ، جب میں شام میں تھا ، ہر قل ، یعنی شامِ روم کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خط لایا گیا ۔ کہا : اسے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ لے کر آئے اور حاکم بُصریٰ کے حوالے کیا ، بصریٰ کے حاکم نے وہ ہرقل تک پہنچا دیا تو ہرقل نے کہا : کیا اس شخص کی قوم میں سے ، جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، کوئی شخص یہاں موجود ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : تو قریش کے کچھ افراد سمیت مجھے بلایا گیا ، ہم ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا اور پوچھا : تم میں سے نسب میں اس آدمی کے سب سے زیادہ قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابوسفیان نے کہا : میں نے جواب دیا : میں ہوں ۔ تو ان لوگوں نے مجھے ان کے سامنے بٹھا دیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا ، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلایا اور اس سے کہا : ان سے کہہ دو : میں اس آدمی سے اس شخص کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے ، اگر یہ میرے سامنے جھوٹ بولے تو تم لوگ اس کی تکذیب کر دینا ۔ کہا : ابوسفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے گی تو میں جھوٹ بولتا ۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا : اس سے پوچھو : تم میں اس کا حسب ( خاندان ) کیسا ہے؟ کہا : میں نے جواب دیا : وہ ہم میں حسب والا ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا اس نے ( نبوت کے حوالے سے ) کو کہا ، اس کے کہنے سے پہلے تم اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ بڑے لوگ ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا : بلکہ کمزور لوگ ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ کہا : میں نے جواب دیا : نہیں ، بلکہ وہ بڑھ رہے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا ان میں سے کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد اسے ناپسند کرتے ہوئے مرتد بھی ہوتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا تم نے اس سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے جواب دیا : ہاں ۔ اس نے پوچھا : تو تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے جواب دیا : ہمارے اور اس کے درمیان جنگ کنویں کے ڈول کی طرح ہے ، وہ ہمیں نقصان پہنچاتا ہے اور ہم اسے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اس نے پوچھا : کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ، ہم اس کی جانب سے ( کی گئی ) صلح کے زمانے میں ہیں ، ہمیں معلوم نہیں ، وہ اس میں کیا کرے گا ۔ کہا : اللہ کی قسم! اس ایک کلمے کے سوا اس میں کوئی اور بات ملانا میرے لیے ممکن نہ ہوا ۔ اس نے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے وہ بات کہی ہے؟ میں نے جواب دیا : نہیں ۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا : ان سے کہو : میں نے تم سے اس کے حسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے کہا کہ وہ تم میں ( اونچے ) حسب والا ہے ۔ رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، اپنی قوم کے اعلیٰ خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں ۔ اور میں نے پوچھا : کیا اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے دعویٰ کیا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر اس کے آباء و اجداد میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا : وہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے اور میں نے تم سے اس کے پیروکاروں کے بارے میں پوچھا : وہ کمزور لوگ ہیں یا اشراف ہیں؟ تو تم نے کہا : بلکہ وہ کمزور لوگ ہیں ، رسولوں کے پیروکار وہی لوگ ہوتے ہیں ۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ جو وہ کہتا ہے اس سے پہلے تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے تو تم نے کہا : نہیں ، اس طرح میں جان گیا کہ یہ ممکن نہیں کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے مگر اللہ پر جھوٹ باندھنے لگے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی اس سے ناراض ہو کر اس کے دین سے نکلا ہے؟ تو تم نے کہا : نہیں ، ایمان جب دلوں میں رچ بس جاتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تو تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں ، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا تم نے اس سے لڑائی کی؟ تو تم نے کہا کہ ( ہاں ) تم نے اس سے لڑائی کی ہے اور تمہارے اور اس کے درمیان جنگ ڈول کی طرح ہے ، وہ تم میں سے لوگوں کو قتل کرتا ہے اور تم اس کے لوگوں میں سے قتل کرتے ہو ، رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، انہیں آزمایا جاتا ہے ، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا وہ عہد شکنی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا اور رسول اسی طرح ہوتے ہیں ، وہ بدعہدی نہیں کرتے ۔ اور میں نے تم سے پوچھا : کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ( کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ ) تو تم نے کہا : نہیں ، میں نے ( دل میں ) کہا : اگر کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا : یہ آدمی وہی بات کہنا چاہتا ہے جو اس سے پہلے کہی جا چکی ہے ۔ کہا : پھر اس نے پوچھا : وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے جواب دیا : وہ ہمیں نماز ، زکاۃ ، صلہ رحمی اور پاکبازی کا حکم دیتا ہے ۔ اس نے کہا : اگر تم جو اس کے بارے میں کہتے ہو ، سچ ہے ، تو بلاشبہ وہ نبی ہے اور میں جانتا تھا کہ اس کا ظہور ہونے والا ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا ، اور اگر مجھے علم ہو جائے کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں تو میں ان سے ملنے کو محبوب رکھوں ۔ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا اور ان کی حکومت اس زمین تک پہنچ کر رہے گی جو میرے قدموں کے نیچے ہے ۔ کہا : پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں ( لکھا ) تھا : اللہ کے نام سے جو بہت زیادہ رحم کرنے والا ، ہمیشہ مہربانی کرنے والا ہے ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ ، روم ہرقل کے نام ، اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کا اتباع کیا ، اس کے بعد ، میں تمہیں اسلام کے بلاوے کے ساتھ دعوت دیتا ہوں ، اسلام قبول کر لو ، سلامتی پا لو گے ، اسلام قبول کر لو ، اللہ تمہیں دو بار اجر دے گا اور اگر تم نے منہ موڑ لیا تو کسانوں ( عام لوگوں ) کا گناہ ( جو تمہارے پیچھے چلتے ہیں ) تم پر ہو گا ۔ اور "" اے اہل کتاب! اس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک جیسی ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ، ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے ، پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیں ، ( تم ) گواہ رہو کہ ہم فرماں بردار ( اسلام قبول کرنے والے ) ہیں ۔ "" جب وہ خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہونے لگیں اور شور بڑھ گیا ، اس نے ہمارے بارے میں حکم دیا تو ہمیں باہر بھیج دیا گیا ۔ کہا : جب ہم باہر نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا : ابوکبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بہت بڑا ہو گیا ہے ، اس سے تو بنو اصفر ( اہل روم ) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے ۔ کہا : اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے ہمیشہ یقین رہا کہ وہ غالب آئیں گے ، یہاں تک کہ اللہ نے مجھ میں اوپر سے ( غالب کر کے ) اسلام داخل کر دیا
-
No. 4608
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلاَهُ اللَّهُ . وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ " مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . وَقَالَ " إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ " . وَقَالَ " بِدَاعِيَةِ الإِسْلاَمِ " .
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : جب اللہ نے قیصر ( کے سر پر سے ) فارس کے لشکروں کو ہتا دیا تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے ، جو اللہ نے اس پر کی تھی ، پیدل چل کر حمص سے ایلیاء گیا ، اور انہوں نے حدیث میں ( یوں ) کہا : " اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ۔ " اور انہوں نے ( اریسین کے بجائے یاء کے ساتھ ) یریسین اور " اسلام کی طرف بلانے والے کلمے کے ساتھ ( دعوت دیتا ہوں ) " کے الفاظ کہے
-
No. 4609
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
عبدالاعلیٰ نے ہمیں سعید ( بن ابی عروبہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر ، نجاشی اور ہر متکبر بادشاہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہوئے خطوط لکھ بھیجے ، اور اس سے وہ نجاشی مراد نہیں جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ ( اس کے بعد والے نجاشی کی طرف خط لکھا)
-
No. 4610
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِي الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید سے ، انہوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ نہیں کہا : اور یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی
-
No. 4611
وَحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا : یہ نجاشی وہ نہیں تھا جس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی تھی
-
No. 4612
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَ أَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لاَ تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ " . فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا . فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ - قَالَ - فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِي الأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " . قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ " انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ " . قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلاً وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا .
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے کثیر بن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : حنین کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، میں اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، آپ سے جدا نہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر ( سوار ) تھے جو فرقہ بن نُفاثہ جذامی نے آپ کو تحفے میں دیا تھا ۔ جب مسلمانوں اور کفار کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے ، ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر ، کفار کی جانب بڑھنے لگے ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھا ، میں چاہتا تھا کہ وہ تیزی سے ( آگے ) نہ بڑھے اور ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو پکڑا ہوا تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عباس! کیکر کے درخت ( کے نیچے بیعت کرنے ) والوں کو آواز دو ۔ " حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ اور وہ بلند آواز والے تھے ۔ ۔ میں نے اپنی بلند ترین آواز سے پکار کر کہا : کیکر کے درخت والے کہاں ہیں؟ کہا : اللہ کی قسم! میری آواز سن کر ان کا پلٹنا اس طرح تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی ( آواز سن کر ان کی ) طرف پلٹتی ہے ۔ اور وہ ( جواب میں ) کہنے لگے : حاضر ہیں! حاضر ہیں! کہا : تو وہ کفار سے بھڑ گئے ، پھر انصار میں بلاوا دیا گیا ( بلاوا دینے والے ) کہتے تھے : اے انصار کی جماعت! اے انصار کی جماعت! پھر اس ندا کو بنی حارث بن خزرج تک محدود کر دیا گیا اور انہوں نے کہا : اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر پر بیٹھے ہوئے ، گردن کو آگے کر کے دیکھنے والے کی طرح ، ان کی لڑائی کا جائزہ لیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گھڑی ہے کہ ( لڑائی کا ) تنور گرم ہوا ہے ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پکڑیں اور انہیں کافروں کے چہروں پر مارا ، پھر فرمایا : " محمد کے پروردگار کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ " کہا : میں دیکھنے لگا تو میرے خیال کے مطابق لڑائی اسی طرح جاری تھی ۔ کہا : اللہ کی قسم! پھر یہی ہوا کہ جونہی آپ نے ان کی طرف کنکریاں پھینکیں تو میں دیکھ رہا تھا کہ ان کی دھار کند ہو گئی ہے اور ان کا معاملہ پیچھے جانے کا ہے
-
No. 4613
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ . وَقَالَ " انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ .
معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح خبر دی ، البتہ انہوں نے فروہ بن ( نفاثہ کی جگہ ) نعامہ جذامی ( صحیح نفاثہ ہی ہے ) کہا اور کہا : "" رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ رب کعبہ کی قسم! وہ شکست کھا گئے ۔ "" اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : یہاں تک کہ اللہ نے انہیں شکست دے دی ۔ کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے ہیں
-
No. 4614
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي كَثِيرُ، بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ . غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ .
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے کہا : حنین کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ ۔ ۔ اور ( آگے باقی ماندہ ) حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث ان ( سفیان ) کی حدیث سے زیادہ لمبی اور زیادہ مکمل ہے
-
No. 4615
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلاَحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلاَحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لاَ يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . ثُمَّ صَفَّهُمْ .
ابوخیثمہ نے ہمیں ابواسحاق سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا : ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ تک نہیں پھیرا ، البتہ آپ کے ساتھیوں میں سے چند نوجوان اور جلد باز ( جنگ کے لیے ) نہتے نکلے تھے جن ( کے جسم ) پر اسلحہ یا بڑا اسلحہ نہیں تھا ، تو ان کی مڈبھیڑ ایسی تیر انداز قوم سے ہوئی جن کا کوئی تیر ( زمین ) پر نہ گرتا تھا ، ( نشانے پر لگتا تھا ) وہ بنو ہوازن اور بنو نضر کے جتھے تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) کو اس طرح سے تیروں سے چھیدنا شروع کیا کہ کوئی نشانہ خطا نہ جاتا تھا ، پھر وہ لوگ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھے ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسے چلا رہے تھے ، آپ نیچے اترے ( اللہ سے ) مدد مانگی اور فرمایا : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں "" پھر آپ نے ( نئے سرے سے ) ان کی صف بندی کی ( اور پانسہ پلٹ گیا)
-
No. 4616
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ أَبِي، إِسْحَاقَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْبَرَاءِ فَقَالَ أَكُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا وَلَّى وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّاءُ مِنَ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَى هَذَا الْحَىِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ كَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَانْكَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَكَ " . قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ . يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم .
زکریا نے ابواسحاق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا : میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رخ تک نہیں پھیرا ، کچھ جلد باز لوگ اور نہتے ہوازن کے اس قبیلے کی طرف بڑھے ، وہ تیر انداز لوگ تھے ، انہوں نے ان ( نوجوانوں ) پر اس طرح یکبارگی اکٹھے تیر پھینکے جیسے وہ تڈی دل ہوں ۔ اس پر وہ بکھر گئے ، اور وہ ( ہوازن کے ) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے ، ابوسفیان ( بن حارث ) رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کو پکڑ کر چلا رہے تھے ، تو آپ نیچے اترے ، دعا کی اور ( اللہ سے ) مدد مانگی ، آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔ اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما ۔ "" حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ کی اوٹ لیتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا جو آپ کے ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا ہوتا
-
No. 4617
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، وَسَأَلَهُ، رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَفِرَّ وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ " أَنَا النَّبِيُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " .
شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ( اس وقت ) حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا جب ( قبیلہ ) قیس کے ایک آدمی نے ان سے پوچھا : کیا آپ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگے تھے؟ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا : لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے ، اس زمانے میں ہوازن کے لوگ ( ماہر ) تیر انداز تھے ، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بکھر گئے ، پھر ہم غنیمتوں کی طرف متوجہ ہو گئے تو وہ تیروں کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفید خچر پر دیکھا ، ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ تھامے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے : "" میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں
-
No. 4618
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلاَءِ أَتَمُّ حَدِيثًا .
سفیان سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ایک آدمی نے ان سے پوچھا : ابوعمارہ! ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی ، ان کی حدیث ان سب ( ابوخیثمہ ، زکریا اور شعبہ ) کی حدیث سے ( تفصیلات میں ) کم ہے اور ان سب کی حدیث زیادہ مکمل ہے
-
No. 4619
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَىَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزَعًا " . فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلاَّ مَلأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ .
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی ، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں ، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں ، وہ مجھ سے چھپ گیا ، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا ۔ میں نے ( اُن ) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے ، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خودرہ لوٹتا ہوں ۔ مجھ ( میرے جسم ) پر دو چادریں تھیں ، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا ، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے ۔ ( مجھے دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکوع کا بیٹا گھبرا کو لوٹ آیا ہے ۔ " جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے ، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی ، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے شہروں پر پھینکا اور فرمایا : " چہرے بگڑ گئے ۔ " اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں ، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ، اللہ نے اسی ( ایک مٹھی خاک ) سے انہیں شکست دی اور ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے
-
No. 4620
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ " إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ " . فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا " . قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا اور ان میں سے کسی کی جان نہ لے سکے تو آپ نےفرمایا : " ان شاءاللہ ہم کل لوٹ جائیں گے ۔ " آپ کے صحابہ نے کہا : ہم لوٹ جائیں جبکہ ہم نے اسے فتح نہیں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " صبح جنگ کے لیے نکلو ۔ " وہ صبح نکلے تو انہیں زخم لگے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " ہم کل واپس لوٹ جائیں گے ۔ " کہا : تو انہیں یہ بات اچھی لگی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے