The Book of Prayers
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 915
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " آمِينَ " .
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 916
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ .
۔ ( مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ... ( آگے ) مالک کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے ، البتہ یونس نے ابن شہاب کا قول بیان نہیں کیا ۔
-
No. 917
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاَةِ آمِينَ . وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ . فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابو یونس ( سلیم بن جبیر ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 918
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ . وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ . فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک اور شاگرد اعرج کے حوالے سے روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک شخص آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
-
No. 919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح حدیث بیان کی ۔
-
No. 920
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ آمِينَ . فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب قاری ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ ( بھی ) آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی ( آمین ) کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
-
No. 921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ سَقَطَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
-
No. 922
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
۔ ( سفیان کے بجائے ) لیث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا ایک پہلو چھل گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی .... آگے سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا ۔
-
No. 923
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَزَادَ " فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا " .
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... پھر ان دونوں حضرات ( سفیان اور لیث ) کی روایت کے مانند روایت کی ، البتہ یونس نے یہ اضافہ کیا : ’’ اور جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو
-
No. 924
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَفِيهِ " إِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا " .
مالک بن انس نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے ، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا .... آگے مذکورہ بالا تینوں راویوں کی طرح روایت کی اور اس میں ( بھی یہ ) ہے : ’’ جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
-
No. 925
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ مِنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِيهِ زِيَادَةُ يُونُسَ وَمَالِكٍ .
معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔
-
No. 926
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا . فَجَلَسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
-
No. 927
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
۔ حماد بن زید اور عبد اللہ بن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
-
No. 928
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلاَتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًِا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلاَ تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
۔ لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ كی بیماری میں ہم نے آپ كے پیچھے اس طرح نماز پڑھی كہ آپ نے بیٹھ كر نماز پڑھائی اور حضرت صدیق اكبر رضی اللہ عنہ مكبر كی حیثیت میں تكبیرات كہتے تھے . نماز میں ہمیں كھڑا دیكھ كر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے كا حكم دیا تو ہم بیٹھ گئے پھر بعد فراغت نماز ارشاد عالی ہوا تم نے اس وقت وہ كام كیا جیسا كہ فارس اور روم والے اپنے بادشاہ كے سامنے كھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھا رہتا ہے . اب آئندہ ایسا نہ كرنا بلكہ ہمیشہ اپنے امام كی پیروی كرو اگر وہ بیٹھ كر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ كر نماز پڑھو
-
No. 929
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ لِيُسْمِعَنَا . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ .
۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھاے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
-
No. 930
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلاَ تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
-
No. 931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
-
No. 932
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُنَا يَقُولُ " لاَ تُبَادِرُوا الإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ . وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
-
No. 933
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلاَ الضَّالِّينَ . فَقُولُوا آمِينَ " . وَزَادَ " وَلاَ تَرْفَعُوا قَبْلَهُ " .
۔ سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے : ’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
-
No. 934
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى، - وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ - سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
-
No. 935
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ . فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ . وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
(ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
-
No. 936
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلاَ تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . قُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ " . فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ " أَصَلَّى النَّاسُ " . فَقُلْنَا لاَ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ - قَالَتْ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلاً رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ . قَالَتْ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا " أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ " . فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلاَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَاعِدٌ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ هَاتِ . فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شِيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لاَ . قَالَ هُوَ عَلِيٌّ .
موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
-
No. 937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْـتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الأَرْضِ . فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ .
معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی رضی اللہ عنہ تھا
-
No. 938
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ .
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔
-
No. 939
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ .
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔