The Book of Gifts
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 4163
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں مالک بن انس نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اللہ کی راہ میں ( جہاد کرنے کے لیے کسی کو ) ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا ( اسے دے دیا ) تو اس کے ( نئے ) مالک نے اسے ضائع کر دیا ( اس کی ٹھیک طرح سے خبر گیری نہ کی ) ، میں نے خیال کیا کہ وہ اسے کم قیمت پر فروخت کر دے گا ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اسے مت خریدو اور نہ اپنا ( دیا ہوا ) صدقہ واپس لو کیونکہ صدقہ واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو قے ( چاٹنے کے لیے ) اس کی طرف لوٹتا ہے
-
No. 4164
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ مَالِكِ، بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ " لاَ تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ " .
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن انس سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور اضافہ کیا : اسے مت خریدو ، چاہے وہ اسے تم کو ایک درہم میں دے
-
No. 4165
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لاَ تَشْتَرِهِ وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا ، چنانچہ انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے مت خریدو ، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے ، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کے جیسی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے ( چاٹتا ہے)
-
No. 4166
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ مَالِكٍ وَرَوْحٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ .
فیان نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ مالک اور روح کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ ( مفصل ) ہے
-
No. 4167
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " لاَ تَبْتَعْهُ وَلاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، پھر انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اس کو فروخت کیا جا رہا تھا ، انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے مت خریدو اور ( کبھی ) اپنا صدقہ واپس نہ لو
-
No. 4168
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، رُمْحٍ جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ .
لیث بن سعد اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی
-
No. 4169
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ يَا عُمَرُ " .
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے ایک گھوڑا دیا ، پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ فروخت کیا جا رہا ہے ۔ تو انہوں نے اس کو خریدنے کا ارادہ کر لیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عمر! اپنا صدقہ واپس مت لو
-
No. 4170
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى، بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ " .
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبر دی : ہمیں اوزاعی نے ابوجعفر محمد بن علی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس شخص کی مثال جو صدقہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے اور کھاتا ہے
-
No. 4171
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، يَذْكُرُ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
ابن مبارک نے ہمیں اوزاعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ( ابوجعفر ) محمد بن ( زین العابدین ) علی بن حسین رحمہم اللہ سے سنا ، وہ اسی سند سے اسی طرح بیان کر رہے تھے
-
No. 4172
وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم حَدَّثَهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے عبدالرحمان بن عمرو نے حدیث بیان کی کہ انہیں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ( پڑپوتے ) ، محمد ( الباقر ) نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح بیان کی
-
No. 4173
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْأَهُ " .
بکیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے ، پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہےاس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کھاتا ہے
-
No. 4174
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
-
No. 4175
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
-
No. 4176
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اپنا ہبہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے
-
No. 4177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا كَانَ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا " . فَقَالَ لاَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَارْجِعْهُ " .
امام مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی ، وہ دونوں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے کہا : ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفے میں دیا ہے جو میرا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے واپس لو
-
No. 4178
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا . فَقَالَ " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَارْدُدْهُ " .
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ( ایسا ) تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
-
No. 4179
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . أَمَّا يُونُسُ وَمَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا " أَكُلَّ بَنِيكَ " . وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ عُيَيْنَةَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ " . وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَشِيرًا جَاءَ بِالنُّعْمَانِ .
ابن عیینہ ، لیث بن سعد ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں " تمام بیٹوں کو " کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں " تمام اولاد کو " ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت ( یوں ) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ( اپنے بیٹے ) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے
-
No. 4180
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلاَمًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذَا الْغُلاَمُ " . قَالَ أَعْطَانِيهِ أَبِي . قَالَ " فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَرُدَّهُ " .
عروہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " یہ کیسا غلام ہے؟ " انہوں نے کہا : یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے ۔ ( پھر ) آپ نے ( نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے ) پوچھا : " تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
-
No. 4181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ تَصَدَّقَ عَلَىَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ " . قَالَ لاَ . قَالَ " اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلاَدِكُمْ " . فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ .
حصین نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا ( یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے ) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ ( ہبہ ) پر گواہ بنائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم نے یہ ( سلوک ) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو ۔ " چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ ( ہبہ ) واپس لے لیا
-
No. 4182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ح. وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ، سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لاِبْنِهَا فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ فَقَالَتْ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا وَهَبْتَ لاِبْنِي . فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلاَمٌ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لاِبْنِهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا " . قَالَ نَعَمْ . فَقَالَ " أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ ، ( عمرہ ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے ، ان کے مال میں سے ، اپنے بیٹے کے لیے ( باغ ، زمین وغیرہ ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے اسے ایک سال تک التوا میں رکھا ، پھر انہیں ( اس کا ) خیال آیا تو انہوں ( والدہ ) نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر ، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما ، میں ان دنوں بچہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ نے پوچھا : کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیںآپ نے فرمایا : پھر مجھے گواہ نہ بناؤ ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
-
No. 4183
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلاَ أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
اسماعیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا اس کے سوا بھی تمہارے بیٹے ہیں؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اس جیسا عطیہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
-
No. 4184
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِيهِ " لاَ تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .
عاصم احول نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا : " مجھے ظلم پر گواہ مت بناؤ
-
No. 4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَعَبْدُ الأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ - قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي . فَقَالَ " أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي - ثُمَّ قَالَ - أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَلاَ إِذًا " .
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ " پھر فرمایا : " کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی ( حسنِ سلوک ) کرنے میں برابر ہوں؟ " انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا : " تو پھر ( تم بھی ایسا ) نہ کرو
-
No. 4186
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ نَحَلَنِي أَبِي نُحْلاً ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ فَقَالَ " أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا " . قَالَ بَلَى . قَالَ " فَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ " . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا أَنَّهُ قَالَ " قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ " .
ابن عون نے ہمیں شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا ، پھر مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے اپنے سب بچوں کو یہ ( اسی طرح کا ) تحفہ دیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم ان سب سے اسی طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس ( بیٹے ) سے چاہتے ہو؟ "" انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو میں ( ظلم پر ) گواہ نہیں بنتا ۔ "" ( کیونکہ اس عمل کی بنا پر پہلے تمہاری طرف سے اور پھر جوابا ان کی طرف سے ظلم کا ارتکاب ہو گا ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اپنے بیٹوں کے درمیان یکسانیت روا رکھو ( لفظی معنی ہیں : تقریبا ایک جیسا سلوک "" یعنی ان کو اس بات کا عادی بناؤ)
-
No. 4187
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلِ ابْنِي غُلاَمَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلاَنٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلاَمِي وَقَالَتْ أَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَلَهُ إِخْوَةٌ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " أَفَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا . وَإِنِّي لاَ أَشْهَدُ إِلاَّ عَلَى حَقٍّ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا : میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : فلاں کی بیٹی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دوں اور اس نے کہا ہے : میرے لیے ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا اس کے اور بھائی ہیں؟ " انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ درست نہیں اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں