The Book of Fasting
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 2770
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَلْيَثْبُتْ فِي مُعْتَكَفِهِ " . وَقَالَ وَجَبِينُهُ مُمْتَلِئًا طِينًا وَمَاءً .
عبد العزیز ، یعنی دراوری نے یزید ( بن ہاد ) سے انھوں نے محمد بن ابرا ہیم سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضا ن میں درمیانے عشرے کا اعتکاف کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے ( اپنے " اعتکا ف کی جگہ میں را ت گزارنے " کے بجا ئے ) ا " پنے اعتکاف کی جگہ میں ٹکارہے ، " کہا اور کہا : آپ کی پیشانی مٹی اور پانی سے بھری ہو ئی تھی ۔
-
No. 2771
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ - قَالَ - فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْهُ فَقَالَ " إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوَّلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ " . فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ " وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ وَأَنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ " . فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ .
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
-
No. 2772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَكَانَ لِي صَدِيقًا فَقُلْتُ أَلاَ تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَإِنِّي نَسِيتُهَا - أَوْ أُنْسِيتُهَا - فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ كُلِّ وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلْيَرْجِعْ " . قَالَ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً قَالَ وَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ قَالَ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ .
ہشا م نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے آپس میں لیلۃالقدر کے بارے میں بات چیت کی ، پھر میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا وہ میرے دوست تھے ، میں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ نخلستان میں نہیں چلیں گے؟وہ نکلے اور ان ( کے کندھوں ) پر دھاری دار چادر تھی ، میں نے ان سے پوچھا : ( کیا ) آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہو ئے سنا ، تھا ؟ انھوں نے کہا : ہاںہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضا ن کے درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ہم بیسویں ( رات ) کی صبح کو ( اعتکاف سے ) نکلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : " مجھے لیلۃ القدر دکھا ئی گئی اور اب میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے بھلا دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے تم اس کو آخریعشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے دیکھا کہ میں ( اس رات ) پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ واپس ( اعتکاف میں ) چلا جا ئے ۔ کہا : ہم واپس ہو گئے اور ہمیں آسمان میں بادل کا کو ئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا کہا : ایک بدلی آئی ہم پر بارش ہو ئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہ پڑی ۔ وہ کھجور کی شا خوں سے بنی ہو ئی تھی اور نماز کھڑی کی گئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہے تھے کہا : یہاں تک کہ میں نے آپ کی پیشانی پر مٹی کا نشان بھی دیکھا ۔
-
No. 2773
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي، كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الطِّينِ .
معمر اور اوزاعی دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی روایت کی ۔ اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) پلٹے تو میں نے آپ کو اس ھال میں دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک کے کنا رے پر مٹی کا نشان تھا ۔
-
No. 2774
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَقُوِّضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهَا كَانَتْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَإِنِّي خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلاَنِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ الْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ " . قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا . قَالَ أَجَلْ . نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ . قَالَ قُلْتُ مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ قَالَ إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ وَهْىَ التَّاسِعَةُ فَإِذَا مَضَتْ ثَلاَثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ فَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ . وَقَالَ ابْنُ خَلاَّدٍ مَكَانَ يَحْتَقَّانِ يَخْتَصِمَانِ .
محمد بن مثنیٰ اورابو بکر بن خلاد نے کہا : ہمیں عبد الارلیٰ نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضا ن کے درمیا نے عشرے کا اعتکاف کیا اس سے پہلے کہ آپ کے سامنے اس اس کو کھول دیا جا ئے ۔ آپ لیلۃالقدر کو تلاش کر ہے تھے ۔ جب یہ ( دس راتیں ) ختم ہو گئیں تو آپ نے حکم دیا اور ان خیموں کو اکھا ڑدیا گیا پھر ( وہ رات ) آپ پر واضح کر دی گئی کہ وہ آخری عشرے میں ہے ۔ اس پر آپ نے ( خیمے لگا نے کا ) حکم دیا تو ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا : "" اے لوگو! مجھ پر لیلۃالقدر واضھ کر دی گئی اور میں تم کو اس کے بارے میں بتا نے کے لیے نکلا تو دو آدمی ( ایک دوسرے پر ) اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہو ئے آئے ان کے ساتھ شیطان تھا ۔ اس پر وہ مجھے بھلا دی گئی ۔ تم اسے رمضا ن کے آخری عشرے میں تلا ش کرو ۔ تم نویں ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابو سعید !ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں انھوں نے کہا : ہاں ہم اسے جاننے کے تم تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ کہا میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں ، اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟انھوں نے جواب دیا : جب اکیسویں رات گزرتی ہے تو وہی رات جس کے بعد بائیسویں آتی ہے وہی نویں ہے اور جب تیئسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد ( آخر سے گنتے ہو ئے ساتویں رات آتی ہے ) ساتویں ہے اس کے بعد جب پچسویں رات گزرتی ہے تو وہی جس کے بعد پانچویں رات آتی ہے ) پانچویں ہے ۔
-
No. 2775
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، الْكِنْدِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، - وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " . قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ . قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلاَثٍ وَعِشْرِينَ .
بسر بن سعید نے حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مجھے شب قدر دکھا ئی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی ۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ کہا : تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھا ئی پھر آپ نے ( رخ ) پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے ، کہا : اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے ( لیلۃالقدر ) تیئیسویں ہے ۔
-
No. 2776
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ " الْتَمِسُوا - وَقَالَ وَكِيعٌ - تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " .
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لیلۃالقدر کو رمضا ن کی آخری دس راتوں میں تلا ش کرو ۔
-
No. 2777
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدَةَ، وَعَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ - رضى الله عنه - فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ . فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَرَادَ أَنْ لاَ يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . ثُمَّ حَلَفَ لاَ يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ قَالَ بِالْعَلاَمَةِ أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لاَ شُعَاعَ لَهَا .
سفیان بن عیینہ نے عبد ہ اور عا صم بن ابی نجود سے روایت کی ، ان دو نوں نے حضرت زربن حبیش ؒ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : آپ کے بھا ئی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جو سال بھر ( رات کو ) قیام کرے گا ۔ وہ لیلۃ القدر کو پا لے گا ۔ انھوں نے فر ما یا : " اللہ ان پر رحم فر ما ئے انھوں نے چا ہا کہ لو گ ( کم راتوں کی عبادت پر ) قناعت نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جا نتے ہیں کہ وہ رمضان ہی میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی کہ وہ ستا ئیسویں رات ہے ۔ پھر انھوں نے استثناکیے ( ان شاء اللہ کہے ) بغیر قسم کھا کر کہا : وہ ستا ئیسویں رات ہی ہے اس پر میں نے کہا : ابو منذرا ! یہ بات آپ کس بنا پر کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : اس علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتا ئی ہے کہ اس دن سورج نکلتا ہے اس کی شعائیں ( نما یاں ) نہیں ہو تیں ۔
-
No. 2778
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ، بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ أُبَىٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُهَا - قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ عِلْمِي - هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ . وَإِنَّمَا شَكَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ .
شعبہ نے کہا : میں نے عبد ہ بن ابی لبابہ سے سنا ، وہ حضرت زر بن حبیشؒ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انھوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہا : حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلۃالقدر کے بارے میں کہا : اللہ کی قسم!میں اس کو جا نتا ہوں شعبہ نے ( روایت کے الفا ظ بیان کرتے ہو ئے ) کہا : میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے جس ( پر پوری رات ) کے قیام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا ( اور ) وہ ستائیسویں رات ہے ۔ اس فقرے میں شعبہ نے شک کیا : یہ وہی را ت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ "" اور کہا : اس کے بارے میں مجھے میرے ایک ساتھی نے ان ( عبد ہ ) کے حوالے سے حدیث بیان کی ۔
-
No. 2779
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - وَهُوَ الْفَزَارِيُّ - عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَيُّكُمْ يَذْكُرُ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ وَهُوَ مِثْلُ شِقِّ جَفْنَةٍ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم نے آپ میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو آپ نے فر مایا : " تم میں سے کس کو یا د ہے جب چا ند طلوع ہوا اور وہ پیا لے کے ایک ٹکڑے کے مانند تھا ( وہی رات تھی)