The Book of Prayer - Funerals
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 2200
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ " . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ " . قَالَ عُمَرُ فِدًى لَكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ . وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
عبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ، اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی اس پرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی " ( اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کی تم لو گوں نےاچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔
-
No. 2201
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِجَنَازَةٍ . فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ .
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انھوں نے انس سے عبد العزیز کی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی البتہ عبد العزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
-
No. 2202
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو، بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ . فَقَالَ " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلاَدُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
امام مالک بن انس نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے ، انھوں نے معبد بن کعب بن مالک سے اور انھوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فر ما یا : " آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے ۔ انھوں ( صحابہ ) نے پو چھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فر ما یا : " بندہ مومن دنیا کی تکا لیف سے آرام پا تا ہے اور فاجر بندے ( کے مرنے ) سے لو گ شہر درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں ۔
-
No. 2203
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ " .
یحییٰ بن سعید اور عبد الرزاق نے عبد اللہ بن سعید سے انھوں نے محمد بن عمرو سے انھوں نے کعب بن مالک کے بیٹے ( معبد ) سے انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے : " وہ ( مومن بندہ ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے ۔
-
No. 2204
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن نجاشی فوت ہوئے ، لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کے ساتھ باہر جنازہ گاہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چارتکبیریں کہیں ۔
-
No. 2205
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّجَاشِيَ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ .
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے اور ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ والے ( حکمران ) نجاشی کی ، جس دن وہ فوت ہوئے ، موت کی خبر دی اور فرمایا : "" اپنے بھائی کے لئے بخشش کی دعاکرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حدیث سنائی کہ ان کو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ گاہ میں ان کی صفیں بنوائیں ، نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور اور پر چار تکبیریں کہیں ۔
-
No. 2206
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، كَرِوَايَةِ عُقَيْلٍ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا .
صالح نے دونوں سندوں کے ساتھ ابن شہاب سے عقیل ( بن خالد ) کی روایت کے مانند روایت کی ۔
-
No. 2207
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى
سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصمحہ نجاشی کی نمازجنازہ ادا کی تو اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
-
No. 2208
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ " . فَقَامَ فَأَمَّنَا وَصَلَّى عَلَيْهِ .
عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصمحہ فوت ہوگیا ہے ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
-
No. 2209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي، الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . قَالَ فَقُمْنَا فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ .
ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے ، لہذا تم لوگ اٹھو اور اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھو ۔ " ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر ہم اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں ۔
-
No. 2210
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَخًا لَكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . يَعْنِي النَّجَاشِيَ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ " إِنَّ أَخَاكُمْ " .
(زہیر بن حرب ، علی بن حجر ، اور یحییٰ بن ایوب نے کہا : ہمیں اسماعیل ابن علیہ نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا ایک بھائی وفات پاگیا ہے لہذا تم اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ۔ " آپ کی مراد نجاشی سے تھی ۔ اور زہیر کی روایت میں ان اخالكم " تمھارا ایک بھائی " کی بجائے ) ان اخاكم ( تمھارا بھائی ) کےالفاظ ہیں ۔
-
No. 2211
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، إِدْرِيسَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا . قَالَ الشَّيْبَانِيُّ فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا قَالَ الثِّقَةُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَسَنٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ انْتَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى قَبْرٍ رَطْبٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفُّوا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا . قُلْتُ لِعَامِرٍ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ .
حسن بن ربیع اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے شیبانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے شعبی سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن کیے جانے کے بعد ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔ شیبانی نے کہا : میں نے شعبی سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حدیث کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔ یہ حسن کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گیلی ( نئی ) قبر کے پاس تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز ( جنازہ ) پڑھی اور انھوں نے ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں ۔ میں نے عامر ( بن شراحیل شعبی ) سے پوچھا : آپ کو ( یہ حدیث ) کس نے بیان کی؟انھوں نے کہا : ایک قابل اعتماد ہستی جو اس جنازے میں شریک تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۔
-
No. 2212
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
ہشیم ، عبدالواحد بن زیاد ، جریر ، سفیان ، معاذ بن معاذ اور شعبہ سب نے شیبانی سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی اور ان میں سے کسی کی روایت میں نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۔
-
No. 2213
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، جَمِيعًا عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَتِهِ عَلَى الْقَبْرِ نَحْوَ حَدِيثِ الشَّيْبَانِيِّ . لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
اسماعیل بن ابی خالد اور ابوحصین نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے قبر پر نماز پڑھنے کے بارے میں شیبانی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، ان کی حدیث میں ( بھی ) وكبر اربعا ( آپ نے چار تکبیریں کہیں ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
-
No. 2214
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرٍ .
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔
-
No. 2215
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ - أَوْ شَابًّا - فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عَنْهَا - أَوْ عَنْهُ - فَقَالُوا مَاتَ . قَالَ " أَفَلاَ كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي " . قَالَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَّرُوا أَمْرَهَا - أَوْ أَمْرَهُ - فَقَالَ " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ " . فَدَلُّوهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا لَهُمْ بِصَلاَتِي عَلَيْهِمْ " .
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ۔ یا ایک نوجوان تھا ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : وہ فوت ہوگیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم لوگوں کو مجھے اطلاع نہیں دینی چاہیے تھی؟ " کہا : گویا ان لوگوں نے اس عورت ۔ ۔ ۔ یا اس مرد ۔ ۔ ۔ کے معاملے کو معمولی خیال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اس کی قبردکھاؤ ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر دیکھائی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر فرمایا : " اہل قبور کے لئے یہ قبریں تاریکی سے بھری ہوئی ہیں اورمیری ان پر نماز پڑھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ان ( قبروں ) کو منور فرمادیتا ہے ۔
-
No. 2216
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ شُعْبَةَ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كَانَ زَيْدٌ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جَنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُكَبِّرُهَا .
۔ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا : زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن ارقم ) ہمارے جنازوں پر چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، انھوں نے ایک جنازے پر پانچ تکبیریں کہیں ، میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) اتنی ( پانچ ) تکبیریں کہا کرتے تھے ۔
-
No. 2217
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو اس کے لئے کھڑے ہوجاؤیہاں تک کہ وہ تم کو پیچھے چھوڑ دے ( آگے نکل جائے ) یا اسے رکھ دیا جائے ۔
-
No. 2218
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ " .
لیث اور یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ انھوں ( عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، آپ فرمارہے تھے ۔ ( اسی طرح ) قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت عامر بن ربعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جنازے کو دیکھے ، تو اگر وہ جنازے کے ساتھ چل نہیں رہا ، تو کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ ( جنازہ ) اس کو پیچھے چھوڑ دے یا اس کو پیچھے چھوڑنے سے پہلے اس کو رکھ دیا جائے ۔
-
No. 2219
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ، ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا " .
ایوب ، عبیداللہ ، ابن عون اور ابن جریج سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ لیث بن سعد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ ابن جریج کی حدیث یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی جنازے کو دیکھے تو اگر وہ اس کے پیچھے ( ساتھ ) چلنے والا نہیں ۔ تو اس کو دیکھتے ہی کھڑا ہوجائے حتیٰ کہ وہ اس کو پیچھے چھوڑ جائے ۔
-
No. 2220
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً فَلاَ تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ " .
ابو صالح نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم کسی جنازے کے پیچھے ( ساتھ ) جاؤ تو نہ بیٹھو یہاں تک کہ اس کو رکھ دیا جائے ۔
-
No. 2221
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ، هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي، سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ " .
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازے کے پیچھے ( ساتھ ) جائے تو وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اس ( جنازے ) کو رکھ دیا جائے ۔
-
No. 2222
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ . فَقَالَ " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا " .
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے پھر ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تو ایک یہودی عو رت ( کا جنازہ ) ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " موت خوف اور گھبراہٹ ( کا باعث ) ہے ، پس جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۔
-
No. 2223
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ .
محمد بن رافع نےکہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ( نگاہوں سے ) اوجھل ہوگیا ۔
-
No. 2224
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ .
ابن جریج سے روایت ہے ‘ انہوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نےیہ خبر دی کہ انھوں نے حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ( نگاہوں سے ) اوجھل ہوگیا ۔