The Book of Zakat
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 2340
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ صَدَقَةً وَيُدْعَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لاَ أَرَبَ لِي فِيهِ " .
ابو یونس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فر ما یا : " قیامت قائم نہیں ہو گی یہا ں تک کہ تمھا رے ہاں مال کی فراوانی ہو گئی وہ مال ( پانی کی طرح ) بہے گا یہاں تک کہ ما ل کے مالک کو یہ فکر لا حق ہو گی کہ اس سے اس ( مال ) کو بطور صدقہ کو ن قبول کرےگا ؟ ایک آدمی کو اسے لینے کے لیے بلا یا جا ئے گا تو وہ کہے گا : مجھے اس کی کو ئی ضرورت نہیں ۔
-
No. 2341
وَحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ - وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَقِيءُ الأَرْضُ أَفْلاَذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَيَجِيءُ الْقَاتِلُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَتَلْتُ . وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي . وَيَجِيءُ السَّارِقُ فَيَقُولُ فِي هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلاَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " .
ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمین اپنے جگر کے ٹکڑے سونے اور چا ندی کے ستونوں کی صورت میں اگل دے گی تو قاتل آئے گا اور کہے گا کیا اس کی خا طر میں قتل کیا تھا ؟رشتہ داری تو ڑنے والا آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میں نے قطع رحمی کی تھی ؟ چور آکر کہے گا : کیا اس کے سبب میرا ہا تھ کا ٹا گیا تھا ؟پھر وہ اس مال کو چھوڑ دیں گے ۔ اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔
-
No. 2342
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ - وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلاَّ الطَّيِّبَ - إِلاَّ أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ " .
سعید بن یسار سے روا یت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی شخص پا کیزہ مال سے کو ئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعا لیٰ پا کیزہ مال ہی قبول فر ما تا ہے مگر وہ رحمٰن اسے اپنے دا ئیں ہا تھ میں لیتا ہے چا ہے وہ کھجور کا ایک دا نہ ہو تو وہ اس رحمٰن کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جا تا ہے بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے ۔
-
No. 2343
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ إِلاَّ أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ " .
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے سہیل سے انھوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " کو ئی شخص اپنی پا کیزہ کما ئی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا مگر اللہ اسے اپنے دا ہنے ہا تھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کو ئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پا لتا ہے حتیٰ کہ وہ ( کھجور ) پہا ڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جا تی ہے ۔
-
No. 2344
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا " . وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا " .
روح بن قاسم اور سلیما ن بن بلال دو نوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( مذکور ہ با لا ) حدیث بیان کی ، روح کی حدیث میں ہے ۔ من الكسب الطيب فيضعها في حقها ( حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے پھر اس کو وہاں لگا تا ہے جہاں اس کا حق ہے ) اور سلیمان کی حدیث میں ہے فيضعها في موضعها ( اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)
-
No. 2345
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ عَنْ سُهَيْلٍ .
ہشا م بن سعد نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روا یت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے ۔
-
No. 2346
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وَقَالَ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} " . ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے لو گو !اللہ تعا لیٰ پا ک ہے اور پا ک ( مال ) کے سوا ( کو ئی ما ل ) قبو ل نہیں کرتا اللہ نے مو منوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : " اے پیغمبران کرام! پا ک چیز یں کھا ؤ اور نیک کا م کرو جو عمل تم کرتے ہو میں اسے اچھی طرح جا ننے والا ہوں اور فر ما یا اے مومنو!جو پا ک رزق ہم نے تمھیں عنا یت فر ما یا ہے اس میں سے کھا ؤ ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا : " جو طویل سفر کرتا ہے بال پرا گندا اور جسم غبار آلود ہے ۔ ( دعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہا تھ پھیلا تا ہے اے میرے رب اے میرے رب! جبکہ اس کا کھا نا حرام کا ہے اس کا پینا خرا م کا ہے اس کا لبا س حرا م کا ہے اور اس کو غذا حرا م کی ملی ہے تو اس کی دعا کہا ں سے قبو ل ہو گی ۔)
-
No. 2347
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " .
عبد اللہ بن معقل نے حضرت عدیبن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو وہ ضرور ( ایسا ) کرے ۔
-
No. 2348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ، بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلاَ يَرَى إِلاَّ مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلاَ يَرَى إِلاَّ النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . زَادَ ابْنُ حُجْرٍ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ الأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ .
علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابرا ہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے حدیث بیا ن کی اور باقی دو نوں نے کہا : ہمیں خبر دی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے خثیمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی نہیں مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعا لیٰ کے درمیان کوئی تر جمان نہیں ہو گا ۔ اور اپنی دا ئیں جا نب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جا نب دیکھے گا تو وہی کچھ دکھا ئی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھا ئی دے گی اس لیے آگ سے بچو اگر چہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو ۔ "" ( علی ) بن حجر نے اضافہ کیا : اعمش نے کہا : مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : چا ہے پا کیزہ بو ل کے ساتھ ( بچو ۔ ) اسحاق نے کہا : اعمش نے کہا : عمرو بن مرہ سے روایت ہے ( کہا ) خیثمہ سے روا یت ہے ۔
-
No. 2349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ " . ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا وَقَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ .
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دو نوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے عمرو بن مرہ سے انھوں نے خیثمہ سے انھوں نے حضرت عدی بن حا تم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گ کا تذکرہ فر ما یا تو چہرہ مبا رک ایک طرف موڑ ا اور اس میں مبا لغہ کیا پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو ۔ پھر رخ مبا رک پھیرا اور دور ہو نے کا اشارہ کیا حتیٰ کہ ہمیں غمان ہوا جیسے آپ اس ( آگ ) کی طرف دیکھ رہے ہیں پھر فر ما یا : "" آگ سے بچو چا ہے آدھی کھجور کے ساتھ جسے ( یہ بھی ) نہ ملے تو اچھی بات کے ساتھ ۔ ابو کریب نےكانما ( جیسے ) کا ( لفظ ) ذکر نہیں کیا اور کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ۔
-
No. 2350
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے با قی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبا رک کے ساتھ دور ہو نے کا اشارہ کیا ، پھر فر ما یا : " آگ سے بچو چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے ( بچو ) اگر تم ( یہ بھی ) نہ پاؤ تو اچھی بات کے ساتھ ۔
-
No. 2351
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ، بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَدْرِ النَّهَارِ قَالَ فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ " { يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ { إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} وَالآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ { اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ - حَتَّى قَالَ - وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ - قَالَ - ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَىْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَىْءٌ " .
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی ، ا نھوں نے منذر بن جریر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا ؛ ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ظر تھے کہ آپ کے پا س کچھ لو گ ننگے پاؤں ننگے بدن سوراخ کر کے دن کی دھا ری دار چادریں یا غبائیں گلے میں ڈا لے اور تلواریں لٹکا ئے ہو ئے آئے ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا آپ اندر تشریف لے گئے پھر با ہر نکلے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی آپ نے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا اور فرما یا : " اے لو گو !اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا ۔ ۔ ۔ آیت کے آخر تک " بے شک اللہ تم پر نگرا ن ہے اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے اللہ سے ڈرو اور ہر جا ن دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے ( پھر فر ما یا ) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینا ر سےاپنے درہم سے اپنے کپڑے سے اپنی گندم کے ایک صاع سے اپنی کھجور کے ایک صاع سے ۔ حتیٰ کہ آپ نے فر ما یا : ۔ ۔ ۔ چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے ( جریرنے ) کہا : تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لا یا اس کی ہتھیلی اس ( کو اٹھا نے ) سے عاجز آنے لگی تھی بلکہ عا جز آگئی تھی کہا : پھر لو گ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے یہاں تک کہ میں نے کھا نے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑاھا ہوا ہو ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا " جس نے اسلا م میں کو ئی اچھا طریقہ رائج کیا تو اس کے لیے اس کا ( اپنا بھی ) اجر ہےے اور ان کے جیسا اجر بھی جنھوں نے اس کے بعد اس ( طریقے ) پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کو ئی کمی ہو اور جس نے اسلا م میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی اس کا بو جھ اسی پر ہے اور ان کا بو جھ بھی جنھوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا اس کے بغیر کہ ان کے بو جھ میں کو ئی کمی ہو ۔
-
No. 2352
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي قَالاَ، جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَدْرَ النَّهَارِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ قَالَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ .
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دو نوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیا ن کی ، ا نھوں نے کہا مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیا ن کی انھوں نے کہا : میں منذر بن جریر سے سنا انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم دن کے ابتدا ئی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( حا ضر ) تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے ۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے ، کہا : پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، پھر خطبہ دیا ۔)
-
No. 2353
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ { يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ} الآيَةَ " .
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیا ن میں سوراخ کرکے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی ۔ ۔ ۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے : آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لےگئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے : " اےلوگو!اپنے رب سے ڈرو ۔ " آیت کے آخر تک ۔
-
No. 2354
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، يَزِيدَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمُ الصُّوفُ فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ . قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : بدوؤں میں سے کچھ لوگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے جسم پراونی کپڑے تھے ، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی ، وہ فاقہ زدہ تھے ۔ ۔ ۔ پھر ان ( سابقہ راویان حدیث ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
-
No. 2355
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ . قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ - قَالَ - فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ - قَالَ - وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَىْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الآخَرُ إِلاَّ رِيَاءً فَنَزَلَتْ { الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ} وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ .
یحییٰ بن معین اور بشر بن خالد نے ۔ لفظ بشر کے ہیں ۔ حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن جعفر ( غندر ) نےخبر دی ، انھوں نے شعبہ سے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں صدقہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے ، کہا : ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے ۔ کہا : ابوعقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آدھا صاع صدقہ کیا ۔ ایک دوسرا انسان اس سے زیادہ کوئی چیز لایا تو منافقوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے غنی ہے اور اس دوسرے نے محض دکھلاوا کیا ہے ، اس پر یہ آیت مبارک اتری : " وہ لوگ جو صدقات کے معاملے میں دل کھول کر دینے والے مسلمانوں پرطعن کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت ( کی اجرت ) کے سواکچھ نہیں پاتے ۔ " بشر نے المطوعين ( اوربعد کے ) الفاظ نہیں کہے ۔
-
No. 2356
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ كُنَّا نُحَامِلُ عَلَى ظُهُورِنَا .
سعید بن ربیع اورابو داود دونوں نے شبعہ سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی اور سعید بن ربیع کی حدیث میں ہے ، کہا : ہم اپنی پشتوں پر بوجھ اٹھاتے تھے ۔
-
No. 2357
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ " أَلاَ رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِعُسٍّ وَتَرُوحُ بِعُسٍّ إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، وہ اسے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک ) پہنچاتے تھے : " سن لو ، کوئی آدمی کسی خاندان کو ( ایسی دودھ دینے والی ) اونٹنی دے جو صبح کو بڑا پیالہ بھر دودھ دے اور شام کو بھی بڑا پیالہ بھر دودھ دے تو یقیناً اس ( اونٹنی ) کا اجر بہت بڑا ہے ۔
-
No. 2358
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى فَذَكَرَ خِصَالاً وَقَالَ " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ صَبُوحِهَا وَغَبُوقِهَا " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( کچھ اشیاء سے ) منع کیا ، پھر چند خصلتوں کا ذکر کیا اورفرمایا : " جس نے دودھ پینے کے لئے جانور دیا تو اس ( اونٹنی ، گائے وغیرہ ) نے صدقے سے صبح کی اور صدقے سے شام کی ، یعنی اپنے صبح کے دودھ سے اور اپنے شام کے دودھ سے ۔
-
No. 2359
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلٍ عَلَيْهِ جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ - وَقَالَ الآخَرُ فَإِذَا أَرَادَ الْمُتَصَدِّقُ - أَنْ يَتَصَدَّقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ أَوْ مَرَّتْ وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَيْهِ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ " . قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ يُوَسِّعُهَا فَلاَ تَتَّسِعُ .
ابو زناد نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ابن جریج نے کہا : حسن بن مسلم سے ، انھوں نے طاوس سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ " خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والے کی مثال اس آدمی کی ہے جس کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈیوں تک دو جبے یا دو زرہیں ہوں ۔ جب خرچ کرنے والا اور دوسرے ( راوی ) نے کہا : جب صدقہ کرنے والا ۔ خرچ کرنے کا ارادہ کرتاہے تو وہ زرہ اس ( کے جسم ) پر کھل جاتی ہے یا رواں ہوجاتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنے کاارادہ کرتا ہےتو وہ اس ( کے جسم ) پر سکڑ جاتی ہے اورہر حلقہ اپنی جگہ ( کومضبوطی سے ) پکڑ لیتا ہے حتیٰ کہ اس ( کی انگلیوں ) کے پوروں کو ڈھانپ دیتا ہے اور اس کے نقش پا کو مٹا دیتا ہے ۔ " کہا : تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ نے فرمایا : " وہ ( بخیل ) اس کو کھولنا چاہتا ہے لیکن وہ کھلتی نہیں ۔
-
No. 2360
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْعَقَدِيَّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدَيِّهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تُغَشِّيَ أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا " . قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَيْبِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلاَ تَوَسَّعُ .
ابراہیم بن نافع نے حسن بن مسلم سے ، انھوں نے طاوس سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی : " بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ایسے دو آدمیوں کی مانند ہے جن ( کے جسموں ) پر لوہے کی دو زرہیں ہیں ، ان کے دونوں ہاتھ انکی چھاتیوں اورہنسلی کی ہڈیوں سے جکڑے ہوئے ہیں ، پس صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے لگتا ہےتووہ ( اس کی زرہ ) پھیل جاتی ہے حتیٰ کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے اور ( زمین پر گھسیٹنے کی وجہ سے ) اس کے نقش قدم کو مٹانے لگتی ہے ۔ اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرنے لگتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ کو پکڑ لیتا ہے ۔ " ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی گریبان میں ڈال رہے تھے ، کاش تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ( ایسے لگتا تھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے کشادہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی ۔
-
No. 2361
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ إِذَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ وَإِذَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ تَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ وَانْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا " . قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلاَ يَسْتَطِيعُ " .
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں ہیں ، صدقہ دینے والا جب صدقہ دینے کاارادہ کرتا ہے تو وہ ( اس کی زرہ ) اس پر کشادہ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کے نقش پا کو مٹانے لگتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کاارادہ کرتاہے تو وہ ( زرہ ) اس پر سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی ہنسلی کے ساتھ جکڑ جاتے ہیں اور ہر حلقہ ساتھ و الے حلقے کے ساتھ پیوست ہوجاتاہے ۔ " ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن نہیں کرسکتا ۔
-
No. 2362
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي، الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ رَجُلٌ لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ . قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ . فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ . قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ . فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ . فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ . فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے کہا : میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسےایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا ، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا ، اس آدمی نے کہا : اے اللہ تیری حمد!زانیہ پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور صدقہ کروں گا ، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا ۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے : ایک مال دار پر صدقہ کیا گیا ۔ اس نے کہا : اے اللہ تیری حمد! مالدار پر ( صدقہ ہوا ) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلاتو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے : چور پر صدقہ کیا گیا ۔ تو اس نے کہا : اے اللہ ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے ، زانیہ پر ، مالدار پر ، اور چور پر ( صدقہ ہوا ) ۔ اس کو ( خواب میں ) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہوچکا ، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس ( صدقے ) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کرلے اور شاید مال دارعبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے ( خود ) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے ۔
-
No. 2363
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، - قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، - حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى�� عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الأَمِينَ الَّذِي يُنْفِذُ - وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِي - مَا أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلاً مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ - أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک ایک مسلمان امانت دار خازن ( خزانچی ) جو دیئے گئے حکم پر عمل کرتا ہے ۔ ( یا فرمایا : ادا کرتا ہے ) اسے خوش دلی کے ساتھ پورے کا پورا ( بلکہ ) وافر ، اس شخص کو ادا کردیتا ہے جس کے بارے میں اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ ( خازن بھی ) ۔ ۔ ۔ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
-
No. 2364
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ يَحْيَى - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " .
جریر نے منصور سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کی وجہ سے اپنا اجر ملے گا اور خزانچی کے لئے بھی اسی طرح ( اجر ) ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتے ۔