The Book of Purification
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 534
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ . وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلآنِ - أَوْ تَمْلأُ - مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا " .
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے ۔ سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں ۔ نماز نور ہے ۔ صدقہ دلیل ہے ۔ صبر روشنی ہے ۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو ( کچھ اعمال کے عوض ) اپنا سودا کرتا ہے ، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا ۔ ‘ ‘
-
No. 535
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ . قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ " . وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ .
ابو عوانہ نے سماک بن حرب سےانہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گےوہ بیمار تھے ابن عامر نے کہا اے ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گےانہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتااور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں ( مبادہ کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہوگا)
-
No. 536
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَوَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
شعبہ ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی اسناد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے ۔
-
No. 537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمدرسول اللہ ﷺ سے ہمیں سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا ، ان میں سے یہ بھی تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرے ۔ ‘ ‘
-
No. 538
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رضى الله عنه - دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلاَةِ .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے ، جوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہیں بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضوکے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا ، پھر کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں ، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : ہمارے علماء ( تابعین ) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے ۔
-
No. 539
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لاَ يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
یعقوب کے والد ابراہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سند کے ساتھ حمران سے روایت کی کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا ، پھر اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی انڈیلا اور ان کو دھویا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور تین بار اپنے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے ، پھر سر کا مسح کیا ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں ( وہ ) اپنے آپ سے باتیں نہ کر رہا تھا ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 540
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ فَيُصَلِّي صَلاَةً إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا " .
جریر نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام حمران سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، وضوکیا ، پھر فرمایا : اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں ، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جومسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 541
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ " فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ " .
ہشام سے ( جریر کے بجائے ) ابو اسامہ ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی ۔ ان میں ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے
-
No. 542
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ وَاللَّهِ لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الَّتِي تَلِيهَا " . قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ { إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} إِلَى قَوْلِهِ { اللاَّعِنُونَ}
ابن شہاب نے کہا : لیکن عروہ ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں ایک حدیث ضرورسناؤں گا ، اللہ کی قسم ! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث سناتا : میں نے رسول اللہﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جو آدمی وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جواس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘ عروہ نےکہا : وہ آیت ( جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا ) : ’’بلاشبہ وہ لوگ جوان کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاریں ‘ ‘ سے لے کر ﴿الّٰعِنُوْنَ﴾ تک ہے ۔
-
No. 543
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلاَةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
اسحاق بن سعيد نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد ( سعید بن عمرو ) سے اور انہوں نے اپنے والد ( عمرو بن سعید ) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔ ‘ ‘
-
No. 544
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ إِلاَّ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَكَانَتْ صَلاَتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ .
ابن عبدہ کی روایت میں ہے : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں عبد العزیز دراوردی نے زید بن اسلم سےحدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا ، پھر کہا : کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتامگر میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طریقے سے وضو کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانازائد ( ثواب کا باعث ) ہو گا ۔ ‘ ‘
-
No. 545
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ أَلاَ أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا . وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي أَنَسٍ قَالَ وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ( اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کےہیں ) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابو نضر سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو انس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا ، کیا کہنے لگے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا وضو ( کر کے ) نہ دکھاؤں ؟ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : سفیان نے کہا : ابو نضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا : ان ( عثمان رضی اللہ عنہ ) کے پاس رسول ا للہ ﷺ کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے ۔
-
No. 546
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً . وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلاَتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ " مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَىْءٍ أَوْ أَسْكُتُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا " .
مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘
-
No. 547
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَالصَّلوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ وَلاَ ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ .
عبید اللہ بن معاذ نے اپنےوالد سے اور محمد بن مثنیٰ اورابن بشار نے محمد بن جعفر ( غندر ) سےروایت کی ، ان دونوں ( معاذ بن اور ابن جعفر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے جامع ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ بشر کے دور امارات میں اس مسجد میں ابو بردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اس طرح وضو کومکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو ( اس کی ) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہو ئے ۔ ‘ ‘ یہ ابن معاذ کی روایت ہے ، غندر کی حدیث میں بشر کے دور حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے ۔ [مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 548
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا وُضُوءًا حَسَنًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لاَ يَنْهَزُهُ إِلاَّ الصَّلاَةُ غُفِرَ لَهُ مَا خَلاَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 549
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلاَّهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ " .
معاذ بن عبد الرحمن نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی ، پھر فرض نماز کے لیے چل کرگیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘
-
No. 550
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، - أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلاَةُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " .
علاء نے اپنے والد عبد الرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ پانچوں نمازیں اور ( ہر ) جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ( ان کو مٹانے والے ) ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے ۔ ‘ ‘
-
No. 551
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ " .
محمد ( بن سیرین ) نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہو ں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کاکفارہ ہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 552
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ " .
عمر بن اسحاق کےوالد اسحاق ( بن عبد اللہ ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ’’جب ( انسان ) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 553
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ - عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الإِبِلِ فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قَالَ فَقُلْتُ مَا أَجْوَدَ هَذِهِ . فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَىَّ يَقُولُ الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ . فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ - أَوْ فَيُسْبِغُ - الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ إِلاَّ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابو ادریس خولانی سےحدیث بیان کی ، انہوں نےعتبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اسی طرح ( معاویہ نے ) کہا : مجھے ابو عثمان نے جبیر بن نفیر سے ، انہو ں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سےحدیث سنائی ، انہو ں نے کہا : ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا ، میری باری آئی ، تو میں شام کو وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا ، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے ، مجھے آپ کی یہ بات ( سننے کو ) ملی : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ ‘ ‘ میں نے کہا : کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا : اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے ۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے دیکھا ہے تو ابھی آئے ہو ، آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے ) فرمایا تھا : ’’ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے ( یا خوب اچھی طرح وضو کرے ) پھر یہ کہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہوجائے ۔ ‘ ‘
-
No. 554
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، وَأَبِي، عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " .
زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد پچھلی ورایت کے الفاظ ہیں ، البتہ انہوں نے ( اس طرح ) کہا : ’’ جس نےوضو کیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 555
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ، - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ قِيلَ لَهُ تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَأَكْفَأَ مِنْهَا عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلاَثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
خالد بن عبد اللہ نےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے ، انہوں نے اپنےوالد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہیں شرف صحبت حاصل تھا ) ، ( یحییٰ بن عمارہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا گیا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کا ( سا ) وضو کر کے دکھائیں ۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا ، یہ تین بار کیا ، پھر اپنا ہاتھ ، پھر اپناہاتھ ڈال کر پانی نکالا اوراپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، ( تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ کسی عضو کو دوبار دھونا بھی جائز ہے ) پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور ( آپ ) اپنے دونوں ہاتھ ( سرپر ) آگے سے پیچھے کواور پیچھے سے آگے کو لائے ، ( ایک طرف مسح کرنا اور اسی ہاتھ کودوبارہ واپس لانامستحب ہے ( پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھرکہا : رسو اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح تھا ۔)
-
No. 556
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، - هُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَعْبَيْنِ .
(خالدبن عبداللہ کے بجائے ) سلیمان بن بلا ل نےعمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اس میں ’’ٹخنوں تک ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔
-
No. 557
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا . وَلَمْ يَقُلْ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ . وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ .
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا : انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘ ‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے ( پیچھے کو ) لائے اور پیچھےسے ( آگے کو ) لائے ‘ ‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے : انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح ) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے ، پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔
-
No. 558
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، بِمِثْلِ إِسْنَادِهِمْ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلاَثِ غَرَفَاتٍ . وَقَالَ أَيْضًا فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِ وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً . قَالَ بَهْزٌ أَمْلَى عَلَىَّ وُهَيْبٌ هَذَا الْحَدِيثَ . وَقَالَ وُهَيْبٌ أَمْلَى عَلَىَّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّتَيْنِ .
بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : اور انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی ، تین چلو پانی سے ۔ اور یہ بھی کہا : پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے ( پیچھے کو ) اور پیچھے سے ( آگے کو ) مسح کیا ایک بار ۔ بہز نے کہا : وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اوروہیب نے کہا : عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دوبار ( دومختلف موقعوں پر ) املا کرائی ۔