Sahih Muslim · The Book of Pilgrimage · Bookmarks

No. 3069

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ رَأَيْتُ الأَصْلَعَ - يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَأَنَّكَ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ وَأَبِي كَامِلٍ رَأَيْتُ الأُصَيْلِعَ ‏.‏

ہمیں خلف بن ہشام ، مقدمی ، ابوکامل ، اورقتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی ، خلف نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نےعبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، کہا : میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے ، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں ، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ، تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں ( اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے ) "" آگے سے چھوٹی سی گنج والے "" کودیکھا کے الفاظ ہیں ۔

Sahih Muslim, number 3069 as numbered by the source (source reference 15:275). The source gives no grading.

Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.