The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 6500
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ " أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أُمُّكَ " . قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ " ثُمَّ أَبُوكَ " . وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي وَلَمْ يَذْكُرِ النَّاسَ .
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف ثقفی اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : لوگوں میں سے حسنِ معاشرت ( خدمت اور حسن سلوک ) کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ۔ "" اس نے کہا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : اس کے بعد کون؟ فرمایا : "" پھر تمہاری ماں ۔ "" اس نے پوچھا : پھر کون؟ فرمایا : "" پھر تمہارا والد ۔ "" اور قتیبہ کی حدیث میں ہے : میرے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے؟ اور انہوں نے "" لوگوں میں سے "" کا ذکر نہیں کیا ۔
-
No. 6501
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ، بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ " أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أَبُوكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " .
فضیل نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! لوگوں میں سے ( میری طرف سے ) حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہاری ماں ، پھر تمہارا باپ ، پھر جو تمہارا زیادہ قریبی ( رشتہ دار ) ہو ، ( پھر جو اس کے بعد ) تمہارا قریبی ہو ۔ " ( اسی ترتیب سے آگے حق دار بنیں گے ۔)
-
No. 6502
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُمَارَةَ، وَابْنِ، شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي، زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فَقَالَ " نَعَمْ وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّ " .
شریک نے عمارہ اور ابن شبرمہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اس کے بعد ( شریک نے ) جریر کی روایت کے مانند بیان کیا اور مزید کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، تمہارے باپ کی قسم! تمہیں ضرور بتایا جائے گا ۔
-
No. 6503
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ، بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ مَنْ أَبَرُّ وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ أَىُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .
محمد بن طلحہ اور وہیب دونوں نے ابن شبرمہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ وہیب کی حدیث میں ہے : میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ اور محمد بن طلحہ کی حدیث میں ہے : لوگوں میں سے میری طرف سے حسن معاشرت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ پھر جریر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
-
No. 6504
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ " أَحَىٌّ وَالِدَاكَ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
وکیع نے سفیان سے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان اور شعبہ دونوں سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حبیب نے ابوعباس سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے آیا تو آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر ان ( کی خدمت بجا لانے ) میں جہاد کرو ۔ ( اپنی جان اور مال کو ان کی خدمت میں صرف کرو ۔)
-
No. 6507
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الأَجْرَ مِنَ اللَّهِ . قَالَ " فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَىٌّ " . قَالَ نَعَمْ بَلْ كِلاَهُمَا . قَالَ " فَتَبْتَغِي الأَجْرَ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا " .
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اللہ سے اجر کے طالب ہو؟ " اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " اپنے والدین کے پاس جاؤ اور اچھے برتاؤ سے ان کے ساتھ رہو ۔
-
No. 6508
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ فَجَاءَتْ أُمُّهُ . قَالَ حُمَيْدٌ فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ كَيْفَ جَعَلَتْ كَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّكَ كَلِّمْنِي . فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي فَقَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَاخْتَارَ صَلاَتَهُ فَرَجَعَتْ ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي . قَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَاخْتَارَ صَلاَتَهُ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي اللَّهُمَّ فَلاَ تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ . قَالَ وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ . قَالَ وَكَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ - قَالَ - فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا فَقِيلَ لَهَا مَا هَذَا قَالَتْ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ . قَالَ فَجَاءُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ - قَالَ - فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُ سَلْ هَذِهِ - قَالَ - فَتَبَسَّمَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ فَقَالَ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ . فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْهُ قَالُوا نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ . قَالَ لاَ وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ ثُمَّ عَلاَهُ .
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے ابورافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جریج نوکیلی چھت والی چھوٹی سی عبادت گاہ میں عبادت کر رہا تھا کہ اس کی ماں آئی ۔ حمید نے کہا : ابو رافع نے ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح واضح کر کے دکھایا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے واضح کیا تھا کہ جب اس کی ماں نے اسے بلایا تو اس نے کس طرح اپنا ہاتھ اپنے ابروؤں پر رکھا تھا اور پھر اسے بلانے کے لیے اپنا سر اوپر کی طرف کیا تھا تو آواز دی : جریج! میں تیری ماں ہوں ، میرے ساتھ بات کر ۔ ماں نے عین اسی وقت ان ( جریج ) کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو اس نے کہا : میرے اللہ! ( ایک طرف ) میری ماں ہے اور ( دوسری طرف ) میری نماز ہے؟ تو اس نے اپنی نماز کو ترجیح دی ۔ وہ واپس چلی گئیں ، پھر دوسری بار آئیں اور بلایا : جریج! میں تیری ماں ہوں ، میرے ساتھ بات کرو ۔ اس نے کہا : اے اللہ! میری ماں اور میری نماز ہے ، انہوں نے نماز کو ترجیح دی ، تو ماں نے دعا کی : اے اللہ! یہ جریج ہے ، یہ میرا بیٹا ہے ، میں نے اس سے بات کی ہے ، اس نے میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ یا اللہ! تو اسے بدکار عورتوں کا منہ دکھانے سے پہلے موت نہ دینا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر وہ اس کو یہ بددعا دیتیں کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے تو وہ ہو جاتا ۔ فرمایا : بھیڑوں کا ایک چرواہا ( بھی ) اس کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا ( اس کے سائے میں آ بیٹھتا تھا ۔ ) فرمایا : بستی سے ایک عورت نکلی ، چرواہے نے اس کے ساتھ بدکاری کی ، وہ حاملہ ہو گئی اور ایک بیٹے کو جنم دیا ۔ اس عورت سے پوچھا گیا : یہ کیا ہے؟ اس نے کہا : یہ اس عبادت گاہ والے شخص سے ( ہوا ) ہے ۔ کہا : تو وہ ( بستی والے ) لوگ اپنے پھاؤڑے اور کدال لے کر آ گئے ، انہوں نے جریج کو بلایا ، انہوں نے اسی وقت ان کو بلایا تھا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اس لیے انہوں نے ان لوگوں سے یہ بات نہ کی ۔ لوگوں نے ان کی عبادت گاہ گرانی شروع کر دی ، جب انہوں نے یہ دیکھا تو اتر کر ان کی طرف آئے ۔ لوگوں نے ان سے کہا : اس عورت سے پوچھو ( کیا معاملہ ہے ) ، فرمایا : تو وہ مسکرائے ، بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا ، پھر پوچھا : تمہارا باپ کون ہے؟ اس نے کہا : میرا باپ بھیڑوں کا چرواہا ہے ۔ جب انہوں نے اس ( شیر خوار ) سے یہ سنا تو کہنے لگے : ہم نے آپ کی عبادت گاہ کا جو حصہ گرایا ہے اسے سونے اور چاندی سے ( دوبارہ ) بنا دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا؛ نہیں ، لیکن اسی طرح مٹی سے بنا دو جس طرح پہلے تھی ، پھر وہ اس کے اوپر ( عبادت گاہ میں ) چلے گئے ۔
-
No. 6509
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَكَانَ جُرَيْجٌ رَجُلاً عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَكَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ . فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ . فَقَالَ أَىْ رَبِّ أُمِّي وَصَلاَتِي . فَأَقْبَلَ عَلَى صَلاَتِهِ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ . فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لأَفْتِنَنَّهُ لَكُمْ - قَالَ - فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَتِهِ فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ . فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْكَ . فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَاءُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَى الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلاَمُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ فُلاَنٌ الرَّاعِي - قَالَ - فَأَقْبَلُوا عَلَى جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَكَ صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ لاَ أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ . فَفَعَلُوا . وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا . فَتَرَكَ الثَّدْىَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ . قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحْكِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا . قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ . وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ . فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا . فَتَرَكَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا . فَهُنَاكَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ . فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . وَمَرُّوا بِهَذِهِ الأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ . فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا . فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ كَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ . وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ . وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا .
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : "" صرف تین بچوں کے سوا پنگھوڑے میں کسی نے بات نہیں کی : حضرت عیسیٰ بن مریم اور جریج ( کی گواہی دینے ) والے نے ۔ جریج ایک عبادت گزار آدمی تھی ۔ انہوں نے نوکیلی چھت والی ایک عبادت گاہ بنا لی ۔ وہ اس کے اندر تھے کہ ان کی والدہ آئی اور وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ تو اس نے پکار کر کہا : جریج! انہوں نے کہا : میرے رب! ( ایک طرف ) میری ماں ہے اور ( دوسری طرف ) میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہو گئے اور وہ چلی گئی ۔ جب دوسرا دن ہوا تو وہ آئی ، وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔ اس نے بلایا : او جریج! تو جریج نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ۔ انہوں نے نماز کی طرف توجہ کر لی ۔ وہ چلی گئی ، پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آئی اور آواز دی : جریج! انہوں نے کہا : میرے پروردگار! میری ماں ہے اور میری نماز ہے ، پھر وہ اپنی نماز میں لگ گئے ، تو اس نے کہا : اے اللہ! بدکار عورتوں کا منہ دیکھنے سے پہلے اسے موت نہ دینا ۔ بنی اسرائیل آپس میں جریج اور ان کی عبادت گزاری کا چرچا کرنے لگے ۔ وہاں ایک بدکار عورت تھی جس کے حسن کی مثال دی جاتی تھی ، وہ کہنے لگی : اگر تم چاہو تو میں تمہاری خاطر اسے فتنے میں ڈال سکتی ہوں ، کہا : تو اس عورت نے اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کیا ، لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔ وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو ( دھوپ اور بارش مین ) ان کی عبادت گاہ کی پناہ لیا کرتا تھا ۔ اس عورت نے چرواہے کو اپنا آپ پیش کیا تو اس نے عورت کے ساتھ بدکاری کی اور اسے حمل ہو گیا ۔ جب اس نے بچے کو جنم دیا تو کہا : یہ جریج سے ہے ۔ لوگ ان کے پاس آئے ، انہیں ( عبادت گاہ سے ) نیچے آنے کا کہا ، ان کی عبادت گاہ ڈھا دی اور انہیں مارکا شروع کر دیا ۔ انہوں نے کہا : تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا : تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تمہارے بچے کو جنم دیا ہے ۔ انہوں نے کہا : بچہ کہاں ہے؟ وہ اسے لے آئے ۔ انہوں نے کہا : مجھے نماز پڑھ لینے دو ، پھر انہوں نے نماز پڑھی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو بچے کے پاس آئے ، اس کے پیٹ میں انگلی چبھوئی اور کہا : بچے! تمہارا باپ کون ہے ۔ اس نے جواب دیا ۔ فلاں چرواہا ۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ لوگ جریج کی طرف لپکے ، انہیں چومتے تھے اور برکت حاصل کرنے کے لیے ان کو ہاتھ لگاتے تھے اور انہوں نے کہا : ہم آپ کی عبادت گاہ سونے ( چاندی ) کی بنا دیتے ہیں ، انہوں نے کہا : نہیں ، اسے مٹی سے دوبارہ اسی طرح بنا دو جیسی وہ تھی تو انہوں نے ( ویسے ہی ) کیا ۔ اور ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا ۔ وہاں سے ایک آدمی عمدہ سواری پر سوار خوبصورت لباس پہنے ہوئے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو ایسا بنا دے ۔ بچے نے پستان ( دودھ ) چھوڑا ، اس آدمی کی طرف رخ کیا ، اسے دیکھا اور کہا؛ اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ، پھر اپنے پستان ( دودھ ) کا رخ کیا اور دودھ پینے میں لگ گیا ۔ "" ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اس کو چوستے ہوئے اس بچے کا دودھ پینا بیان کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر گزرے ۔ وہ اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، تو نے چوری کی اور وہ کہہ رہی تھی : مجھے اللہ کافی ہے ، وہی بہترین کارساز ہے ۔ اس بچے کی ماں کہنے لگی : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا ۔ بچے نے دودھ چھوڑا ، اس باندی کی طرف دیکھا اور کہا : اے اللہ! مجھے اسی جیسا بنانا ۔ یہاں آ کر ان دونوں ( ماں بیٹے ) نے ایک دوسرے سے سوال جواب کیا ۔ وہ کہنے لگی : میرا سر منڈے! بہت اچھی ہئیت کا ایک آدمی گزرا ، میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا بنانا تو تم نے کہا : اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ۔ پھر لوگ اس کنیز کو لے کر گزرے ، اسے مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ہے ، تو نے چوری کی ہے ۔ میں نے کہا : اے اللہ! میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو تم نے یہ کہہ دیا : اے اللہ! مجھے اس جیسا بنانا ۔ اس ( بچے ) نے کہا : وہ شخص دوسروں پر ظلم ڈھانے والا جابر تھا ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح نہ بنانا ۔ اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے : تو نے زنا کیا ، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا تھا اور تو نے چوری کی حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی ، اس لیے میں نے کہا : اے اللہ! مجھے اس کی طرح ( پاکباز ) بنانا ۔ "" فائدہ : حقیقی اور دائمی عزت والا وہی ہے جو اپنے پروردگار کی نافرمانی سے بچا ہوا ہے ، چاہے لوگ اسے حقیر اور گناہ گار سمجھتے ہوں اور حقیقت میں دائمی طور پر رذیل وہی ہے جو اللہ کا نافرمان ہے ، چاہے عارضی زندگی میں لوگ اسے معزز سمجھتے ہوں ۔
-
No. 6510
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ " . قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " .
ابو عوانہ نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( اس شخص کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر ( اس کی ) ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا تو ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔
-
No. 6511
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ " . قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ " .
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی ، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا : " جس کے ہوتے ہوئے اس کے ماں باپ ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے نے پایا ، پھر وہ ( ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا ۔
-
No. 6512
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رَغِمَ أَنْفُهُ " . ثَلاَثًا ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ .
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پھر ( آگے ) اُسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
-
No. 6513
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ فَقُلْنَا لَهُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّهُمُ الأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " .
ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدوی شخص ملا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا ۔ ابن دینار نے کہا : ہم نے ان سے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو حضرت عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلون ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی ۔
-
No. 6514
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ، الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ " .
حیوہ بن شریح نے ابن ہاد سے ، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے والد کے ساتھ سب سے بڑا نیک سلوک یہ ہے کہ انسان اس شخص سے بھی بہت اچھا سلوک کرے جس کے ساتھ اس کے والد کا محبت کا رشتہ تھا ۔
-
No. 6515
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَسْتَ ابْنَ فُلاَنِ بْنِ فُلاَنٍ قَالَ بَلَى . فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ وَقَالَ ارْكَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ - قَالَ - اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ . فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَعْطَيْتَ هَذَا الأَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ . فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ " . وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ .
ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد دونوں نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے تو جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو ان کا گدھا ( ساتھ ہوتا ) تھا جس پر وہ سہولت کے لیے سواری کرتے ۔ اور ایک عمامہ ( ہوتا ) تھا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ تو ایسا ہوا کہ ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ ایک بادیہ نشیں ان کے قریب سے گزرا ، انہوں نے اس سے کہا؛ تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو! اس نے کہا : کیوں نہیں ( اسی کا بیٹا ہوں ) تو انہوں نے گدھا اس کو دے دیا اور کہا : اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ ( بھی ) اسے دے کر کہا : اسے سر پر باندھ لو ۔ تو ان کے کسی ساتھی نے ان سے کہا : اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ نے اس بدو کو وہ گدھا بھی دے دیا جس پر آپ سہولت ( تکان اتارنے ) کے لیے سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ ( بھی ) ہے کہ جب اس کا والد رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والے آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ " اور اس کا والد ( میرے والد ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔
-
No. 6516
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ فَقَالَ " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ " .
ابن مہدی نے ہمیں معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : " نیکی اچھا خلق ہے ، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے ۔
-
No. 6517
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ، قَالَ أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ سَنَةً مَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْهِجْرَةِ إِلاَّ الْمَسْأَلَةُ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ - قَالَ - فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ " .
عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے ( باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ) حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں ایک سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں مقیم رہا ۔ مجھے سوالات کرنے کے سوا اور کوئی بات ہجرت کرنے سے نہیں روکتی تھی کیونکہ ہم میں سے جب کوئی ہجرت کر لیتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا تھا ۔ کہا : ( تو اسی دوران مین ) میں نے آپ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نیکی حسن خلق ( اچھی عادات ) کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چلے ۔
-
No. 6518
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُعَاوِيَةَ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ - حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ، سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ فَقَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ . قَالَ نَعَمْ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ قَالَتْ بَلَى . قَالَ فَذَاكَ لَكِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ * أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ * أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا حتی کہ جب وہ ان سے فارغ ہو گیا تو رَحم نے کھڑے ہو کر کہا : یہ ( میرا کھڑا ہونا ) اس کا کھڑا ہونا ہے جو قطع رحمی سے پناہ کا طلب گار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں ، ( اس مقصد کے لیے تمہارا کھڑا ہونا مجھے قبول ہے ) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں اسی سے تعلق رکھوں جو تمہارا تعلق جوڑ کر رکھے اور اس سے تعلق توڑ دوں جو تمہارا تعلق توڑ دے؟ "" رَحم نے کہا : کیوں نہیں! ( میں راضی ہوں ۔ ) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہیں یہ عطا کر دیا گیا ۔ "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر تم چاہو تو ( قرآن مجید کا یہ مقام ) پڑھ لو : "" تو کیا تم اس ( بات ) کے قریب ( ہو گئے ) ہو کہ اگر تم پیچھے ہٹو گے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور خون کے رشتے توڑ ڈالو گے ، ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں ( ہدایت کی آواز سننے سے ) بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو ( اللہ کی نشانیاں دیکھنے سے ) اندھا کر دیا ۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غوروخوض نہیں کرتے یا ( پھر ) ان کے دلوں پر قفل لگ چکے ہیں ۔
-
No. 6519
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رَحم ( خونی رشتوں کا سارا سلسلہ ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے : جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا ۔
-
No. 6520
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ " . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ .
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد بن جبیر بن معطم سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔ "" ابن ابی عمر نے بتایا کہ سفیان نے کہا : یعنی قطع رحمی کرنے والا ۔
-
No. 6521
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ " .
امام مالک نے زہری سے روایت کی ، محمد بن جبیر بن معطم نے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
-
No. 6522
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ( اس میں ہے : حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
-
No. 6523
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے چھوڑے ہوئے کو مؤخر کیا جائے ( خود اس کی اور اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء ، اعمال اور اولاد کی عمر لمبی ہو ) وہ صلہ رحمی کرے ۔
-
No. 6524
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ " .
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص یہ چاہتا کہ اس کے لیے اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور جو اس نے چھوڑ جانا ہے اس کی مہلت لمبی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے ۔
-
No. 6525
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَىَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَىَّ . فَقَالَ " لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلاَ يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے ( بعض ) رشتہ دار ہیں ، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں ، میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ، میں بردباری کے ساتھ ان سے درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت کا سلوک کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہی ہو جیسے تم نے کہا ہے تو تم ان کو جلتی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس روش پر رہو گے ، ان کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک مددگار تمہارے ساتھ رہے گا ۔
-
No. 6526
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَبَاغَضُوا وَلاَ تَحَاسَدُوا وَلاَ تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثٍ " .
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے ) بھائی بن کر رہو ۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے تعلق ترک کیے رکھے ۔