The Book of Faith
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 118
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ، لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ . قَالَ سَعِيدٌ وَذَكَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا . أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَىٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلاَ نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَقِيمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ " . قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ قَالَ " بَلَى جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ - قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ - ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ - أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ - لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ " . قَالَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ . قَالَ وَكُنْتُ أَخْبَأُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " فِي أَسْقِيَةِ الأَدَمِ الَّتِي يُلاَثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ وَلاَ تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الأَدَمِ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ " . قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ " إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ " .
(اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے اس شخص نے بتایا جو رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے عبد القیس کے وفد سے ملے تھا ( سعید نےکہا : قتادہ نے ابو نضرہ کا نام لیا تھا یہ وفد سے ملے تھے ، اور تفصیل حضرت ابو سعید سے سن کر بیان کی ) انہوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ عبد القیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے ، اس لیے آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جو ہم اپنے پچھلوں کو بتائیں اور اگر اس پر عمل کر لیں تو ہم ( سب ) جنت میں داخل ہو جائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہ و : ( حکم دیتا ہوں کہ ) اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز کی پابندی کرو ، زکاۃ دیتے رہو ، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ اور چار چیزیں سے میں تمہیں روکتا ہوں : خشک کدو کے برتن سے ، سبز مٹکے سے ، ایسے برتن سے جس کو روغن زفت ( تارکول ) لگایا گیا ہو اور نقیر ( لکڑی کے تراشے ہوئے برتن ) سے ۔ ‘ ‘ ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو نقیر کے بارے میں کیا علم ہے ؟ فرمایا : ’’کیوں نہیں ! ( یہ ) تنا ہے ، تم اسے اندر سے کھوکھلا کرتے ہو ، اس میں ملی جلی چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو ) پھر اس میں پانی ڈالتے ہو ، پھر جب اس کا جوش ( خمیر اٹھنے کے بعد کا جھاگ ) ختم ہو جاتا ہے تواسے پی لیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک ( یا ان میں ایک ) اپنے چچازاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے ۔ ‘ ‘ ابو سعید نے کہا : لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی طرح ایک زخم لگا تھا ۔ اس نے کہا : میں شرم و حیا کی بنا پر اسے رسول اللہ ﷺ سے چھپا رہا تھا ، پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! تو ہم کس پیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ’’چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ ( دھاگے وغیرہ سے ) باندھ دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘ اہل وفد بولے : اے اللہ کے رسول ! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں ، وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ پاتے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں کھا جائیں ۔ ‘ ‘ کہا : ( پھر ) رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے اس شخص سے جس کے چہرے پر زخم تھا ، فرمایا : ’’تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
-
No. 119
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ، وَاحِدٍ، لَقِيَ ذَاكَ الْوَفْدَ . وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ " وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ أَوِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ " . وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنَ التَّمْرِ .
ابن ابی عدی نے سعید کےحوالے سے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبد القیس کے وفد سے ملاقات کرنےوالے ایک سے زائد افراد نے بتایا اور ان میں سے ابو نضرہ کانام لیا ( ابو نضرہ نے ) حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .... ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی ، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’تم اس میں ملی جلی کھجوریں ، ( عام ) کھجوریں اور پانی ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘ ( اور ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں ) یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ سعید نے کہا ، یا آپﷺ نے فرمایا : ’’کچھ کھجوریں ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘
-
No. 120
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ، أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ، أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا، أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنَ الأَشْرِبَةِ فَقَالَ " لاَ تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ " . قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ أَوَتَدْرِي مَا النَّقِيرُ قَالَ " نَعَمِ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلاَ فِي الدُّبَّاءِ وَلاَ فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْمُوكَى " .
محمد بن بکار بصری ‘ عاصم بن جریج ‘ محمد بن رافع ‘ عبد الرزاق ‘ ابن جریج ‘ ابو قرعہ ‘ ابو نضرہ ‘ ابو سعید حدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد قیس کا وفدرسول اللہﷺ کی خمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے بنیﷺہم آپﷺپر قربان کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟آپﷺنے فرمایا لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرولوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺلکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟آپﷺ نے فر مایا لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرواور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرومگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا ۃ جاتا ہو
-
No. 121
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُعَاذًا، - قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ . فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم سب نے وکیع سے حدیث سنائی ۔ ابو بکر نے کہا : وکیع نے ہمیں زکریا بن اسحاق حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابو معبد سے حدیث سنائی ، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ابو بکر اور انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( ابوبکرنے کہا : بعض اوقات وکیع کہا ) ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ اس میں ( تمہاری ) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ ( زکاۃ ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے مجتاجوں کوواپس کیا جائے گا ، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا ( زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا ۔ ) اور مظلوم کی بددعا س ےبچنا کیونکہ اس ( بددعا ) کے اور اللہ کے درمیان کو ئی حجاب نہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 122
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا " بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .
بشر بن سری اور ابو عاصم نے زکریا بن اسحاق سے خبر دی کہ یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے ابو معبد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے جنا ب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا : ’’تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو گے ..... ‘ ‘ آگے وکیع کی حدیث کی طرح ہے ۔
-
No. 123
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ " إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ " .
اسماعیل بن امیہ نے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی سے ، انہوں نے ابو معبد سے ا ور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا : ’’تم ایک قوم کے پاس جاؤ گے ( جو ) اہل کتاب ہیں ۔ تو سب سے پہلی بات جس کی طرف تمہیں ان کو دعوت دینی ہے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ۔ جب وہ وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ جب وہ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے ( مالداروں کے ) اموال سے لے کر ان کے فقراء کودی جائے گی ۔ جب وہ اس کو مان لیں تو ان سے ( زکاۃ ) لینا اور ان کے زیادہ قیمتی اموال سے احتراز کرنا ۔ ‘ ‘
-
No. 124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالاً كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
جناب عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول ا للہﷺ نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عربوں میں سے کافر ہونے والے کافر ہو گئے ( اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نےمانعین زکاۃ سے جنگ کا ارادہ کیا ) تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول ا للہ ﷺ فرما چکے ہیں : ’’ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ لا اله الاالله کا اقرار کر لیں ، پس جو کوئی لا اله الا الله کا قائل ہو گیا ، اس نے میری طرف سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیا ، الا یہ کہ اس ( لا اله الا الله ) کا حق ہو ، اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے ؟ ‘ ‘ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نےجواب دیا : اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں سے جنگ کروں گا جو نماز او رزکاۃ میں فرق کریں گے ، کیونکہ زکاۃ مال ( میں اللہ ) کا حق ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ ( اونٹ کا ) پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے ، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جنگ کروں گا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : اللہ کی قسم ! اصل بات اس کےسوا اور کچھ نہیں کہ میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نےحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ، تو میں جان گیا کہ حق یہی ہے ۔
-
No. 125
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .
سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لااله الااللهکے قائل ہو جائیں ، چنانچہ جو لااله الا اللهکا قائل ہو گیا ، اس نے میری طرف سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ، الا یہ کہ اس ( اقرار ) کا حق ہو ، اور اس شخص کا حساب اللہ کے سپرد ہے ۔ ‘ ‘
-
No. 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ، ح وَحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
عبدالرحمٰن بن یعقوب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ لا اله الا الله کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو ( دین ) میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں ، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نےمیری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا ، الا یہ کہ اس ( شہادت ) کاحق ہو اور ان کاحساب اللہ کے سپرد ہے ۔ ‘ ‘
-
No. 127
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ " . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ثُمَّ قَرَأَ { إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ * لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ}
اعمش نے ابو سفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، نیز اعمش ہی نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ( جابر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم ملا ہے ..... ‘ ‘ سعید بن مسیب کی حدیث کی طرح جو انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی ہے ۔
-
No. 129
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
ابو غسان مسمعی ‘ مالک بن عبد الواحد ‘ عبد الملک بن الصباح ‘ شعبہ ‘ واقد بن محمدزید بن عبد اللہ ‘ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے جب تک وہ لا الہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ ( ﷺ ) کی گواہی نہ دینے لگ جائیں اور نماز قائم نہ کر لیں اور زکوٰۃ ادر نہ کرنے شروع کر لیں اگر وہ ایسا کر یں گے تو انہوں نے مجھ سےاپنا جان وما ل بچا لیا مگر حق پر ان کا جان اور مال تعرض نہیں کیا جائے گا ان کے دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے ۔
-
No. 130
وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ " .
مروان فزاری نے ابو مالک ( سعد بن طارق اشجعی ) سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( طارق بن اشیم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے لا اله الا الله کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے ، ان ( سب ) کا انکار کیا تو اس کا مال و جان محفوظ ہو گیا اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔ ‘ ‘
-
No. 131
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ " ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
ابو خالد احمر اور یزید بن ہارون نے ابومالک سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جس نےاللہ کویکتا قرار دیا ...... ‘ ‘ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا ۔
-
No. 132
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَمِّ قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ " . فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . وَأَبَى أَنْ يَقُولَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمَا وَاللَّهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} . وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ}.
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے ورایت کی کہ جب ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لا ئے ۔ آپ نے ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو موجود پایا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چچا ! ایک کلمہ لا اله ا لله الله کہہ دیں ، میں اللہ کے ہاں آب کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے کہا : ابو طالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کویہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا : ’’وہ عبدالمطلب کی ملت پر ( قائم ) ہیں ‘ ‘ اور لا ا له الا الله کہنے سے انکار کر دیا ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ ( کے حوالے ) سے روک نہ دیا جائے ۔ ‘ ‘ اس پر ا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں ، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ ( مشرکین ) جہنمی ہیں ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ ( اے نبی ! ) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے او روہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے ۔ ‘ ‘
-
No. 133
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ . وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَتَيْنِ . وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْكَ الْمَقَالَةِ . وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَكَانَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالاَ بِهِ .
معمر اور صالح ، دونوں نے زہری سے ان کی سابقہ سند کےساتھ یہی روایت بیان کی ، فرق یہ ہے کہ صالح کی روایت : فأنزل الله فيه ’’اس کےبارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری ‘ ‘ پر ختم ہو گئی ، انہوں نے دو آیتیں بیان نہیں کیں ۔ انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا کہ وہ دونوں ( ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ ) یہی بات دہراتے رہے ۔ معمر کی روایت میں المقالة ( بات ) کے بجائے الكلمة ( کلمہ ) ہے ، وہ دونوں ان کے ساتھ لگے رہے ۔
-
No. 134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} الآيَةَ .
مروان بن یزید سے ، جو کیسان کے بیٹے ہیں ، حدیث سنائی ، انہوں نے ابو حازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے اپنےچچا کی موت کے وقت ان سے کہا : ’’لا اله الا الله کہہ دیں ، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کے بارے میں گواہی دوں گا ۔ ‘ ‘ لیکن انہوں نے ا نکار کر دیا ۔ کہا : اس پر ا للہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ، ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾ ’’بے شک آپ جسے چاہیں راہ راست پر نہیں لا سکتے ... ‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔
-
No. 135
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَمِّهِ " قُلْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ لَوْلاَ أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ}
یحییٰ بن سعید نے کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے حدیث سنائی.... ( اس کے بعد مذکورہ سند کے ساتھ ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا : ’’لا اله الا الله کہہ دیجیے ، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ انہوں نے ( جواب میں ) کہا : اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے ( کہیں گے کہ اسے ( موت کی ) گھبراہٹ نےاس بات پر آمادہ کیا ہے ) تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’آپ جسے چاہتے ہوں اسے براہ راست پر نہیں لاسکتے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے ۔ ‘ ‘
-
No. 136
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - عَنْ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے خالد ( حذاء ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے ولید بن مسلم نے حمران سے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص مر گیا اور وہ ( یقین کے ساتھ ) جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
-
No. 137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
ابن علیہ کے بجائے بشر بن مفضل نے بھی خالد حذاء سے یہی روایت بیان کی ، انہوں نے ولید ابو بشر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حمران سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سےسنا ، وہ کہتے تھے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ..... اس کے بعد بالکل سابقہ روایت کی طرح بیان کیا ۔
-
No. 138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَسِيرٍ - قَالَ - فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ - قَالَ - فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا . قَالَ فَفَعَلَ - قَالَ - فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ - قَالَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ - قُلْتُ وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى قَالَ كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ . قَالَ فَدَعَا عَلَيْهَا - قَالَ - حَتَّى مَلأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ - قَالَ - فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ " أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لاَ يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
طلحہ بن مصرف نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ورایت کی ، کہا : ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ ﷺ نے لوگوں کی کچھ سواریاں ( اونٹوں ) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پرعمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں ( تو بہتر ہو گا ) ، کہا : آپﷺ نے ایسا ہی کیا ۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا ۔ طلحہ بن مصرف نے کہا : مجاہد نے کہا : جس کے پاس گٹھلیاں تھیں ، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا ۔ میں نے ( مجاہدسے ) پوچھا : گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا : ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ( تھوڑے سے زاد راہ ) پر آپ ﷺ نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ) اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ جو بندہ بھی ان دونوں ( شہادتوں ) کے ساتھ ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا ، وہ ( ضرور ) جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
-
No. 139
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - شَكَّ الأَعْمَشُ - قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " افْعَلُوا " . قَالَ فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ - قَالَ - فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ - قَالَ - وَيَجِيءُ الآخَرُ بَكَفِّ تَمْرٍ - قَالَ - وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكِسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَىْءٌ يَسِيرٌ - قَالَ - فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ " خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ " . قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلاَّ مَلأُوهُ - قَالَ - فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لاَ يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ " .
اعمش نےابو صالح سے ، انہوں نے ( اعمش کو شک ہے ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ غزوہ تبوک کے دن ( سفرمیں ) لوگ کو ( زاد راہ ختم ہو جانے کی بنا پر ) فاقے لاحق ہو گئے ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی ڈھونے والے اونٹ ذبح کر لیں ، ( ان کا گوشت ) کھائیں اور ( ان کی چربی ) تیل بنائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا کر لو ۔ ‘ ‘ ( کہا : ) اتنےمیں عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور عرض کی : اللہ کے رسول !اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی ، اس کے بجائے آپ سب لوگوں کو ان کے بچے ہوئے زاد راہ سمیت بلوا لیجیے ، پھر اس پر ان کے لیے اللہ سے برکت کی دعا کیجیے ، امید ہے ا للہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ٹھیک ہے ۔ ‘ ‘ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : ) آپ نے چمڑے کاایک دسترخوان منگوا کر بچھا دیا ، پھر لوگوں کا بچا ہوا زاد راہ منگوایا ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : ) کوئی مٹھی بھر مکئی ، کوئی مٹھی بھر کھجور اور کوئی روٹی کا ٹکڑا لانے لگا یہاں تک کہ ان چیزوں سے دستر خواں پر تھوڑی سی مقدار جمع ہو گئی ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : ) رسول اللہ ﷺ نے اس پر برکت کی دعا فرمائی ، پھر لوگوں سے فرمایا : ’’اپنے اپنے برتنوں میں ( ڈال کر ) لے جاؤ ۔ ‘ ‘ سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ انہوں نے لشکر کے برتنوں میں کوئی برتن بھرے بغیر نہ چھوڑا ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : ) اس کے بعد سب نےمل کر ( اس دسترخوان سے ) سیر ہو کر کھایا لیکن کھانا پھر بھی بچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ( لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ) فرمایا : ’’میں گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، جو بندہ ان دونوں میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا اسے جنت ( میں داخل ہونے ) سے نہیں روکا جائے گا
-
No. 140
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنِ ابْنِ جَابِرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَابْنُ أَمَتِهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَىِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ " .
(عبد الرحمٰن بن یزید ) ابن جابر نے کہا : مجھے عمیر بن ہانی نےحدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے جنادہ بن ابی امیہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نےحدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ( اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ) اور یقینا ً محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اور عیسیٰ ( رضی اللہ عنہ ) اللہ کے بندے ، اس کی بندی کے بیٹے اور اس کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف القا کیا تھا ، اور اس کی طرف سے ( عطا کی گئی ) روح ہیں ، اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے ، اس شخص کو اللہ تعالیٰ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا ، جنت میں داخل کر دے گا ۔ ‘ ‘
-
No. 141
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ " . وَلَمْ يَذْكُرْ " مِنْ أَىِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ " .
عمیر بن ہانی سے ( عبد الرحمٰن بن یزید ) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے ، البتہ انہوں نے اس طرح کہا : ’’ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ ‘ ‘ اور ’’ اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سےچاہے گا ( داخل کر دے گا ) ‘ ‘ کا ذکر نہیں کیا ۔
-
No. 142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلاً لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلاَّ حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلاَّ حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .
حضرت عباد بن صامت رضی اللہ عنہ سے جنادہ بن ابی امیہ کے بجائے ( ابو عبداللہ عبدالرحمٰن بن عسیلہ ) صنابحی نے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوا ۔ میں رونے لگا تو انہوں نے فرمایا : ٹھہرو! روتے کیوں ہو؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھ سے گواہی مانگی گئی تو میں ضرور تمہارے حق میں گواہی دوں گا او راگر مجھے سفارش کا موقع دیا گیا تو میں ضرور تمہاری سفارش کروں گا اوراگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہیں نفع پہنچاؤں گا ، پھر کہا : اللہ کی قسم ! کوئی ایسی حدیث نہیں جو میں نے رسول اکرمﷺ سے سنی ، اور اس میں تمہاری بھلائی کی کوئی بات تھی اور وہ میں نے تمہیں نہ سنا دی ہو ، سوائےایک حدیث کے ۔ آج جب میری جان قبض کی جانے لگی ہے تو وہ حدیث بھی تمہیں سنائے دیتا ہوں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کر دی ۔
-
No. 143
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلاَّ مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . ثُمَّ سَارَ سَاعَةَ ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ " . قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " . ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ " يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " . قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ " . قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ، کہا : میں ( سواری کے ایک جانور پر ) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا ، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی ( جتنی جگہ ) کے سوا کچھ نہ تھا ، چنانچہ ( اس موقع پر ) آپﷺ نے فرمایا : ’’اے معاذ بن جبل! ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں اللہ کے رسول !ز ہے نصیب ۔ ( اس کے بعد ) آپ پھر گھڑی بھرچلتے رہے ، اس کے بعد فرمایا : ’’ اے معاذ بن جبل ! ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ، اللہ کے رسول ! زہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا : ’’ کیاجانتے ہو کہ بندوں پر ا للہ عز وجل کا کیا حق ہے ؟ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ ارشاد فرمایا : ’’ بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرین ۔ ‘ ‘ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا : ’’ اے معاذ بن جبل ! ‘ ‘ میں عرض کی : میں حاضر ہوں اللہ کے رسول ! ز ہے نصیب ۔ آپ نے فرمایا : ’’کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کاحق ادا کریں تو پھر ا للہ پر ان کا حق کیا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی ، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔ ‘ ‘