The Book of Prayer - Travellers
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 1570
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلاَةِ الْحَضَرِ .
صالح بن کیسان نے عروہ بن زبیر سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ، سفر اور حضر ( مقیم ہونے کی حالت ) میں نماز دو دور رکعت فرض کی گئی تھی ، پھر سفر کی نماز ( پہلی حالت پر ) قائم رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ۔
-
No. 1571
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاَةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الأُولَى .
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نےنماز فرض کی تو وہ دو رکعت فرض کی ، پھر حضر کی صورت میں اسے مکمل کردیا اور سفر کی نماز کو پہلے فریضے پر قائم رکھاگیا ۔
-
No. 1572
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الصَّلاَةَ، أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ .
ابن عینیہ نے زہری سے انھوں نے عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ابتدا میں نماز دو رکعت فرض کی گئی ، پھر سفر کی نماز ، ( اسی حالت میں ) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز مکمل کردی گئی ۔ امام زہری نے کہا : میں نے عروہ سے پوچھا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا موقف کیا ہے ۔ وہ سفر میں پوری نماز ( کیوں ) پڑھتی تھیں؟انھوں نے کہا : انھوں نے اس کا ایک مفہوم لے لیا ہے جس طرح عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیا ۔
-
No. 1573
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا، مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا} فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ . فَقَالَ " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
عبداللہ بن ادریس نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابن ابی عمار سے ، انھوں نے عبداللہ بن بابیہ سے اور انھوں نے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ( کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ) " اگر تمھیں خوف ہو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم نماز قصر کرلو " اب تو لوگ امن میں ہیں ( پھر قصر کیوں کرتے ہیں؟تو انھوں نے جواب دیا مجھے بھی اس بات پر تعجب ہو ا تھا جس پر تمھیں تعجب ہوا ہے ۔ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوا ل کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( یہ ) صدقہ ( رعایت ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے اس لئے تم اس کا صدقہ قبول کرو ۔
-
No. 1574
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ .
یحییٰ نے ابن جریج سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا! میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی ۔ ۔ ۔ ( بقیہ روایت ) ابن ادریس کی حدیث کی طرح ہے ۔
-
No. 1575
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلاَةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً .
ابو عوانہ نے بکیر بن اخنس سے ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نماز فرض کی ، حضر ( جب مقیم ہوں ) میں چار رکعتیں ، سفر میں دو رکعتیں اور خوف ( جنگ ) میں ( امام کے ساتھ ) ایک رکعت ( پھر اس کی امامت کے بغیر ایک رکعت ) ۔
-
No. 1576
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الصَّلاَةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً .
ایوب بن عائد طائی نے بکیر بن اخنس سے ، انھوں نے م مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا!بے شک اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نماز فرض کی ، مسافر پردو رکعتیں ، مقیم پر چار اور ( جنگ کے ) خوف کے عالم میں ( امام کی اقتداء میں ) ایک رکعت ( اور اقتدا کے بغیر ایک رکعت ) ۔
-
No. 1577
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الإِمَامِ . فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم .
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ موسیٰ بن سلمہ ہذلی ( بصری ) سے حدیث بیان کررہے تھے ۔ کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : جب میں مکہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھوں تو پھر کیسے نماز پڑھوں؟تو انھوں نے جواب دیا : دو رکعتیں ، ( یہی ) ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
-
No. 1578
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
(شعبہ کی بجائے ) سعید بن ابی عروبہ اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے ، اسی مذکورہ سند کےساتھ اسی طرح ( حدیث بیان کی ) ۔
-
No. 1579
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ - قَالَ - فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ . قَالَ لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لأَتْمَمْتُ صَلاَتِي يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} .
عیسیٰ بن حضص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ( حفص ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کیا ، انھوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی ، پھر وہ اور ہم آگے بڑھے اور اپنی قیام گاہ پر آئے اور بیٹھ گئے ، ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ پھر اچانک ان کی توجہ اس طرف ہوئی جہاں انھوں نے نماز پڑھی تھی ، انھوں نے ( وہاں ) لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھاانھوں نےپوچھا ، یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟میں نے کہا : سنتیں پڑھ رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا : اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ( بھی ) پوری کرتا ( قصر نہ کرتا ) بھتیجے!میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا آپ نے دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا اور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ رہا انھوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا ، اور میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ رہا ، انھوں نے بھی دورکعت نما ز سے زائد نہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا ۔ پھر میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زائد رکعتیں نہیں پڑھیں ، یہا ں تک کہ اللہ نے انھیں بلا لیا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : " بے شک تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔
-
No. 1580
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ، فِي السَّفَرِ فَقَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لأَتْمَمْتُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ إِسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
عمر بن محمد نے حفص بن عاصم سے روایت کی ، کہا : میں بیمار ہواتو ( عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میر عیادت کرنے آئےکہا : میں نے ان سے سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں سوال کیا ۔ انھوں نے کہا : میں سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا رہا ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ آپ سنتیں پڑھتے ہوں ، اور اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ہی پوری پڑھتا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " بے شک تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔
-
No. 1581
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ .
ابو قلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔
-
No. 1582
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ .
محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور آ پ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔
-
No. 1583
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، كِلاَهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلاَةِ، فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلاَثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلاَثَةِ فَرَاسِخَ - شُعْبَةُ الشَّاكُّ - صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
شعبہ نے یحییٰ بن یزید ہنائی سے روایت کی ، کہا : کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نماز قصر کرنے کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے ۔ مسافت کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں ۔ تو دو رکعت نماز پڑھتے ۔
-
No. 1584
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلاً فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَفْعَلُ .
عبدالرحمان بن مہدی ، نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے حدیث سنائی ۔ انہوں نے حبیب بن عبید سے انھوں نے جبیر بن نفیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : می شرجیل بن سمط ( الکندی ) کی معیت میں ایک بستی کو گیا جو سترہ یا اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی ، میں نے ان سے پوچھا ، انھوں نے جواب دیا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھتے دیکھا ہے ، تو میں نے ان ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا ، انھوں نے جواب دیا : میں اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۔
-
No. 1585
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَقَالَ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ وَقَالَ إِنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلاً .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا : ابن سمط سے روایت ہے اور انھوں نے شرجیل کا نام لیا اور کہا : وہ حمص کی دومین نامی جگہ پر پہنچے جو اٹھارہ میل کے فاصلے پر تھی ( اور وہاں نماز قصر پڑھی ) ۔
-
No. 1586
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ . قُلْتُ كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًا .
ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لئے نکلے تو آپ دو رکعت نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس پہنچ گئے ۔ راوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : آپ مکہ کتنا عرصہ ٹھرے؟انھوں نے جواب دیا : دس دن ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ آکر خود مکہ ، منیٰ ، عرفات اور مزدلفۃ مختلف مقامات پردس دن گزارے ۔)
-
No. 1587
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ .
ابو عوانہ اور ( اسماعیل ) ابن علیہ نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے انھو ں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشیم کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
-
No. 1588
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْحَجِّ . ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ .
شعبہ نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث سنائی ، کہا : میں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم حج کے لئے مدینہ سے چلے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
-
No. 1589
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَجَّ .
(سفیان ) ثوری نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کے مانند حدیث وروایت کی اور ( اس میں ) حج کاتذکرہ نہیں کیا ۔
-
No. 1590
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى وَغَيْرِهِ رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا .
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ ( بن عمر ) سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ اور دوسری جگہوں ، یعنی اس کے نواح میں اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) حضرت ابو بکر اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسافر کی نماز ، یعنی دو رکعتیں پڑھیں ۔ اورعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعتیں پڑھیں ، بعد میں پوری چار پڑھنے لگے ۔
-
No. 1591
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ بِمِنًى . وَلَمْ يَقُلْ وَغَيْرِهِ .
اوزاعی اور معمر نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) زہری سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، انھوں نے " منیٰ میں " کہا اور " دوسری جگہوں " کے الفاظ نہیں کہے ۔
-
No. 1592
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِهِ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى بَعْدُ أَرْبَعًا . فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا وَإِذَا صَلاَّهَا وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں ، آپ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں ( دورکعتیں پڑھیں ) پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔ اس لئے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعات پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو وہ رکعتیں پڑھتے ۔
-
No. 1593
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
یحییٰ قطان ، ابن ابی زائدہ اور عقبہ بن خالد نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
-
No. 1594
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمِنًى صَلاَةَ الْمُسَافِرِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ قَالَ سِتَّ سِنِينَ . قَالَ حَفْصٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَأْتِي فِرَاشَهُ . فَقُلْتُ أَىْ عَمِّ لَوْ صَلَّيْتَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ لَوْ فَعَلْتُ لأَتْمَمْتُ الصَّلاَةَ .
عبیداللہ بن معاذ نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے خبیب بن عبدالرحمان سے حدیث سنائی ، انھوں نے حفص بن عاصم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر ، عمر ، اور عثمان ، رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( پہلے ) آٹھ سال یا کہا : چھ سال ۔ ۔ ۔ منیٰ میں مسافر والی نماز پڑھی ۔ حفص نے کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے ۔ پھر اپنے بستر پر آجاتے تھے ۔ میں نے کہا : چچا جان! اگر آپ فرض نماز کے بعددوسنتیں بھی پڑھ لیا کریں! تو انھوں نے کہا : اگر میں ایسا کروں تو ( گویا ) پوری نماز پڑھوں ۔