The Book on Government
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 4859
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ - عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَىَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلاَ يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ " .
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے خود ( ایسے شخص کی ) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا ، میرے راستے میں جہاد ، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا ، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ ( میری خاطر ) نکلا تھا ، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ( تو زخم کھانے والا ) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا ، اس ( زخم ) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے ( گھر میں ) نہ بیٹھتا ، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان ( سب ) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ اس ذات کی قسم کس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں ۔
-
No. 4860
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
ابن فضیل نے عمارہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
-
No. 4861
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ - بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اسے اپنےگھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ ( شہید ہو گیا تو ) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا ، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ ( جہاد کے لیے ) نکلا تھا ۔
-
No. 4862
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ - إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " .
عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا ، رنگ خوب کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ۔
-
No. 4863
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلاَ يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي " .
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ، قیامت کے دن پھر اسی طرح اپنی اسی حالت میں ہو گا جس طرح زخم لگتے وقت تھا ، اس سے خون ٹپک رہا ہو گا ، اس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر یہ ( ڈر ) نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ بیٹھا رہتا ، لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان ( مسلمانوں ) کو سواریاں مہیا کروں ، نہ ان کے پاس اتنی وسعت ہے کہ وہ سواریاں مہیا کر کے میرے پیچھے آئیں ، ان کے دل اس پر ( بھی ) راضی نہیں ہوتے کہ وہ میرے پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں ۔
-
No. 4864
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ما قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ " . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَى " . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا ۔ " ان کی حدیث کے مانند ۔ اور اسی سند کے ساتھ ( اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق ۔
-
No. 4865
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ، بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَحْبَبْتُ أَنْ لاَ أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ " . نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
یحییٰ بن سعید نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ ( خدشہ ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل میں ڈالوں گا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں ۔ " ان سب کی حدیث کی مانند ۔
-
No. 4866
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ - إِلَى قَوْلِهِ - مَا تَخَلَّفْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
سہیل منے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا ، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے " سے لے کر " میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا " تک ۔
-
No. 4867
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا وَلاَ أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلاَّ الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ " .
ابو خالد احمر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ اور حُمید سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " کوئی بھی ذی روح جو فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے بھلائی موجود ہو ، یہ بات پسند نہیں کرتا کہ وہ دنیا میں واپس جائے یا دنیا اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے ، اس کو مل جائے ، سوائے شہید کے ، صرف وہ شہادت کی جو فضیلت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اللہ کی راہ میں ( دوبارہ ) شہید کیا جائے ۔
-
No. 4868
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : " جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے ، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے ، سوائے شہید کے ، وہ ( اپنی ) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے ۔
-
No. 4869
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ " لاَ تَسْتَطِيعُونَهُ " . قَالَ فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ " لاَ تَسْتَطِيعُونَهُ " . وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لاَ يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلاَ صَلاَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا ، آپ نے ہر بار فرمایا : " تم اس کی اسطاعت نہیں رکھتے ۔ " تیسری بار فرمایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو ، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو ، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے ، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے ۔
-
No. 4870
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ابو عوانہ ، جریر اور ابو معاویہ سب نے اسی سند کے ساتھ سہیل سے اسی کے مانند روایت کی ۔
-
No. 4871
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ . وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَعْمَلَ عَمَلاً بَعْدَ الإِسْلاَمِ إِلاَّ أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ . وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ . فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ وَقَالَ لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ} الآيَةَ إِلَى آخِرِهَا .
ابوتوبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے زید بن سلام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف حاجیوں کو پانی پلاؤں اور اس کے سوا کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ دوسرے نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں صرف مسجد حرام کو آباد کروں اور اس کے سوا اور کوئی دوسرا عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ تیسرے نے کہا : جو تم سب نے کہا اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا افضل ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس آواز اونچی نہ کرو ۔ ( پھر بتایا کہ ) وہ جمعے کا دن تھا ۔ لیکن ( جمعے سے پہلے گفتگو کرنے کے بجائے ) جب میں نے جمعہ پڑھ لیا تو حاضر خدمت ہوں گا اور جس کے بارے میں تم جھگڑ رہے ہو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا ، تو ( اس موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ( ہوئی ) بھی ( جو آپ نے سنائی ) : " کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے ( عمل ) جیسا سمجھتے ہو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ( اور اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا؟ ) " آیت کے آخر تک ۔
-
No. 4872
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ .
یحییٰ بن حسان نے کہا : ہمیں معاویہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زید نے خبر دی کہ انہوں نے ابوسلام سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے پاس بیٹھا تھا ، جس طرح ابوتوبہ کی حدیث ہے ۔
-
No. 4873
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح کو یا شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
-
No. 4874
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ، بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔
-
No. 4875
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
سفیان نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کے وقت کا ایک سفر یا شام کے وقت کا ایک سفر ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
-
No. 4876
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنْ أُمَّتِي " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ " وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔
-
No. 4877
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ " .
عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔
-
No. 4878
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ، شَرِيكٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ سَوَاءً .
عبداللہ بن مبارک نے روایت کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی ایوب اور حیوہ بن شریح نے بتایا ، دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بالکل پچھلی روایت کے مانند ۔
-
No. 4879
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَىَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ " وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " . قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوسعید! جو شخص اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ( دل کی گہرائیوں ) سے راضی ہو گیا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ " حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کو یہ بات اچھی لگی تو کہنے لگے : اللہ کے رسول! یہی بات میرے سامنے دوبارہ ارشاد فرمائیں ، آپ نے ایسا ہی کیا ، اس کے بعد فرمایا : " ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کو سو درجے رفعت بخشی جاتی ہے اور ہر دو درجوں میں زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔ " کہا : ( میں نے عرض کی ) اللہ کے رسول! وہ ( بات ) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ، اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔
-
No. 4880
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي، قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ " أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ قُلْتَ " . قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ لِي ذَلِكَ " .
لیث نے سعید بن ابی سعید ( مقبری ) سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام میں ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے اور انہیں بتایا : " اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ( باقی ) تمام اعمال سے افضل ہے ۔ " ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اللہ کی راہ میں اس حالت میں شہید کر دیے جاؤ کہ تم صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر نہ بھاگ رہے ہو ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے کس طرح کہا تھا؟ " اس نے عرض کی ( میں نے اس طرح کہا تھا ) : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہٹا دئیے جائیں گے ۔ " آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر تم اس حالت میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاؤ کہ صبر کرنے والے ( ڈٹے ہوئے ) ہو ، صرف اللہ کی رضا چاہتے ہو ، آگے بڑح رہے ہو ، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے نہیں ، ( تو سارے گناہ مٹا دیے جائیں گے ) سوائے قرض کے ۔ جبریل علیہ السلام نے ( ابھی آ کر ) مجھ سے یہ کہا ہے ۔
-
No. 4881
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ .
یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
-
No. 4882
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي . بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ .
عمرو بن دینار اور محمد بن عجلان نے محمد بن قیس سے روایت کی ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، ان ( عمرو اور ابن عجلان ) میں سے ایک اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ منبر پر تھے ، اس نے کہا : آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی تلوار سے وار کروں؟ ( کافر کو قتل کروں ، پھر شہید کر دیا جاؤں ، آگے ) مقبری کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
-
No. 4883
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، - يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ - عَنْ عَيَّاشٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلاَّ الدَّيْنَ " .
مفضل بن فضالہ نے عباس قِتبانی کے بیٹے عیاس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید ابو عبدالرحمٰن حبلی سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہید کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، سوائے قرض کے ۔