Sahih al-Bukhari · Drinks · Bookmarks
No. 5604
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، سَمِعَ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَيْرًا، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَتْ شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ. فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ شَكَّ النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ. فَإِذَا وُقِفَ عَلَيْهِ قَالَ هُوَ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو سالم ابوالنضر نے خبر دی، انہوں نے ام الفضل (والدہ عبداللہ بن عباس) کے غلام عمیر سے سنا، وہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ حمیدی کہتے ہیں کبھی سفیان اس حدیث کو یوں بیان کرتے تھے کہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں لوگوں کو شبہ تھا اس لیے ام الفضل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( دودھ ) بھیجا۔ کبھی سفیان اس حدیث کو مرسلاً ام الفضل سے روایت کرتے تھے سالم اور عمیر کا نام نہ لیتے۔ جب ان سے پوچھتے کہ یہ حدیث مرسل ہے یا مرفوع متصل تو وہ اس وقت کہتے ( مرفوع متصل ہے ) ام فضل سے مروی ہے ( جو صحابیہ تھیں ) ۔
Sahih al-Bukhari, number 5604 as numbered by the source (source reference 74:30). The source gives no grading.
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.