Afflictions and the End of the World
Source: Sahih al-Bukhari and Sahih Muslim: Arabic and Urdu editions as packaged in fawazahmed0/hadith-api (editions ara-bukhari, urd-bukhari, ara-muslim, urd-muslim); original works by Imam al-Bukhari and Imam Muslim, published by fawazahmed0/hadith-api (GitHub); translator and digitiser of each edition: Unknown. Version Git commit df57907be35291c91ad6a6691180e22ca9920784 (branch 1, 2026-06-03) (retrieved 2026-10-11). Arabic and Urdu text from the hadith-api project (github.com/fawazahmed0/hadith-api); the translator and the digitiser of each edition are not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
-
No. 7048
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَنَا عَلَى، حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَىَّ، فَيُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُونِي فَأَقُولُ أُمَّتِي. فَيَقُولُ لاَ تَدْرِي، مَشَوْا عَلَى الْقَهْقَرَى ". قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر ( حوض کوثر ) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔“ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں۔
-
No. 7049
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، لَيُرْفَعَنَّ إِلَىَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ حَتَّى إِذَا أَهْوَيْتُ لأُنَاوِلَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي فَأَقُولُ أَىْ رَبِّ أَصْحَابِي. يَقُولُ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے ابووائل کے غلام مغیرہ ابن مقسم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں ( حوض کا پانی ) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔“
-
No. 7050
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا فَرَطُكُمْ، عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَهُ شَرِبَ مِنْهُ، وَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، لَيَرِدُ عَلَىَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ".
No Urdu text for this number in the source.
-
No. 7051
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَنِي النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ، هَذَا فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلاً، فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فِيهِ قَالَ " إِنَّهُمْ مِنِّي. فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي ".
No Urdu text for this number in the source.
-
No. 7052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا". قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ”تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔“
-
No. 7053
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنِ الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے جعد صیرفی نے، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے ( خلیفہ ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“
-
No. 7054
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ، إِلاَّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے جعد ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء العطاردی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔“
-
No. 7056
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهْوَ مَرِيضٌ قُلْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ حَدِّثْ بِحَدِيثٍ، يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم. قَالَ دَعَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا، وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ، إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا، عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ.
No Urdu text for this number in the source.
-
No. 7057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي. قَالَ " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب ( خود اسید ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں عمرو بن العاص کو حاکم بنا دیا اور مجھے نہیں بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ انصاری میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔
-
No. 7058
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ " هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَىْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ". فَقَالَ مَرْوَانُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلاَنٍ وَبَنِي فُلاَنٍ لَفَعَلْتُ. فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مَلَكُوا بِالشَّأْمِ، فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا قَالَ لَنَا عَسَى هَؤُلاَءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ قُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔
-
No. 7059
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ ـ رضى الله عنهن ـ أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَاجُوجَ وَمَاجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً. قِيلَ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔
-
No. 7060
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ،. وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْد ٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ " هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى ". قَالُوا لاَ. قَالَ " فَإِنِّي لأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْقَطْرِ ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔
-
No. 7061
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ". قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّمَ هُوَ. قَالَ " الْقَتْلُ الْقَتْلُ ". وَقَالَ شُعَيْبٌ وَيُونُسُ وَاللَّيْثُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سوید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ قریب ہوتا جائے گا اور عمل کم ہوتا جائے گا اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونے لگیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی۔“ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! یہ «هرج» کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل! قتل!۔ اور یونس اور لیث اور زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
-
No. 7063
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى فَقَالاَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ لأَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ، وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ ".
No Urdu text for this number in the source.
-
No. 7064
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ، وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“
-
No. 7065
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ أَبُو مُوسَى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔
-
No. 7066
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْسِبُهُ، رَفَعَهُ قَالَ " بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ أَيَّامُ الْهَرْجِ، يَزُولُ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ فِيهَا الْجَهْلُ ". قَالَ أَبُو مُوسَى وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔
-
No. 7067
وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ تَعْلَمُ الأَيَّامَ الَّتِي ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ الْهَرْجِ. نَحْوَهُ. قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ ".
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔
-
No. 7068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ " اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لاَ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلاَّ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ ". سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ، ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی، انہوں نے کہا کہ صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہو گا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
-
No. 7069
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَزِعًا يَقُولُ " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْخَزَائِنِ وَمَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ـ يُرِيدُ أَزْوَاجَهُ ـ لِكَىْ يُصَلِّينَ، رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا، عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن عقیق نے، ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ہند بنت الحارث الفراسیہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اللہ کی ذات پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا خزانے نازل کئے ہیں اور کتنے فتنے اتارے ہیں ان حجرہ والیوں کو کوئی بیدار کیوں نہ کرے آپ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ بہت سے دنیا میں کپڑے باریک پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
-
No. 7070
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“
-
No. 7071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔“
-
No. 7072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلاَحِ، فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ ".
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن رافع) نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔“
-
No. 7073
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِعَمْرٍو يَا أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ". قَالَ نَعَمْ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے کہا ابو محمد! تم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب تیر لے کر مسجد میں سے گزرے تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیر کی نوک کا خیال رکھو۔ عمرو نے کہا جی ہاں میں نے سنا ہے۔
-
No. 7074
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ بِأَسْهُمٍ قَدْ أَبْدَى نُصُولَهَا، فَأُمِرَ أَنْ يَأْخُذَ بِنُصُولِهَا، لاَ يَخْدِشُ مُسْلِمًا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب مسجد میں تیر لے کر گزرے جن کے پھل باہر کو نکلے ہوئے تھے تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی نوک کا خیال رکھیں کہ وہ کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دیں۔